خلیل بن احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خلیل بن احمد
(عربی میں: الخليل بن أحمد الفراهيديخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
فراهيدي.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 718[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بصرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 786 (67–68 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بصرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
نمایاں شاگرد ابراہیم النظام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف،شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عربی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
دلچسپی رمزنویسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابو عبدالرحمٰن خلیل ابن احمد الفراھیدی البصری (پیدائش 100ھ، وفات 170ھعلمِ عروض کے بانی اور ماہرِ لغت و موسیقی۔ آپ عمان میں پیدا ہوئے اور عجمی النسل تھے۔ مشہور عربی مورخ جارج زیدان نے لکھا کہ ہے آپ ایرانی شہزادوں کی نسل سے تھے اور ان کے جد کو شہنشاہِ ایران نے یمن بھیجا تھا[3]۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خلیل کے والد وہ پہلے شخص تھے جنہیں حضورِ اکرم (ص) کی وفات کے بعد پہلی بار "احمد" کہا گیا[3]۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بصرہ میں گزارا اور وہیں وفات پائی اور دفن ہوئے۔

علمِ عروض کے موجد[ترمیم]

خلیل بن احمد کو متفقہ طور پر علمِ عروض کا بانی اور موجد مانا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کا نام تاریخ میں زندہ و جاوید ہے۔ آپ کو علمِ موسیقی سے بھی کامل واقفیت حاصل تھی اور سنسکرت زبان سے بھی واقف تھے اور ان علوم سے فائدہ اٹھا کر آپ نے ایک نیا علم، علمِ عروض، وضع کیا جس میں کسی کلام یا شعر کے بارے میں یہ جانچا جاتا ہے کہ وہ وزن میں ہے یا نہیں۔ علمِ عروض کی بنیاد رکھتے ہوئے آپ نے پانچ دائرے اور پندرہ بحریں اختراع کیں جو آج بھی عربی، فارسی اور اردو شاعری میں استعمال ہوتی ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

آپ کی دو تصانیف کے حوالے ملتے ہیں[3]۔

  • "کتاب النغم" جو علمِ موسیقی میں تھی۔
  • "کتاب العین" جو علمِ لغت میں ہے اور عربی لغت کی پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14524149k — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14524149k — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 رموزِ شاعری از ڈاکٹر سید تقی عابدی، القمر، لاہور، 2003ء