ابو اسحاق شامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(خواجہ ابو اسحاق شامی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیخ ابو اسحق شامی کا لقب شرف الدین تھا۔ خلیفہ چہارم علی کی نویں پشت سے تھے

ولادت[ترمیم]

ابو اسحٰق شامی چشتی ملک شام میں پیدا ہوئے، اسی لحاظ سے شامی کہلائے۔ قصبہ چشت میں تعلیم وتربیت ہوئی۔

علوم ظاہری و باطنی[ترمیم]

علوم ظاہریہ و باطنیہ کے جامع تھےآپ نے خرقہ خلافت ممشاد علوی دینوری سے پایا تھا۔ ظاہری اور باطنی علوم میں ممتاز تھے اور زہد و ریاضت میں بے مثال۔ خلق سے بے نیاز اور خالق سے ہمراز، درویشوں سے محبت کرتے۔ ’’معراج الفقراء الجوع‘‘ کے مصداق ہمیشہ روزہ سے رہتے اور سات دن بعد افطار کیا کرتے۔ بہت کم کھانا کھاتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ بھوک میں جو لذت پاتا ہوں وہ کسی کھانے میں نہیں پاتا۔ مرید ہونے سے پہلے چالیس دن تک استخارہ کرتے رہے۔ ہاتف غیبی نے علوی دینوری کی خدمت میں حاضری کا اشارہ دیا تو ان کے خدمت میں حاضر ہوئے۔ سات سال بعد تکمیل کو پہنچے اور خلافت عطا ہوئی۔ بغداد پہنچ کر خواجہ ممشاد دینوری نے بیعت کی۔

سلسلہ چشتیہ کے حقیقی بانی[ترمیم]

درویشوں اور فقراء کے مسلک سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں۔ مرشد نے جب نام پوچھا تو ابو اسحٰق شامی بتایا۔ مرشد نے کہا آج سے لوگ تمہیں ابواسحٰق چشتی کہیں گے اور جو بھی تمہارے سلسلے میں داخل ہوگا، چشتی کہلائے گا۔ اسی نسبت سےسلسلہ کی ابتدائی شہرت میں چشتیہ انہی کی وجہ سے ہوئی۔ آپ کے پیرو مرشد نے آپ کو یہ بشارت دی کہ اہل چشت کے امام بنو گے۔ چنانچہ آپ اپنے وطن چشت واپس آئے تو ’’قطب چشتیہ ‘‘کے لقب سے مشہور ہوئے۔آپ کے بعد مزید چار مشائخ کا تعلق بھی چشت سے تھا۔ ان میں ابو احمر ابدال چشتی، ابو محمد بن ابو احمد ابدال چشتی، ناصرالدین، ابویوسف چشتی اورمودود چشتی کے اسمائے گرامی مشہور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چاروں بزرگ دین کے ستون مانے جاتے تھے۔

کیفیات وجد[ترمیم]

آپ کو سماع سے بے حد لگاؤ تھا۔ آپ کی مجلس میں جو شخص ایک بار حاضر ہوتا پھر گناہ سے دور رہتا، آپ کی مجلس کی برکات سے ہر شخص وجد میں رہتا، اگر کوئی مریض ایک بار مجلس میں آجاتا تو شفا پاتا، دنیا کا پجاری آتا تو تارک الدنیا ہوجاتا تھا۔

وصال[ترمیم]

آپ نے 940 ء 14 ربیع الثانی 329 ھ کو وصال فرمایا
بعض کے مطابق شام میں رہے وہیں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔

مزار[ترمیم]

آپ کا مزار مبارک شہر عکہ شام میں ہے۔[1] سیر الاقطاب کے مصنف نے لکھا ہے کہ آپ کے وصل سے لے کر آج تک آپ کے مزار پر ایک چراغ روشن ہے جو کبھی نہیں بجھا۔ وہ شام سے صبح تک روشن رہتا ہے باد و باراں کا کئی بار طوفان آیا۔ مگر رات کے وقت اس چراغ کو نہیں بجھا سکا۔ یہ چراغ اس شعر کی عملی تصویر ہے۔

اگر گیتی سرا سر باد گیرد
چراغ مقبولاں ہرگز نمیرد

حوالہ جات[ترمیم]

  • خزینۃ الاصفیاء جلد دوم: مفتی غلام سرور لاہوری
  • سفینۃ الاولیا: شہزادہ دارا شکوہ قادری
  1. تاریخ مشائخ چشت، محمد زکریا مہاجر مدنی، صفحہ151، مکتبہ الشیخ کراچی