خواب ہستی (ڈراما)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواب ہستی آغا حشر کاشمیری کا تحریر کردہ ڈراما ہے جو ولیم شیکسپیئر کے ڈرامے میک بیتھ پر مبنی ہے۔ یہ ڈراما سنہ 1909ء میں شائع ہوا۔ آغا حشر کاشمیری کے تقریباً سبھی ڈرامے پھسپھسے، ڈھیلے ڈھالے، خلاف فطرت و خلاف عقل واقعات اورغیر فنی مواد سے بھر ے پڑے ہیں۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں نقائص کم ہیں اور کہیں زیادہ۔ ایسا ڈراما شائد کوئی بھی نہیں جو فن ڈراما نگاری کے اصولوں پرمکمل طورپر پورا اترتا ہو۔ اور سچ تو یہ ہے کہ حشر نے ڈرامے، فن ڈراما کی آبیاری کی غرض سے نہیں لکھے۔ ڈراما نگاری سے ان کو طبعی مناسبت ضرور تھی لیکن اہم بات اور خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے اس قسم کے ڈارمے لکھے جوآغا حشر کے زمانے میں عوام پسند کرتے تھے اور ان کی کامیابی اور مقبولیت کا راز بھی اسی میں ہے کہ انہوں نے اپنے آ پ کو عوامی فنکار بنانا پسند کیا۔ انہوں نے اپنے مزاج اور عوام کی پسند کے ڈرامے لکھے جبکہ عوام بھی ہندوستان کے ایسے ان پڑھ اور نیم پڑھے لکھے جو صدیوں سے بھانڈوں، نقالوں اور نو ٹنکیوں کے کھیل تما شے دیکھنے کے عادی تھے۔ آغا حشر خود بھی ان ہی عوام کا ایک حصہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فن پر ہر جگہ عوامی نقطہ نظرکا بڑا گہرا پرتو ہے۔ ان کے فن نے آہستہ آہستہ عوام کی طرف سے خواص کی جانب قدم بڑھائے۔ لیکن وہ پھر بھی عوام کو بالکل فراموش نہ کر سکے۔ پروفیسر احتشام حسین نے آغا حشر کے فن کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے دور سے لے کر آخر ی دور تک اُن کے ہاں فنی طور پر ارتقاءملتا ہے۔ اور آخری دور پچھلے ادوار کے مقابلے میں فنی نقطہ نظر سے بہت خوبصورت اور بے مثال ہے۔ ڈراما خواب ہستی بھی اسی آخر ی دور کی یادگار ہے۔

خواب ہستی آغا حشر کا ایک منفرد ڈراما ہے یہ ایک نوجوان کی ذہنی کمزوری اور اس کی عیاشی اور بے پروائی کی کہانی ہے۔ جو بے ادب، گستاخ اور بدتمیز ہے۔ اپنے باپ سے بدتمیزی کرتا ہے اور اپنے ہی باپ کو قتل کر نے کے منصوبے باندھتا ہے۔ آغا حشر نے اس نازک موضوع کو بہت فنکارانہ انداز میں ڈرامے کی شکل میں بیان کیا ہے۔ اور اگر حقیقت کی بات کی جائے تو آغا حشر کی خواب ہستی کے علاوہ ان کے دیگر ڈراموں کے موضوعات بھی اعلیٰ درجے کے ہیں۔ اگرچہ خواب ہستی میں فنی خرابیاں ہیں لیکن جہاں اس بھی فنی خرابیاں زیادہ ہیں وہاں اس میں بہت سی فنی خوبیاں بھی ہیں جو آغا حشر کی فنی خرابیوں کو اپنے اندر چھپا دیتی ہیں۔ اور اگر عمیق نظر والا قاری نہ ہو تو عام قاری کو یہ نقائص اور خرابیاں نظر نہیں آتی۔

کردار نگاری[ترمیم]

ڈراما خواب ہستی میں، نواب اعظم (صولت کا باپ)، صولت(ہیرو) ،فضیحتا(نواب کا ملازم، صولت کا مشیر،ولن)، حسنا (ہیروئن)فیروز(حسنا کابھائی)، اسفند یار(فیروز کے گروہ کا سردار)، منوا(فضیحتا کا نوکر)، ہمراہی سپاہی، جمعدار، پجاری، گرو کے کردار ہیں۔ ان کرداروں میں مرکزی کردار نواب اعظم ،صولت، فضیحتا، فیروز، رضیہ، حسنا اور عباسی کے کردار ہیں۔ اسی طرح ضمنی کرداروں میں اسفندیار، منوا، عورت، سہیلیاں شانلہیں۔ خواب ہستی میں کردار نگاری کے اعلی نمونے پیش کیے گئے ہیں۔ اس ڈرامے میں سبھی کردار عام گوشت پوست کے انسان ہیں۔ ان میں کوئی مافوق الفطرت کردا ر نہیں۔ تمام کرداروں میں آپس میں تصادم اور ربط موجود ہے۔ یہاں پر چند ایک اہم کرداروں کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

نواب اعظم کا کردار[ترمیم]

نواب اعظم اس ڈرامے میں ایک اہم اور ضروری کردار ہے ان کی وصیت نامہ سے ساری کہانی کے تانے بانے بُنے جاتے ہیں۔ نواب اعظم ایک سمجھدار انسان ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کو راہ راست پر لانے لے لیے ہزار کوششیں کرتا ہی مگرا س کا بیٹا صولت ناہنجار اور نالائق ہے۔ اور جب ا س کا بیٹا اس کی بات نہیں مانتا تو وہ ساری دولت بھتیجی رضیہ کے نام کر دیتا ہے۔ اور جب وہ حسنا کو قتل ہونے سے بچاتا ہے تو عباسی کے ہاتھوں خود مارا جاتا ہے۔

صولت کاکردار[ترمیم]

صولت کا کردار ڈرامے میں شروع سے آخر تک ہے لیکن صولت جو نواب اعظم کا بیٹا ہے۔ ایک کمزور اور بے وقوف ہیرو جیسا کردار ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنے باپ کی نصیحتوں پر عمل کرتا اور اس کی ساری دولت سنبھالتا۔ لیکن وہ بے ادب، گستاخ اور ایک بدتمیزنوجوان ہے۔ جو عیش پرست اور ہوس پرست ہے۔ عورتوں سے عشق لڑاتا ہے۔ عباسی اس کی داشتہ ہے اور حسنا اس کی محبوبہ ہے۔ اتنا بے وقوف ہے کہ ایک مقام پر اپنی محبوبہ حسنا کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ اس میں وفانام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ جفا کار ہے اورحسنا جو اس پر دل و جان سے مرتی ہے۔ اس سے بے وفائی کرتا ہے۔ اور رضیہ سے صرف دولت حاصل کرنے کے لیے شادی پر رضامند ہوتا ہے۔ صولت کا کردار اس ڈرامے میں ایک مرکزی کردار ہے۔ لیکن یہ ایک مثالی ہیرو نہیں ہے۔ اتنا بے وقوف ہے کہ عباسی کے کہنے پراپنے باپ کو قتل کرنے پر رضا مند ہوتا جاتاہے۔ لیکن جب فیروز اس کو گرفتار کرکے جیل میں بند کر دیتا ہے۔ تو اس کا ہوش ٹھکانے آجاتا ہے۔ اور اپنی محبوبہ حسنا سے معافی مانگتا ہے اور پھر فیروز آخری سین میں اپنی بہن حسناکواس منسوب کر دیتا ہے

فضیحتا کا کردار[ترمیم]

اس ڈرامے میں سارا حسن اس کردار کے ذریعے سے پیدا ہوتا ہے۔ فضیحتا کا کردار ایک مرکزی کردار ہے اور ساری کہانی میں نمایاں کردار ہے۔ فضیحتا کا کردار اس ڈرامے میں ایک طرح سے ولن کا کردار ہے۔ جو چالباز دغہ باز، مکار، شیطان اور ایک لالچی انسان ہے۔ جسے صرف دولت سے پیار ہے۔ حتیٰ کہ اپنی بیوی کو بھی دولت کی خاطر پہچاننے سے انکار کر تا ہے۔ فضیحتا نواب اعظم کا ملازم ہے اور صولت کا مشیر ہے یہ صولت کی عادتیں بگاڑتا ہے۔ اور اس میں دولت سے محبت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ جگہ جگہ پر ڈرامے میں فضیحتا شیطانی حرکیتں کرتا رہتا ہے۔ جس سے ساری کہانی میں مزہ پیدا ہوتا ہے۔ بعض ایک جگہ فضیحتا کا کردار ایک قسم کے چارلی کا بھی ہے۔ اپنی حرکتوں سے کامیڈین معلوم ہوتا ہے۔ لیکن فضیحتا کو آخر میں اپنے جرموں کی سزا نہیں ملتی اس کو معاف کر دیا جاتا ہے۔ جس سے قاری ایک قسم کی تشنگی محسوس کرتا ہے۔ کیونکہ بدکار کا انجام بد تک پہنچانا ضروری ہے۔

حسنا کا کردار[ترمیم]

حسنا اس ڈرامے کی ہیروئن ہے۔ اور اس کا کردار ڈرامے میں شروع سے آخر تک کا ہے۔ حسنا کے والد نوا ب اعظم کے دوست ہیں اور نواب اعظم ہی دو سال کی عمر سے حسنا کی پرور ش کرتے ہیں۔ حسنا کاصحیح نام حسن افروز ہے۔ لیکن ساری کہانی میں حسنا کے نام سے پکاری جاتی ہے۔ حسنا صولت پر دل و جان سے مر مٹتی ہے اور اس سے بے پنا ہ محبت کرتی ہے۔ وہ اس کے لیے قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔ حتی کہ اپنے صولت کے لیے نواب اعظم کی خواب گاہ سے وصیت نامہ چرا لیتی ہے۔ وہ وفا شعار اور با وفا لڑکی ہوتی ہے۔ وہ بہادر بھی ہے اور نڈر بھی ہے۔ اس میں دولت کی لالچ نہیں ہے۔ وہ روپے پیسے کی بھوکی نہیں صرف محبت کی بھوکی ہے۔ صولت اس سے بہت زیادتی کرتا ہے۔ اور اس کو قتل کرنا چاہتا ہے مگر حسنا پھر بھی اس سے نفرت نہیں کرتی اور جب اس کا بھائی اس کے محبوب صولت کو قتل کرنا چاہتا ہے تو وہ خوبصورتی سے صولت کو بچا لیتی ہے۔ جس پر صولت اپنے کیے پر پشیمان ہوتا ہے اور حسنا بھی اسے آخر میں معاف کر دیتی ہے۔

عباسی کا کردار[ترمیم]

عباسی ایک بیوہ ہے۔ اس کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے اپنے شوہر کو زہر دیکر مار ڈالا تھا۔ صولت کی داشتہ اور مشیرہ ہے۔ یہ ایک آزاد پرست ذہن والی عورت ہے۔ اس کو بھی دولت سے پیار ہے۔ صولت کو اپنے دام میں پھانس لیتی ہے۔ اس کا کردارڈرامے کے وسط تک ہے۔ یہ ایک مکار اور چالاک عورت ہے۔ اور اس کی باتوں میں دانائی اور عقلمندی ہوتی ہے۔ وہ نواب اعظم کو خنجر سے قتل کر دیتی ہے۔ نواب اعظم کے قتل کے بعد وہ ایک نفسیاتی مریض بن جاتی ہے۔ اور اسے ہر جگہ اسے نواب اعظم کی روح دکھائی دیتی ہے۔ اور آخر کازہر کی شیشی اٹھا کر پیتی ہے۔ اور ایک خنجر سے اپنے آپ کو مار ڈالتی ہے اور اس طرح عباسی ڈرامے کے وسط میں اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہے۔

رضیہ کا کردار[ترمیم]

رضیہ کا کردار اس ڈرامے میں شروع سے آخر تک کا ہے۔ رضیہ نواب اعظم کی بھتیجی ہے۔ رضیہ ہی وہ کردار ہے جس کی وجہ سے اس ساری کہانی کا تانہ بانا بنا جاتا ہے۔ نواب اعظم اپنی ساری دولت اپنے وصیت نامے میں اس کے نام کر دیتا ہے۔ جس سے کہانی میں فراوانی پیدا ہوجاتی ہے۔ رضیہ صولت کو اپنا بھائی سمجھتی ہے۔ رضیہ، با حیا، شرمیلی اور وفا شعار لڑکی ہے۔ وہ پہلے تو کسی مرد سے محبت نہیں کرتی ہے۔ لیکن جب اس کی سہلیاں ڈالی اور بہار اس کے دل میں کسی مرد کے لیے جگہ پید ا کر دیتی ہیں تو پھررضیہ فیروز سے محبت کرنے لگتی ہے۔ اور آخر دم تک محبت کو نبھاتی ہے۔ یہ ڈرامے میں ایک قسم کی سائیڈ ہیروئن ہے۔

فیروز کا کردار[ترمیم]

فیروز کا کردار اس ڈرامے کے وسط سے شروع ہوتا ہے اور آخر تک چلا جاتا ہے۔ فیروز حسنا کا بھائی ہے۔ اپنے والد کے ساتھ جنگل میں پرورش پاتا ہے۔ جبکہ ڈرامے کا سائیڈ ہیرو ہے۔ فیروز صولت کے مقابلے میں زیادہ بہادر، جوانمرد، ہوشیار اور عقلمند ہے۔ وہ محبت کرتا ہے توپھر نبھاتا ہے۔ وہ صولت کی طرح ہوس پرست اور جنس پرست نہیں۔ وہ ایک نڈر اور بہادر نوجوان ہے۔ جو بہن کا بدلہ لینے کے شہر میں آتا ہے۔ اور صولت اور فضیحتا کو سزا دینا چاہتا ہے۔ فیرور صولت سے وصیت نامہ چھین کر رضیہ کو دے دیتا ہے۔ اس حرکت سے رضیہ فروز سے خوش ہو جاتی ہے اور اُسے اپنا دل دے بیٹھتی ہے۔ فیروز ہی وہ کردار ہے جو ڈرامے میں سارے بگاڑ کو سنوار دیتا ہے۔ یہ ایک جاندار اور کامیاب کردار ہے جو وسط سے آخر تک ڈرامے میں چھایا رہتا ہے۔

ڈالی اور بہار کے کردار[ترمیم]

ڈالی اور بہار اس ڈرامے کے ضمنی کرداروں میں شامل ہیں۔ لیکن ان کی اہمیت کو نہیں بھلایا جا سکتا۔ ڈالی اور بہار رضیہ کی سہیلیاں ہیں۔ ڈالی اور بہار بات بات پر رضیہ کو چھیڑتی ہیں اور اس سے پیار و محبت کی باتیں کرتی ہیں۔ ان کا کردار اس ڈرامے میں ایسا ہے جیسا میرحسن کی سحرالبیان میں نجم النساءکا۔ ڈالی اور بہار رضیہ کے دل میں فیروز کے لیے جگہ بناتی ہیں۔ اور رضیہ کو فیروز سے محبت کرنے پر اکساتی ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کرداروں کی تشکیل میں حشر نے تمام فنی لوازمات کا خیال رکھا ہے اور کچھ اچھے اور خوبصورت کرداروں کو منظر عام پرلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مکالمہ نگاری[ترمیم]

مکالمہ نگاری ڈارمے کی جان ہے۔ اور بحیثیت مجموعی خواب ہستی میں حشر کے دیگر ڈراموں سے اچھا مکالمہ موجود ہے۔ اگرچہ بعض جگہوں پر قافیہ، مسجع، مقفّٰی نثر کے ساتھ ساتھ منظومات بھی ہیں لیکن پورے ڈرامے میں نہایت ہی اعلیٰ درجے کا مکالمہ اور باہمی گفتگو موجود ہے جیسے ہم روزمرہ زندگی میں بات چیت اور بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ مثال کے لیے پہلے باب کے سین نمبر سات میں سے منوا، فضیحتا اور اس کی بیوی کے درمیان مکالمہ ملاحظہ ہو۔ یہ ایک دلچسپ گفتگو ہے اس گفتگو میں شعر نہیں، قافیہ اور ردیف نہیں، روزمرہ کی زبان ہے۔ اور عام بات چیت ہے۔ عورتوں کی زبا ن میں حسن ہے اور عورتوں کی مخصوص زبان فنکارانہ انداز سے استعمال کی گئی ہے جس میں بات بات پر برا بھلا اور بددعائیں ہیں۔

فضیحتا: گھسر پھسر تو نہیں کوئی مشورے کی بات کر رہے تھے
عورت: مشورہ بیوی سے کرتے ہیں یا خدمت گار، دو کوڑی کے پاجی کو یار غار بنائو گے تو خطا کھائو گے۔ جوتیاں مار کر نکالو ”موئے کتے کے منہ پر خاک ڈالو“
منوا: اری کٹ کھنی کتیا بھونکے جاتی ہے اور مجھے کتا بناتی ہے
عورت موئے حرام خور ،پاجی، شیطان، بے ایمان، ایڑی چوٹی پر تجھے کروں قربان، گھر جا اپنی اماں بہنوں کو ستا۔ ارے موئے مردود نکھٹوبھاڑے کے ٹٹوکھڑا
کھڑا سنتا ہے اور کچھ نہیں بولتا۔
اسی طرح سارے ڈرامے میں جابجا دلچسپ اور نہایت اعلی درجے کا مکالمہ پایا جاتا ہے۔ جو ہم آج کے ڈرامے میں دیکھتے ہیں۔

پلاٹ[ترمیم]

جہاں تک خواب ہستی کے پلاٹ کی بات ہے تو اس کا پلاٹ نہایت سادہ اور واقعات کے حسن ترتیب سے مزین ہے۔ تقریباً تمام واقعات میں ایک منطقی ربط پایا جاتا ہے۔ جس سے ڈرامے کی کہانی، دلکش، دلچسپ اور تجسّس آمیز بن گئی ہے۔ ڈرامے میں ابتداءہی سے دلچسپی اور تجسّس کے عناصر پیدا ہو جاتے ہیں۔ یعنی صولت کی اپنے والد سے بدتمیزی، گستاخی اور تمام دولت اپنی بھتیجی رضیہ کے نام کر دینا اور پھر وصیت نامے کا مختلف لوگوں کے ہاتھوں میں پھرنا۔ جہاں یہ کہانی سسپنس اور دلکش ہے وہاں ایک محبت بھری کہانی بھی ہے۔ اس ڈرامے میں ڈاکہ، چوری، قتل بھی ہے اور مزاح کی شگفتگی بھی ہے۔ اس ڈرامے میں حرکت کی فراوانی موجود ہے اور کرداروں کا آپس میں تصادم بھی پایا جاتا ہے جو ایک فنکارانہ صلاحیت ہے۔

اسلوب[ترمیم]

خواب ہستی میں بھی اس دور کے مروجہ ڈراموں کی طرح گانوں کی بھر مار ہے۔ اکثر مکالمے منظوم ہیں اشعار بھی کافی کثرت سے استعمال ہوئے ہیں اور جو نثر استعمال ہوئی ہے وہ مسجع اور مقفٰی ہے۔ لیکن اس سے آغا حشر کے اس ڈرامے پر کوئی حرف نہیں آتا۔ کیونکہ اس وقت تمام ڈرامے منظوم ہوتے تھے۔ اور اس وقت نثر میں گفتگو بہت کم ہوتی تھی اور یہ کہ یہ وقت کا تقاضا بھی تھا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ آغا حشر کے ڈراموں کی مقبولیت کی ایک وجہ بھی تھی۔ آغا حشر کی نثر میں حرف ”س“ کی تکرار سے کسی قدر خوبصورتی اور شگفتگی پیدا ہو گئی ہے۔

دوسرا: ملک؟
فضیحتا: مدراس
تیسرا: بال بچے؟
فضیحتا: اُنچاس
تیسرا: یعنی؟
فضیحتا: ایک کم پچاس
پہلا: او باپ رے اس کی جورو ہے یا بچوں والی مرغی۔

خامیاں[ترمیم]

ڈرامے میں چند خامیاں بھی موجود ہیں جسے اچانک کسی کردار کا درمیان میں بغیر کسی مقصد کے وارد ہوجانا اس کے علاوہ فضیحتا کا برا انجام نہ ہونا لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کے تماش بین سادہ اور ان پڑھ تھے اور ڈراما یا تھیٹر کا مقصد صرف تفریح فراہم کرنا تھا اور ڈراموں کے کچھ اصول قاعدے بھی پورے طرح نہیں بن پائے تھے۔ لہٰذا اس وقت کے ناظرین کے لیے یہ قابل قبول تھا۔ اس کے علاوہ ناظرین ڈرامے میں ناچ گانے، پھکڑ بازی، لطیفہ گوئی کے رسیا تھے۔ ان کو فنکار کی کمزوریوں سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ اگر ناظرین فنکار کی فنی کمزوری اور نقائص کو پکڑتے اور اس پر رائے زنی کرتے تو آغا حشر چند ایک ابتدائی ڈرامے لکھنے کے بعد اپنی کمزوریاں محسوس کر لیتے اور بہت جلد اصلاح کر لیتے۔ لیکن خواب ہستی میں خامیوں کی بجائے خوبیاں زیادہ ہیں جو اس کی خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔
مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو ڈراما خواب ہستی آغا حشر کاشمیری کا تیسرے دور کا ڈراما ہے۔ یہ دور آغا حشر کے طرز نگارش کا ترقی یافتہ دور ہے۔ اس میں فنی لوازم اور اسلوب بیان کے علاوہ پلاٹ اور ہیئت میں بھی ترقی و تبدیلی پیداہونے لگی تھی۔ اس دور میں لکھے جانے والے کم و بیش سبھی ڈراموں میں جدت اور انفرادیت کی نئی راہیں ملتی ہیں۔ ایک ہی قسم کے گھسے پٹے موضوعات پر لکھنے کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور ان سب میں نمائندہ ڈراما خواب ہستی ہے۔

فکری جائزہ[ترمیم]

فکری حوالے سے اگر دیکھا جائے تو اس میں اچھائی اور برائی کے درمیان ازل سے جاری کشمکش دکھائی گئی ہے۔ جس میں جیت سچائی کی ہوتی ہے۔ صولت ایک ایسا ناہنجار بیٹا ہے جو فضیحتاکے کہنے میں آکر اخلاقی برائیوں کا شکار ہو جاتا ہے جب اُس کا باپ اسے روکتا ہے تو وہ باپ کی نافرمانی پر اتر آتا ہے۔ اور جب وہ ان عادتوں کو ترک نہیں کرتا تو اُس کا باپ اپنی ساری جائیدا رضیہ کے نام کر دیتے ہیں۔ جس کے بعد ایک کشمکش جاری ہو جاتی ہے۔ اور صولت ہر طریقے سے اپنی جائے داد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کھیل میں اس کا اپنا باپ مارا جاتا ہے لیکن اُس کی دولت کی ہوس ختم نہیں ہوتی مصنف یہ بھی دکھایا ہے کہ دولت کی ہوس انسان کو اندھا کردیتی ہے۔ اور صولت کو حسنا کی محبت بھی نہیں دکھائی دیتی اور اُس کومارنے کے درپے رہتا ہے۔

مصنف نے اس کہانی کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ محبت کے راستے میں جو لوگ ثابت قدم رہتے ہیں انھیں کامیابی ضرور ملتی ہے۔ حسنا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ صولت سے محبت کرتی ہے۔ وہ ہر طرح کی تکالیف برداشت کرتی ہے۔ اُس کی جان خطرے میں ہوتی ہے لیکن وہ محبت سے دستبردار نہیں ہوتی اور آخر کار صولت کو راہ راست پر لا کر محبت کی منزل پا لیتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مصنف یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان کا قتل کرنا خود اپنے آپ کو قتل کرنے کے مترداف ہے عباسی نواب اعظم کو قتل کردیتی ہے اور پھر اس کے بعد نفسیاتی مریض بن جاتی ہے۔ اُسے ہر جگہ نواب اعظم کی روح نظرآتی ہے۔ وہ بار بار اپنے ہاتھوں کو دھوتی ہے جس پر اُسے خون کے دھبے نظرآتے ہیں اور آخر کار نفسیاتی دبائو کا شکار ہو کر خود کشی کر لیتی ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی کو قتل کرنا اپنے آپ کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔