خواتین کرکٹ عالمی کپ، 1988ء
| تاریخ | 29 نومبر – 18 دسمبر 1988 |
|---|---|
| منتظم | بین الاقوامی خواتین کرکٹ کونسل |
| کرکٹ طرز | خواتین ایک روزہ بین الاقوامی (محدود اوور کرکٹ) |
| ٹورنامنٹ طرز | ڈبل راؤنڈ روبن ٹورنامنٹ پلے آف |
| میزبان | |
| فاتح | |
| رنر اپ | |
| شریک ٹیمیں | 5 |
| کل مقابلے | 22 |
| بہترین کھلاڑی | |
| کثیر رنز | |
| کثیر وکٹیں | |
خواتین کرکٹ عالمی کپ، 1988ء 29 نومبر سے 18 دسمبر 1988ء تک آسٹریلیا میں کھیلا جانے والا ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹ تھا۔آسٹریلیا نے پہلی بار خواتین کرکٹ عالمی کپ کی میزبانی کی، یہ خواتین کرکٹ عالمی کپ کا چوتھا ایڈیشن تھا اور گذشتہ نیوزی لینڈ میں ہونے والے 1982ء کے عالمی کپ کے چھ سال بعد منعقد ہوا۔
ٹورنامنٹ کا انتظام بین الاقوامی خواتین کرکٹ کونسل نے کیا تھا، یہ ٹورنامنٹ میچ 60 اوور پر کے میچوں پر مشتمل تھا۔ آسٹریلیا تیسری بار عالمی کپ جیتا، فائنل میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 8 ووکٹوں سے شکست دی۔ نیوزی لینڈ نے آئرلینڈ کو70 زنز سے شکست دے کر تیسری پوزیشن لی۔ نیدرلینڈز ٹورنامنٹ کی واحد ٹیم تھی جس نے کوئی میچ نہیں جیتا اور چھٹے نمبر پر رہی۔ آئرلینڈ اور نیدرلینڈز دونوں پہلی بار عالمی کپ میں شریک ہوئی تھیں۔ بھارت ٹیم پچھلے دو عالمی کپ مقابلوں کی طرح اس بار بھی دعوت دی گئی تھی، لیکن مالی تعاون نہ ہونے کی وجہ سے وہ شامل نہ ہو سکی۔[1] دو آسٹریلیائی، لنڈسے ریلر اور لین فلسٹن نے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز اور ووکٹیں لیں۔[2][3]
- نوٹ: نیوزی لینڈ کی نینسی ولیمز ابتدائی میچ میں سے کندھے میں چوٹ آنے سے الگ ہو گئیں اور ان کی جگہ کیتھرین کیمبل کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ [4]
دستے
[ترمیم]کوچ: نول مہونی |
کوچ: ڈیل ہیڈلی[10] | |||
|---|---|---|---|---|
- نوٹ: نیوزی لینڈ کی نینسی ولیمز نے ابتدائی میچ میں سے ایک میں اپنا کندھا منقطع کر دیا اور اس کی جگہ کیتھرین کیمبل کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔.[11]
میدان
[ترمیم]- ولیٹن اسپورٹس کلب، پرتھ – 4 میچ
- نارتھ سڈنی اوول، سڈنی – 5 میچ
- مانوکا اوول، کینبرا – 1 میچ
- کیری بیپٹسٹ گرامر اسکول، ملبورن – 7 میچ
- البرٹ کرکٹ گراؤنڈ، ملبورن – 2 میچ
- رچمنڈ کرکٹ گراؤنڈ، ملبورن – 2 میچ، بشمول تیری پوڑیشن کا میچ
- ملبورن کرکٹ گراؤنڈ، ملبورن – 1 میچ (فائنل)
وارم اپ میچ
[ترمیم]آسٹریلیائی ریاست اور دعوت نامہ ٹیموں کے خلاف کم از کم پانچ وارم اپ میچ کھیلے گئے، جو پورے ٹورنامنٹ میں ہی گھیرے میں آ گئے۔ [12]
گروپ اسٹیج
[ترمیم]پوائنٹس ٹیبل
[ترمیم]| ٹیم | کھیلے | ج | ہ | ب | بنا نتیجہ | پوائنٹس | رن ریٹ |
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| 8 | 7 | 1 | 0 | 0 | 28 | 3.630 | |
| 8 | 6 | 2 | 0 | 0 | 24 | 3.097 | |
| 8 | 5 | 3 | 0 | 0 | 20 | 3.418 | |
| 8 | 2 | 6 | 0 | 0 | 8 | 1.965 | |
| 8 | 0 | 8 | 0 | 0 | 0 | 1.695 | |
| ماخذ: کرکٹ آرچیو | |||||||
میچ
[ترمیم]میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں منعقدہ فائنل ریڈیو اور اے بی سی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا گیا۔ [13]
میچ
[ترمیم] 11 دسمبر
اسکور کارڈ |
ب
|
||
- انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی
- آسٹریلیا ٹورنامنٹ کا یہ واحد میچ تھا، جو ہارا۔
فائنلز
[ترمیم]تیسری پوزیشن کا پلے آف
[ترمیم]فائنل
[ترمیم]میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ہونے والے فائنل کو ریڈیو اور اے بی سی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا گیا۔ اس میں تقریباً 3,000 لوگوں نے شرکت کی، حالانکہ اس وقت گراؤنڈ کی گنجائش 90,000 سے زیادہ تھی۔ اس میچ میں انگلینڈ کی طرف سے کھیلنے والی جینیٹ برٹن نے بعد میں اس مقام کو "دیوار سے دیوار تک بیٹھنے کی جگہ کے طور پر بیان کیا جس میں کوئی نہیں بیٹھا تھا"، جس سے یہ "بہت بڑی اور بہت تنہا جگہ" بنا۔ 1949 کے بعد سے وہاں خواتین کی کرکٹ نہیں کھیلی گئی۔[14]
سب سے زیادہ رنز
[ترمیم]اس جدول میں سب سے زیادہ رنز اسکور کرنے والی کھلاڑی شامل ہیں۔
| کھلاڑی | ٹیم | رنز | اننگ | اوسط | اعلیٰ ترین | 100s | 50s |
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| لنڈسے رییلر | 448 | 8 | 149.33 | 143 * | 2 | 2 | |
| ڈیبی ہاکلی | 446 | 9 | 63.71 | 90 * | 0 | 5 | |
| نکی ٹرنر | 342 | 8 | 42.75 | 114 | 1 | 1 | |
| کیرول ہوجز | 336 | 9 | 42.00 | 91 | 0 | 2 | |
| روتھ بکسٹین | 289 | 7 | 57.80 | 105 * | 2 | 0 |
سب سے زیادہ وکٹیں
[ترمیم]اس میں 5 ووکٹیں لینے والے، کھلاڑی شامل ہیں۔
| کھلاڑی | ٹیم | اوورز | وکٹیں | اوسط | ایس آر | اکانومی | بی بی آئی |
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| لن فلسٹن | 86.1 | 16 | 11.87 | 32.31 | 2.20 | 5/28 | |
| کیرن براؤن | 87.0 | 12 | 10.83 | 43.50 | 1.49 | 4/4 | |
| کیرول ہوجز | 83.0 | 12 | 16.08 | 41.50 | 2.32 | 4/14 | |
| شیرون ٹریڈریا | 90.0 | 11 | 13.27 | 49.09 | 1.62 | 3/9 | |
| بریگزٹ لیگ | 100.2 | 11 | 14.36 | 54.72 | 1.57 | 3/4 |
ماخذ: کرکٹ آرکیو
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Mary Boson۔ "A worldly ambition for the عالمی بہترین" – دی سڈنی مارننگ ہیرالڈ، 26 اکتوبر 1988.
- ↑ Batting at Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 (ordered by runs) – CricketArchive. Retrieved 29 اگست 2015.
- ↑ Bowling at Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 (ordered by wickets) – CricketArchive. Retrieved 29 اگست 2015.
- ↑ "Kiwis confident of shock result" – The Canberra Times، 7 دسمبر 1988.
- ↑ Batting and fielding for Australia women, Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
- ↑ Batting and fielding for England women, Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
- ↑ Batting and fielding for Ireland women, Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
- ↑ Batting and fielding for Netherlands women, Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
- ↑ Batting and fielding for New Zealand women, Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 – CricketArchive. Retrieved 29 August 2015.
- ↑ "The 1988 Women's Cricket World Cup"۔ 23 مئی 2017۔ 2020-04-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-04-02
- ↑ "Kiwis confident of shock result" – The Canberra Times, 7 December 1988.
- ↑ Shell Bicentennial Women's World Cup 1988/89 – CricketArchive. Retrieved 29 اگست 2015.
- ↑ "Australia's top bat sends them reeling" – The Canberra Times، 15 دسمبر 1988.
- ↑ https://en.wikipedia.org/wiki/1988_Women%27s_Cricket_World_Cup#cite_note-wisden-21