ابراہیم بن ادہم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابراہیم بن ادہم
Ibrahim ibn Adham
(إبراهيم بن أدهم
)
صوفی
تاریخ پیدائش بلخ
قابل احترام اسلام
اہم مزار سلطان ابراہیم بن ادہم مسجد، مغربی کنارہ، یروشلم

خواجہ ابراہیم بن ادہم بادشاہ بلخ جنہوں نے اللہ کی خاطر سلطنت کو خیرباد کہہ دیا

نام[ترمیم]

پورا نام: خواجہ ابو اسحاق ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بن یزید بن جابر
کنیت: ابو اسحق

ولادت[ترمیم]

ولادت با سعادت 159ھ مطابق 795ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔

القابات[ترمیم]

امام الارض،مرشدِ خلق،مقتدائے قوم،پیشوائے امت اور منبعِ فیوض وبرکات،سیدالاصفیاء ،سرخیل صوفیاء،سلطان التارکین،برہان السالکین ،مقرب بارگاہِ رب العلمین،حضرت سیدناابو اسحاق ابراہیم بن ادہم جودولتِ علم سے مالا مال ،معرفت وطریقت میں باکمال، آسمانِ ولایت کے گوہرِ تابدار، حقائق وکمالات میں بے نظیر ،تقوی میں بے مثال تھےجنید بغدادی آپ کو مفاتیح العلوم فرماتے ،امام اعظم آپ کو سید العرفاء’’سیدنا ‘‘کہہ کر پکارتے ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

صوفی بزرگ، پورا نام ابراہیم بن ادہم بن منصور بن یزیدرحمۃ اللہ علیہ بلخ کے بادشاہ تھے مگر انھوں نے تمام عیش و عشرت کو چھوڑ کر مسکینی اور خدا طلبی کی راہ اپنا لی تھی اور تارک الدنیا ہو گئے اور صحرا نوردی کرتے ہوئے نیشا پور کے نواح میں پہنچ گئے وہاں ایک غار میں نو سال تک مصروف ریاضت رہے پھر مکہ معظمہ چلے گئے اور کچھ عرصہ تک وہیں عبادت و ریاضت میں مشغول رہے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بہت سے بزرگان دین سے شرف نیاز حاصل رہا سفیان ثوری، امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف سے آپ کی ملاقاتیں رہیں

بیعت و خلافت[ترمیم]

بیعت و خلافت آپ نے فضیل بن عیاض سے پائی۔ اسی کے ساتھ امام باقر ،خواجہ عمران بن موسی بن زید الراعی،شیخ منصور السلمی اورخواجہ اویس قرنی سے بھی خرقہ خلافت پایا تھا۔ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول آپ رحمۃ اللہ علیہ فقراء کے تمام علوم و اسرار کی کنجی ہیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے کہ جب گناہ کا ارادہ کرو تو خدا کی بادشاہت سے باہر نکل جاؤ۔

وصال[ترمیم]

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سال وفات کے بارے میں اختلاف ہے بہرحال مختلف روایات کی روشنی میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات (160ھ / 876ء اور 166ھ/894ء) کے عرصہ کے دوران قرار پاتی ہے ۔ایک روایت کے مطابق26 جمادی الاولی 161ھ کو وصال فرمایا، آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے متعلق بھی اختلاف ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ شام میں مدفون ہیں۔ بعض روایات کے مطابق آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بلاد روم کے ایک بحری جزیرہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ ایک روایت کے مطابق آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بغداد ( عراق) میں ہے ایک خیال یہ بھی ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ بلاد روم کے ایک قلعہ’’ سوقین‘‘ میں مدفون ہیں۔ شہزادہ دارا شکوہ قادری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کا شام میں مدفون ہونا زیادہ درست تسلیم کیا ہے۔ایک جگہ آپ کا مزار مبارک شام میں حضرت لوط علیہ السلام کے مزارپرانوارکے قریب زیارت گاہِ خواص وعوام ہے۔[1] [2] [3]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ جلد1 ،صفحہ354،جامعہ پنجاب لاہور
  2. سفینۃ الالیاء از دارا شکوہ قادری
  3. اردو انسائیکلو پیڈیا فیروز سنز