خلیل الرحمن اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خلیل الرحمٰن اعظمی اردو کے شاعر اور نقاد تھے۔ ان کی پیدائش سیدھاں،سلطانپور ضلع اعظم گڑھ میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کا نام مولانا محمد شفیع تھا۔

تعلیم[ترمیم]

1957ء میں خلیل الرحمن نے علیگڑھ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔

ملازمت[ترمیم]

خلیل الرحمٰن علیگڑھ یونی ورسٹی میں شعبہ اردو میں لیکچرار کے طور پر ملازمت اختیار کی تھی اور تاحیات اسی سے جڑے رہے۔

ترقی پسند تحریک[ترمیم]

خلیل الرحمٰن ترقی پسند مصنفین کی تحریک سے وابستہ تھے۔

قیدوبند[ترمیم]

اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے خلیل الرحمٰن 1949ء میں کچھ وقت کے لیے قید ہوئے تھے۔

مطبوعات[ترمیم]

  • کاغذی پیرہن (1953ء)
  • نیا عہدنامہ (1965ء)
  • فکروفن (1956ء)
  • اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک (1972ء)

ٰجدید غزل کا پیش رو[ترمیم]

خلیل الرحمن اعظمی (۱۹۲۷ء ۔۱۹۷۸ئ)جدید غزل کے بنیاد گزاروں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔انہوں نے جدید دور کے اضطراب کو اپنی غزلوں میں پیش کرکے شاعری میں داخلیت کے عناصر کو پھر سے اجاگر کیا۔خلیل الرحمن اعظمی کا شعری ذہن جس وقت نمو پذیر ہو رہا تھا وہ ترقی پسندی کا دور تھا ۔چنانچہ وہ بھی اس تحریک سے وابستہ ہو گئے ۔اس تحریک سے وابستگی کی خاص وجہ یہ تھی کہ اس کے ذریعے زندگی کی حقیقتوں کا انکشاف اور عظمت ِ انسانی اور اجتماعی آرزوئوں کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔لیکن رفتہ رفتہ اس تحریک میں شدت پسندی اور جمود کے اثرات دکھائی دینے لگے ،خلیل الرحمن اعظمی کا متحرک ذہن اس کو قبول نہیں کر سکا اور انہوںنے ادب میں پیدا ہونے والے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی ۔اپنے مجموعۂ کلام ’’نیا عہد نامہ ‘‘کے دیباچہ میں انہوںنے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان سے پتہ چلتا ہے کہ انہوںنے ترقی پسند تحریک سے بیزار ہوکر جدیدیت کے دامن میں پناہ لینے کا مصم ارادہ کر لیا تھا۔لکھتے ہیں:

اس طرح خلیل الرحمن اعظمی نے زماںو مکاںکی قید سے آزاد ہو کراپنے جذبات و خیالات پیش کئے۔خلیل الرحمن اعظمی کی غزل گوئی سے وابستگی کے پس ِپردہ وہ جذبہ کارفرما ہے جس نے بہت پہلے ان کی ذہنی تربیت کردی تھی۔چونکہ وہ ایک اچھے ناقد بھی تھے اور تنقید کے سلسلے میں انہوںنے کلاسیکی شعرا کا بغور مطالعہ کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی ابتدائی شاعری میں وہ سب کچھ موجود ہے جو روایتی اور کلاسیکی غزل کا خاصہ ہے۔لب و لہجہ میں سادگی،الفاظ میں رومانیت و جمالیات کا وفور ،محبوب کی جفائیں،نارسائی،وصل و فراق کے مزے اور تڑپ ، رقیبوں کی عداوت ،زمانے سے بے پروائی کا بیان ان کی غزلیات میں بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں[1]

انتقال[ترمیم]

خلیل الرحمٰن کا انتقال 1978ء میں ہوا تھا۔[2]


حوالہ جات[ترمیم]