خواجہ اللہ بخش تونسوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خواجہ اللہ بخش تونسوی
ذاتی
پیدائش (ماہ ذو الحجہ 1241ھ)
وفات (29 جمادی الاول 1319ھ بمطابق 13 ستمبر 1901ء)
مذہب اسلام
والدین
سلسلہ چشتیہ
مرتبہ
مقام تونسہ شریف
دور انیسویں بیسویں صدی
پیشرو شاہ محمد سلیمان تونسوی
جانشین حافظ محمود تونسوی

خواجہ اللہ بخش تونسوی تونسہ شریف کے سجادہ نشین تھے۔ آپ خواجہ گل محمد تونسوی کے صاحبزادے اور شاہ محمد سلیمان تونسوی کے پوتے تھے۔ آپ تونسہ شریف میں تقریباً باون سال تک مسند نشین رہے۔ آپ کا جانشین آپ کا بیٹا حافظ محمود تونسوی ہوا۔

ولادت[ترمیم]

خواجہ اللہ بخش تونسوی کی ولادت ماہ ذوالحجہ 1241ھ بمطابق 1826ء میں تونسہ شریف میں ہوئی۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

خواجہ اللہ بخش تونسوی کی جب عمر تعلیم حاصل کرنے کی ہوئی تو آپ کے دادا جان شاہ محمد سلیمان تونسوی نے مولوی محمد امین کے سپرد کیا۔ آپ نے مولوی محمد امین سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے مولوی محمد امین سے فارسی نظم، عربی صرف و نحو اور علم حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد آپ کے دادا جان نے سلوک و معرفت کی تعلیم کے لیے اپنے پاس بلا لیا۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

خواجہ اللہ بخش تونسوی ابتدائی عمر میں نہایت شان و شوکت سے زندگی گزارتے تھے۔ اچھے لباس کا شوق تھا۔ اچھی اچھی گھوڑیاں سواری کے لیے رکھتے تھے۔ جب بڑے ہوئے تو ان سب چیزوں سے منہ موڑ لیا اور نہایت سادگی سے زندگی بسر کرنے لگے۔ دادا جان خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی نے بچپن سے ہی آپ کو نماز روزے کا پابند بنا دیا تھا۔ عمر کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت میں مذید دلچسپی بڑھتی گئی۔

  • مناقب المحبوبین میں حاجی نجم الدین فاروقی لکھتے ہے کہ خواجہ اللہ بخش تونسوی اکثر ہماری کوٹھری میں آ کر کہا کرتے تھے کہ حاجی صاحب ہمارے لیے دعا کرو۔ خواجہ سلیمان تونسوی ان کے دینی جذبے سے بے حد خوش ہوتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ہی زندگی میں دلائل الخیر خواجہ اللہ بخش تونسوی کو عطا کی اور فرمایا کہ شجروں پر میری طرف سے تم ہی دستخط کر دیا کرو۔ خواجہ اللہ بخش تونسوی نے اس ہدایت پر یہاں تک عمل کیا کہ خواجہ شاہ سلیمان تونسوی کے وصال کے بعد بھی ان ہی کا نام شجروں میں لکھتے رہے۔[1]

مسند نشینی[ترمیم]

خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کی دونوں فرزند ان کی زندگی میں ہی فوت ہو چکے تھے اس لیے ان کی وفات کے بعد آپ کے پوتے خواجہ اللہ بخش تونسوی ماہ صفر 1267ھ میں تونسہ شریف کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے۔[2] خواجہ اللہ بخش تونسوی دادا جان کے وصال کے وقت ان کے پاس موجود تھے اور آخری وقت دادا جان کے قدموں میں سر رکھ کر کہا

بابو! من از تو ہیچ چیز دیگر نمی خوا ہم
پس ہمیں می خوا ہم کہ نعلین فقیران ترا

یہ جملہ سن کر شیخ پر ایک کفیت طاری ہو گئی اور فرمایا ونفخت فیہ من روحی اور جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ شاہ نظام الدین کے فرزند کالے صاحب نے خواجہ اللہ بخش تونسوی کے سر پر دستار باندھ کر ان کو سجادہ شیخت پر بٹھایا۔ [3]

ہندوستان کا سفر[ترمیم]

سجادہ نشینی کے بعد خواجہ اللہ بخش تونسوی نے سلسلہ چشت کے مزارات کی حاضری کے لیے ہندوستان کے مختلف حصوں کے سفر کیے۔ بیکانیر کی مسجد میں چند روز قیام کیا اور کثیر تعداد میں لوگوں کو داخل سلسلہ کیا۔ نئے مریدوں کو ہدایت کی کہ نماز روزے کی پابندی کریں۔ راجا سردار سنگھ والی بیکانیر نے حاضر خدمت ہونا چاہا تو فرمایا

ما فقیریم از ملاقات ما یاں تراچہ
سو داست دریں چا نیائی

جب خواجہ صاحب دہلی پہنچے تو شہنشاہ ہندوستان بہادر شاہ ظفر نے خدمت میں حاضر ہونا چاہا۔ اس وقت خواجہ اللہ بخش تونسوی چراغ دہلوی کی درگاہ میں مقیم تھے۔ جب بہادر شاہ ظفر ملاقات کے لیے تشریف لائے تو خواجہ اللہ بخش تونسوی پیچھے کے دروازے سے نکل کر جنگل میں چلے گئے۔ بہت مِنت سماجت کے بعد جنگل سے واپس تشریف لائے تو بہادر شاہ ظفر کو قدم بوسی کا شرف نصیب ہوا۔ خواجہ اللہ بخش تونسوی اگلے دن جہاں آباد تشریف لائے۔ جہاں آباد میں امرا اور درباریوں نے کثیر تعداد میں عقیدت کا اظہار کیا۔ محلات کی بیگمیں مرید ہوئیں اور بہادر شاہ ظفر نے نذرانے پیش کیے۔

تعمیرات[ترمیم]

خواجہ اللہ بخش تونسوی کو تعمیرات کا بڑا شوق تھا۔ آپ کی بنائی ہوئی تعمیرات شہر کے نصف حصہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ جب آپ کے دادا جان کے پرانے خلفاء کا انتقال ہو گیا تو آپ نے کچے مکانات کو گرا کر آستانہ اور مسجد کو بہت وسیع کر دیا۔ آپ کی تعمیرات میں مساجد، سرائے، کنوئیں اور مدرسے شامل تھے۔

اصلاحی کوششیں[ترمیم]

خواجہ اللہ بخش تونسوی نے مسلمانوں کے ہر طبقے کی اصلاح و تربیت کی طرف توجہ دی۔ آپ کے ملفوظات سے پتا چلتا ہے کہ آپ علما کی اصلاح پر خاص توجہ دیتے تھے۔ آپ کا خیال تھا کہ علما کی اصلاح سے مسلم سوسائٹی کا بڑا طبقہ خود بخود صحیح راہ پر آ جائے گا۔

  1. ایک مرتبہ ایک مسئلہ پر مختلف علما نے مختلف فتوے دیے اور گروہ بندی کے زیر اثر شریعت کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ خواجہ اللہ بخش تونسوی کو علم ہوا تو بھری مجلس میں ان علما کی مذمت کی۔
  2. مرزا غلام احمد قادیانی نے اس وقت اپنے عقائد کی ترویج شروع کی اور اکثر علما کو مباحثہ کی دعوت دی۔ خواجہ اللہ بخش تونسوی نے اپنی جگہ پر بیٹھ کر نہایت سختی کے ساتھ ان فتنوں کی تردید کی اور کوشش کی کہ مسلمانوں کا مذہبی احساس اور وجدان ان گمرہ تحریکوں سے متاثر نہ ہو۔

اخلاق[ترمیم]

خواجہ اللہ بخش تونسوی اعلی اخلاق کے مالک تھے۔ خواہ دشمن ہو یا دوست جو بھی آپ سے ملتا اخلاق کا اثر دل پر لے کر اٹھتا۔ آپ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے۔ غریبوں اور بے کسوں کی طرف خصوصی توجہ فرماتے۔ ہندو کثیر تعداد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تو آپ کے اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے سکتے تھے۔

  • ایک مرتبہ پیر مہر علی شاہ نے اپنی مجلس میں اللہ بخش تونسوی کے بارے میں فرمایا : خواجہ اللہ بخش کی نظر میں اہل دنیا کی ذرہ برابر بھی وقعت اور قدر نہ تھی۔ وہ بے حد غریب نواز تھے۔ دنیا داروں کو بہت حقیر اور بے مقدار سمجھتے تھے اور اس معاملہ میں خواجہ اللہ بخش کے برابر کوئی فقیر دیکھا یا سنا نہیں گیا۔

وصال[ترمیم]

خواجہ اللہ بخش تونسوی نے بروز جمعہ 29 جمادی الاول 1319ھ بمطابق 13 ستمبر 1901ء کو وفات پائی۔ آپ کی تدفین تونسہ شریف میں کی گئی جہاں آج کل خوبصورت مزار بنا ہوا ہے۔

اولاد[ترمیم]

خواجہ اللہ بخش تونسوی کے تین فرزند تھے۔

  1. حافظ موسی تونسوی
  2. حافظ احمد تونسوی
  3. حافظ محمود تونسوی

خواجہ اللہ بخش تونسوی کے جانشین حافظ محمود تونسوی ہوئے۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ مشایخ چشت مولف خلیق احمد نظامی صفحہ 719
  2. تاریخ مشایخ چشت مولف خلیق احمد نظامی صفحہ 662 اور 663
  3. تاریخ مشایخ چشت مولف خلیق احمد نظامی صفحہ 718
  4. تاریخ مشایخ چشت مولف خلیق احمد نظامی صفحہ 720 تا 723