خواتین کرکٹ عالمی کپ، 1978ء
| تاریخ | 1 – 13 جنوری 1978 |
|---|---|
| منتظم | آغی ڈبلیو سی سی |
| کرکٹ طرز | خواتین ایک روزہ بین الاقوامی (محدود اوور کرکٹ) |
| ٹورنامنٹ طرز | راؤنڈ روبن ٹورنامنٹ |
| میزبان | |
| فاتح | |
| رنر اپ | |
| شریک ٹیمیں | 4 |
| کل مقابلے | 6 |
| کثیر رنز | |
| کثیر وکٹیں | |
خواتین کرکٹ عالمی کپ، 1978ء خواتین کا بین الاقوامی ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ تھا جو بھارت میں 1 تا 13 جنوری 1978ء کو منعقد ہوا۔ بھارت نے خواتین عالمی کپ کی پہلی بار میزبانی کی، یہ خواتین کرکٹ عالمی کپ کا دوسرا مرحلہ تھا، پہلی بار خواتین کرکٹ عالمی کپ، 1973ء میں، انگلینڈ میں منعقد ہوا تھا۔
پہلے یہ طے کیا گيا تھا کہ اس کی میزبانی جنوبی افریقا کرے گا، لیکن ملک میں کھیلنے کے بائیکاٹ کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ تو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے پھر ایک کامیاب بولی لگائی اور بنیادی منتظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، بین الاقوامی خواتین کرکٹ کونسل کے جس نے صرف محدود نگرانی فراہم کرنا تھی۔[1] بھارت کی ٹیم پہلی بار عالمی کپ میں شرکت کر رہی تھی، پانچ دیگر ٹیموں کو مدعو کیا گیا تھا – جس میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز شامل تھیں۔ ہالینڈ اور ویسٹ انڈیز، جنھوں نے پہلے دونوں حصہ نہیں لیا تھا، مالی مسائل کی وجہ سے دستبرداری پر مجبور ہو گئے تھے۔[2][3] یوں صرف 4 ٹیموں نے حصہ لیا (جو خواتین کرکٹ عالمی کپ میں ٹیموں کی اب تک کی سب سے کم شرکت ہے) یہ راؤنڈ روبن ٹورنامنٹ تھا جس میں پر ٹیم نے 3 میچ پہلے مرحلے میں کھیلے، آسٹریلیا ٹیم اپنے فتح کو برقرار نہ رکھ سکی، بھارت نے عالمی کپ خواتین پہلی بار جیت لیا۔[4][5]
دستے
[ترمیم]معلومات صرف ان کھلاڑیوں کے لیے دستیاب ہیں جنھوں نے ٹورنامنٹ میں کم از کم ایک میچ کھیلا۔
میدان
[ترمیم]- ایڈن گارڈنز، کولکاتا – ایک میچ
- کینان اسٹیڈیم، جمشید پور – ایک میچ
- لال بہادر شاستری اسٹیڈیم، حیدرآباد، دکن – دو میچ
- معین الحق اسٹیڈیم، پٹنہ – دو میچ
گروپ اسٹیج
[ترمیم]پوائنٹس ٹیبل
[ترمیم]| Pos | ٹیم | کھیلے | جیتے | ہارے | برابر | بلانتیجہ | پوائنٹس | رن ریٹ |
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | 3 | 3 | 0 | 0 | 0 | 6 | 3.264 | |
| 2 | 3 | 2 | 1 | 0 | 0 | 4 | 2.657 | |
| 3 | 3 | 1 | 2 | 0 | 0 | 2 | 2.777 | |
| 4 | 3 | 0 | 3 | 0 | 0 | 0 | 1.988 |
- نوٹ: رن ریٹ کو ٹائی بریکر کے طور پر استعمال کیا جانا تھا جب ٹیمیں مساوی تعداد میں پوائنٹس حاصل کرتی تھیں، بجائے کہ نیٹ رن ریٹ (جیسا کہ اب عام ہے).[10]
میچز
[ترمیم]نیوزی لینڈ بمقابلہ آسٹریلیا
[ترمیم] 1 جنوری سکور کارڈ |
ب |
||
- آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔.
- پیٹا ورکو، شیرن ہل (آسٹریلیا )، چیرل ہینشل ووڈ، ایڈنا ریان، پیٹ کیرک، شیری ہیرس , وکی برٹ اور ویوسٹیفنز (نیوزی لینڈ ) سب نے ایک روزہ بین الاقوامی ڈیبیو کیا۔
بھارت بمقابلہ انگلینڈ
[ترمیم] 1 جنوری سکور کارڈ |
ب |
||
- انگلینڈ نے ٹاس جیت کر باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔.
- انجلی شرما، ڈیانا ایڈلجی، فوزیہ خلیلی، گارگی بینرجی، کلپن پاروپکاری، لوپامودرا بھٹاچرجی، نیلیما جوگلکر، رونا بھاسو، سندھیا مازمدار، شرمیلا چکرورتی، شوبھا پنڈت (بھارت) اور کیتھرین مواٹ (انجینئر) سبھی نے ایک روزہ بین الاقوامی ڈیبیو کیا۔ .
نیوزی لینڈ بمقابلہ بھارت
[ترمیم] 5 جنوری سکور کارڈ |
ب |
||
- بھارت نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔.
- شوبھانگی کلکرنی، سدھا شاہ، سوسان اتیچیریا، اجوالا نکم (بھارت) اور لنڈا لنڈسے (نیوزی لینڈ) سبھی نے ایک روزہ بین الاقوامی ڈیبیو کیا۔.
بھارت بمقابلہ آسٹریلیا
[ترمیم] 8 جنوری سکور کارڈ |
ب |
||
- بھارت نے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کیا۔.
- راجیشوری ڈھولکیا (بھارت) نے ایک روزہ بین الاقوامی میں ڈیبیو کیا۔
نیوزی لینڈ بمقابلہ انگلینڈ
[ترمیم] 8 جنوری سکور کارڈ |
ب |
||
- انگلینڈ نے ٹاس جیت کر باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔.
- کیرن ہیڈلی (نیوزی لینڈ ) نے ایک روزہ بین الاقوامی ڈیبیو کیا۔
انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا
[ترمیم]آسٹریلیا اور انگلینڈ دونوں ہی ٹورنامنٹ کے آخری میچ میں ناقابل شکست رہے، جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ ایک ڈی فیکٹو فائنل کے طور پر تھا
شماریات
[ترمیم]زیادہ رن
[ترمیم]اس جدول میں پانچ سب سے زیادہ رن بنانے والے شامل ہیں، یہ درجہ بندی حاصل رن اور رنز کی اوسط کے مطابق ہے۔
| کھلاڑی | ٹیم | رن | اننگ | اوسط | ہائی ایس | 100s | 50s |
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| مارگریٹ جیننگز | 127 | 3 | 63.50 | 57* | 0 | 1 | |
| باربرا بیوج | 126 | 3 | 63.00 | 67* | 0 | 2 | |
| لین تھامس | 109 | 3 | 54.50 | 47 | 0 | 0 | |
| شیرون ٹریڈریا | 87 | 2 | 43.50 | 56 | 0 | 1 | |
| وینڈی ہلز | 66 | 3 | 22.00 | 64 | 0 | 1 | |
ماخذ: کرکٹ آرکیو
سب سے زیادہ وکٹیں
[ترمیم]اس جدول میں پانچ ووکٹیں یا اس سے زیادہ لینے والے شامل ہیں، یہ درجہ بندی حاصل کردہ ووکٹوں اور بولنگ کی اوسط کے مطابق ہے۔
| کھلاڑی | ٹیم | اوور | ووکٹ | اوطس | ایس آر | اکانومی | بی بی آئی |
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| شیرن ہل | 30.0 | 7 | 7.57 | 25.71 | 1.76 | 3/16 | |
| شیرون ٹریڈریا | 25.0 | 6 | 7.00 | 25.00 | 1.68 | 4/25 | |
| پیٹ کیرک | 29.0 | 6 | 17.66 | 29.00 | 3.65 | 3/43 | |
| گلینس ہلہ | 21.1 | 5 | 6.80 | 25.40 | 1.60 | 2/2 | |
| پیٹا ورکو | 23.0 | 5 | 7.40 | 27.60 | 1.60 | 3/9 | |
ماخذ: کرکٹ آرکائیو[مردہ ربط]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Philippa Velija (2015)۔ Women's Cricket and Global Processes: The Emergence and Development of Women's Cricket as a Global Game۔ Palgrave Macmillan۔ ص 99۔ ISBN:978-1-137-32353-8
- ↑ Abhishek Mukherjee (15 جنوری 2014)۔ "Australia Women lift 1978 World Cup — the tournament which was almost called off" آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ cricketcountry.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) – CricketCountry. Retrieved 30 اگست 2015.
- ↑ "Quick, quick Snow"۔ ESPN Cricinfo۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-16
- ↑ Women's World Cup 1977/78 (ordered by runs) – CricketArchive. Retrieved 30 اگست 2015.
- ↑ Women's World Cup 1977/78 (ordered by wickets) – CricketArchive. Retrieved 30 اگست 2015.
- ↑ Batting and fielding for Australia women, Women's World Cup 1977/78 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
- ↑ Batting and fielding for England women, Women's World Cup 1977/78 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
- ↑ Batting and fielding for India women, Women's World Cup 1977/78 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
- ↑ Batting and fielding for New Zealand women, Women's World Cup 1977/78 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
- ↑ Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 table – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.