ابراہیم بن ادہم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابراہیم بن ادہم
(عربی میں: إبراهيم بن أدهم خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Sultan Ibrahim ibn Adham of Balkh visited by angels1009 IP.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 718  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بلخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 781 (62–63 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
جبلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جبلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ
Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ فضیل ابن عیاض  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص خواجہ حذیفہ مرعشی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ترک دنیا،  الٰہیات دان،  تصوف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

خواجہ ابراہیم بن ادہم بادشاہ بلخ جنہوں نے اللہ کی خاطر سلطنت کو خیرباد کہہ دیا

نام[ترمیم]

پورا نام: خواجہ ابو اسحاق ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بن یزید بن جابر
کنیت: ابو اسحق

ولادت[ترمیم]

ولادت با سعادت 159ھ مطابق 795ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔

القابات[ترمیم]

امام الارض،مرشدِ خلق،مقتدائے قوم،پیشوائے امت اور منبعِ فیوض وبرکات،سیدالاصفیاء ،سرخیل صوفیا،سلطان التارکین،ب رہان السالکین ،مقرب بارگاہِ رب العلمین،حضرت سیدناابو اسحاق ابراہیم بن ادہم جودولتِ علم سے مالا مال ،معرفت وطریقت میں باکمال، آسمانِ ولایت کے گوہرِ تابدار، حقائق وکمالات میں بے نظیر ،تقوی میں بے مثال تھے جنید بغدادی آپ کو مفاتیح العلوم فرماتے ،امام اعظم آپ کو سید العرفاء’’سیدنا ‘‘کہہ کر پکارتے ہیں۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

صوفی بزرگ، پورا نام ابراہیم بن ادہم بن منصور بن یزید بلخ کے بادشاہ تھے مگر انھوں نے تمام عیش و عشرت کو چھوڑ کر مسکینی اور خدا طلبی کی راہ اپنا لی تھی اور تارک الدنیا ہو گئے اور صحرا نوردی کرتے ہوئے نیشا پور کے نواح میں پہنچ گئے وہاں ایک غار میں نو سال تک مصروف ریاضت رہے پھر مکہ معظمہ چلے گئے اور کچھ عرصہ تک وہیں عبادت و ریاضت میں مشغول رہے۔ آپ کو بہت سے بزرگان دین سے شرف نیاز حاصل رہا سفیان ثوری، امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف سے آپ کی ملاقاتیں رہیں

بیعت و خلافت[ترمیم]

بیعت و خلافت آپ نے فضیل بن عیاض سے پائی۔ اسی کے ساتھ امام باقر ،خواجہ عمران بن موسی بن زید الراعی،شیخ منصور السلمی اورخواجہ اویس قرنی سے بھی خرقہ خلافت پایا تھا۔ جنید بغدادی کے بقول آپ فقراء کے تمام علوم و اسرار کی کنجی ہیں۔ آپ کا مشہور قول ہے کہ جب گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل جاؤ۔ چار، پانچ روز کا روزہ ان کا بھی معمول تھا۔گھاس وغیرہ سے افطار کرتے تھے۔بہت کم سوتے تھے۔پیوند کے کپڑے اکثر پہنتے تھے۔[1]

وصال[ترمیم]

آپ کے سال وفات کے بارے میں اختلاف ہے بہرحال مختلف روایات کی روشنی میں آپ کی وفات (160ھ / 876ء اور 166ھ/894ء) کے عرصہ کے دوران قرار پاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق26 جمادی الاولی 161ھ کو وصال فرمایا، آپ کے مزار کے متعلق بھی اختلاف ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ شام میں مدفون ہیں۔ بعض روایات کے مطابق آپ کو بلاد روم کے ایک بحری جزیرہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ ایک روایت کے مطابق آپ کا مزار بغداد ( عراق) میں ہے ایک خیال یہ بھی ہے کہ آپ بلاد روم کے ایک قلعہ’’ سوقین‘‘ میں مدفون ہیں۔ شہزادہ دارا شکوہ قادری نے آپ کا شام میں مدفون ہونا زیادہ درست تسلیم کیا ہے۔ ایک جگہ آپ کا مزار مبارک شام میں حضرت لوط علیہ السلام کے مزارپرانوارکے قریب زیارت گاہِ خواص وعوام ہے۔[2][3][4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ مشائخ چشت http://www.elmedeen.com/read-book-5168&&page=174&viewer=text#page-145&viewer-text
  2. اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ جلد1 ،صفحہ354،جامعہ پنجاب لاہور
  3. سفینۃ الالیاء از دارا شکوہ قادری
  4. اردو انسائیکلو پیڈیا فیروز سنز