خلیل بن احمد الفراہیدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(خلیل بن احمد سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
خلیل بن احمد الفراہیدی
(عربی میں: الخليل بن أحمد الفراهيدي ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الخليل بن أحمد الفراهيدي.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 718[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 نومبر 790 (71–72 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص نضر بن شمیل، ابراہیم النظام  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فرہنگ نویس، مصنف، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل رمزنویسی  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابو عبد الرحمٰن خلیل ابن احمد الفراھیدی البصری (پیدائش: 718ء— وفات: نومبر 790ء) علمِ عروض کے بانی اور ماہرِ لغت و موسیقی۔ آپ عمان میں پیدا ہوئے اور عجمی النسل تھے۔ مشہور عربی مورخ جارج زیدان نے لکھا کہ ہے آپ ایرانی شہزادوں کی نسل سے تھے اور ان کے جد کو شہنشاہِ ایران نے یمن بھیجا تھا[3]۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خلیل کے والد وہ پہلے شخص تھے جنہیں حضورِ اکرم (ص) کی وفات کے بعد پہلی بار "احمد" کہا گیا[3]۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بصرہ میں گزارا اور وہیں وفات پائی اور دفن ہوئے۔

علمِ عروض کے موجد[ترمیم]

خلیل بن احمد کو متفقہ طور پر علمِ عروض کا بانی اور موجد مانا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کا نام تاریخ میں زندہ و جاوید ہے۔ آپ کو علمِ موسیقی سے بھی کامل واقفیت حاصل تھی اور سنسکرت زبان سے بھی واقف تھے اور ان علوم سے فائدہ اٹھا کر آپ نے ایک نیا علم، علمِ عروض، وضع کیا جس میں کسی کلام یا شعر کے بارے میں یہ جانچا جاتا ہے کہ وہ وزن میں ہے یا نہیں۔ علمِ عروض کی بنیاد رکھتے ہوئے آپ نے پانچ دائرے اور پندرہ بحریں اختراع کیں جو آج بھی عربی، فارسی اور اردو شاعری میں استعمال ہوتی ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

آپ کی دو تصانیف کے حوالے ملتے ہیں[3]۔

  • "کتاب النغم" جو علمِ موسیقی میں تھی۔
  • "کتاب العین" جو علمِ لغت میں ہے اور عربی لغت کی پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14524149k — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14524149k — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب پ رموزِ شاعری از ڈاکٹر سید تقی عابدی، القمر، لاہور، 2003ء