مندرجات کا رخ کریں

خواتین کرکٹ عالمی کپ، 1978ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
خواتین کرکٹ عالمی کپ، 1978ء
تاریخ1 – 13 جنوری 1978
منتظمآغی ڈبلیو سی سی
کرکٹ طرزخواتین ایک روزہ بین الاقوامی (محدود اوور کرکٹ)
ٹورنامنٹ طرزراؤنڈ روبن ٹورنامنٹ
میزبان بھارت
فاتح آسٹریلیا (پہلی بار)
رنر اپ انگلستان
شریک ٹیمیں4
کل مقابلے6
کثیر رنزآسٹریلیا کا پرچم مارگریٹ جیننگز (127)
کثیر وکٹیںآسٹریلیا کا پرچم شیرن ہل (7)
→ 1973
1982 ←

خواتین کرکٹ عالمی کپ، 1978ء خواتین کا بین الاقوامی ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ تھا جو بھارت میں 1 تا 13 جنوری 1978ء کو منعقد ہوا۔ بھارت نے خواتین عالمی کپ کی پہلی بار میزبانی کی، یہ خواتین کرکٹ عالمی کپ کا دوسرا مرحلہ تھا، پہلی بار خواتین کرکٹ عالمی کپ، 1973ء میں، انگلینڈ میں منعقد ہوا تھا۔

پہلے یہ طے کیا گيا تھا کہ اس کی میزبانی جنوبی افریقا کرے گا، لیکن ملک میں کھیلنے کے بائیکاٹ کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ تو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے پھر ایک کامیاب بولی لگائی اور بنیادی منتظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، بین الاقوامی خواتین کرکٹ کونسل کے جس نے صرف محدود نگرانی فراہم کرنا تھی۔[1] بھارت کی ٹیم پہلی بار عالمی کپ میں شرکت کر رہی تھی، پانچ دیگر ٹیموں کو مدعو کیا گیا تھا – جس میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز شامل تھیں۔ ہالینڈ اور ویسٹ انڈیز، جنھوں نے پہلے دونوں حصہ نہیں لیا تھا، مالی مسائل کی وجہ سے دستبرداری پر مجبور ہو گئے تھے۔[2][3] یوں صرف 4 ٹیموں نے حصہ لیا (جو خواتین کرکٹ عالمی کپ میں ٹیموں کی اب تک کی سب سے کم شرکت ہے) یہ راؤنڈ روبن ٹورنامنٹ تھا جس میں پر ٹیم نے 3 میچ پہلے مرحلے میں کھیلے، آسٹریلیا ٹیم اپنے فتح کو برقرار نہ رکھ سکی، بھارت نے عالمی کپ خواتین پہلی بار جیت لیا۔[4][5]

دستے

[ترمیم]

معلومات صرف ان کھلاڑیوں کے لیے دستیاب ہیں جنھوں نے ٹورنامنٹ میں کم از کم ایک میچ کھیلا۔

 آسٹریلیا[6]  انگلستان[7]  بھارت[8]  نیوزی لینڈ[9]

میدان

[ترمیم]

گروپ اسٹیج

[ترمیم]

پوائنٹس ٹیبل

[ترمیم]
Pos ٹیم کھیلے جیتے ہارے برابر بلانتیجہ پوائنٹس رن ریٹ
1  آسٹریلیا 3 3 0 0 0 6 3.264
2  انگلستان 3 2 1 0 0 4 2.657
3  نیوزی لینڈ 3 1 2 0 0 2 2.777
4  بھارت 3 0 3 0 0 0 1.988
Updated to match(es) played on مکمل. Source: کرک انفوکرکٹ آرکائیو
  • نوٹ: رن ریٹ کو ٹائی بریکر کے طور پر استعمال کیا جانا تھا جب ٹیمیں مساوی تعداد میں پوائنٹس حاصل کرتی تھیں، بجائے کہ نیٹ رن ریٹ (جیسا کہ اب عام ہے).[10]


میچز

[ترمیم]

نیوزی لینڈ بمقابلہ آسٹریلیا

[ترمیم]
1 جنوری
سکور کارڈ
آسٹریلیا 
177 (49.2 اوورز)
ب
 نیوزی لینڈ
111/8 (50 اوورز)
وینڈی ہلز 64
باربرا بیوج 3/17 (9.2 اوورز)
آسٹریلیا 66 رنز سے جیت گیا۔
کینان اسٹیڈیم، جمشید پور، بہار (اب جھارکھنڈ)
امپائر: کے وی کے راؤ (بھارت) اور سکھا بوس (بھارت)

بھارت بمقابلہ انگلینڈ

[ترمیم]
1 جنوری
سکور کارڈ
بھارت 
63 (39.3 اوورز)
ب
 انگلستان
65/1 (30.2 اوورز)
انگلینڈ 9 وکٹوں سے جیت گیا۔
ایڈن گارڈنز، کلکتہ، مغربی بنگال
امپائر: بھیراب گنگولی (بھارت) اور سکھا بوس (بھارت)

نیوزی لینڈ بمقابلہ بھارت

[ترمیم]
5 جنوری
سکور کارڈ
بھارت 
130/9 (50 اوورز)
ب
 نیوزی لینڈ
131/1 (44 اوورز)
اجوالا نکم 31*
لنڈا لنڈسے 2/26 (10 اوورز)
پیٹ کیرک 2/26 (9 اوورز)
نیوزی لینڈ 9 وکٹوں سے جیت گیا۔
معین الحق اسٹیڈیم، پٹنہ، بہار

بھارت بمقابلہ آسٹریلیا

[ترمیم]
8 جنوری
سکور کارڈ
آسٹریلیا 
150/8 (50 اوورز)
ب
 بھارت
79 (47.2 اوورز)
آسٹریلیا 71 رنز سے جیت گیا۔
معین الحق اسٹیڈیم، پٹنہ، بہار
امپائر: کے وی کے راؤ (بھارت) اور سکھا بوس (بھارت)
  • بھارت نے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کیا۔.
  • راجیشوری ڈھولکیا (بھارت) نے ایک روزہ بین الاقوامی میں ڈیبیو کیا۔

نیوزی لینڈ بمقابلہ انگلینڈ

[ترمیم]
8 جنوری
سکور کارڈ
نیوزی لینڈ 
157 (49.4 اوورز)
ب
 انگلستان
160/3 (40.3 اوورز)
لین تھامس 47
سو رترے 2/33 (6 اوورز)
  • انگلینڈ نے ٹاس جیت کر باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔.
  • کیرن ہیڈلی (نیوزی لینڈ ) نے ایک روزہ بین الاقوامی ڈیبیو کیا۔

انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا

[ترمیم]

آسٹریلیا اور انگلینڈ دونوں ہی ٹورنامنٹ کے آخری میچ میں ناقابل شکست رہے، جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ ایک ڈی فیکٹو فائنل کے طور پر تھا

13 جنوری
سکور کارڈ
انگلستان 
96/8 (50 اوورز)
ب
 آسٹریلیا
100/2 (31.3 اوورز)
آسٹریلیا 8 وکٹوں سے جیت گیا۔
لال بہادرشاستری اسٹیڈیم، حیدرآباد، آندھرا پردیش (اب تلنگانہ)
امپائر: ایس اے سوامیناتھن (بھارت) اوروی کے رامسوامی (بھارت)
  • آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بالنگ کا فیصلہ کیا۔.

شماریات

[ترمیم]

زیادہ رن

[ترمیم]

اس جدول میں پانچ سب سے زیادہ رن بنانے والے شامل ہیں، یہ درجہ بندی حاصل رن اور رنز کی اوسط کے مطابق ہے۔

کھلاڑیٹیمرناننگاوسطہائی ایس100s50s
مارگریٹ جیننگز آسٹریلیا127363.5057*01
باربرا بیوج نیوزی لینڈ126363.0067*02
لین تھامس انگلستان109354.504700
شیرون ٹریڈریا آسٹریلیا87243.505601
وینڈی ہلز آسٹریلیا66322.006401

ماخذ: کرکٹ آرکیو

سب سے زیادہ وکٹیں

[ترمیم]

اس جدول میں پانچ ووکٹیں یا اس سے زیادہ لینے والے شامل ہیں، یہ درجہ بندی حاصل کردہ ووکٹوں اور بولنگ کی اوسط کے مطابق ہے۔

کھلاڑیٹیماوورووکٹاوطسایس آراکانومیبی بی آئی
شیرن ہل آسٹریلیا30.077.5725.711.763/16
شیرون ٹریڈریا آسٹریلیا25.067.0025.001.684/25
پیٹ کیرک نیوزی لینڈ29.0617.6629.003.653/43
گلینس ہلہ انگلستان21.156.8025.401.602/2
پیٹا ورکو آسٹریلیا23.057.4027.601.603/9

ماخذ: کرکٹ آرکائیو[مردہ ربط]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ Philippa Velija (2015)۔ Women's Cricket and Global Processes: The Emergence and Development of Women's Cricket as a Global Game۔ Palgrave Macmillan۔ ص 99۔ ISBN:978-1-137-32353-8
  2. ↑ Abhishek Mukherjee (15 جنوری 2014)۔ "Australia Women lift 1978 World Cup — the tournament which was almost called off" آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ cricketcountry.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) – CricketCountry. Retrieved 30 اگست 2015.
  3. ↑ "Quick, quick Snow"۔ ESPN Cricinfo۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-16
  4. ↑ Women's World Cup 1977/78 (ordered by runs) – CricketArchive. Retrieved 30 اگست 2015.
  5. ↑ Women's World Cup 1977/78 (ordered by wickets) – CricketArchive. Retrieved 30 اگست 2015.
  6. ↑ Batting and fielding for Australia women, Women's World Cup 1977/78 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
  7. ↑ Batting and fielding for England women, Women's World Cup 1977/78 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
  8. ↑ Batting and fielding for India women, Women's World Cup 1977/78 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
  9. ↑ Batting and fielding for New Zealand women, Women's World Cup 1977/78 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
  10. ↑ Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 table – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.