باقی باللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(خواجہ باقی باللہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
خواجہ محمد باقی باللہ بیرنگ نقشبندی احراری دہلوی
Baqibillah2.png 

معلومات شخصیت
پیدائش 14 جولائی 1564ء
کابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 29 نومبر 1603ء
بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب صوفی اسلام
والد قاضی عبدالسلام سمرقندی

خواجہ باقی باللہ یا رضی الدین محمد باقی (پیدائش: 14 جولائی 1564ء– وفات: 29 نومبر 1603ء) سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ ہیں جو اپنے نام خواجہ بیرنگ سے بھی مشہور ہیں۔

سلسلہ نسب[ترمیم]

والد گرامی کا نام قاضی عبد السلام خلجی سمرقندی قریشی ہے جو اپنے زمانے کے معروف عالمِ باعمل اور صاحبِ وجد و حال و فضل و کمال بزرگ تھے۔ حضرت خواجہ باقی باللہ کی ولادت 971ھ بمطابق 1563ء کابل میں ہوئی اور وہیں شادی فرمائی۔[1] یہی سال امام ربانی کی ولادت کا ہے اتصال روحی ہے۔[2]

آپ کے نانا جان کا سلسلہ نسب حضرت شیخ عمر یاغستانی تک پہنچتا ہے جو حضرت خواجہ عبید اللہ احرار کے نانا تھے۔ آپ کی نانی سادات سے تھیں۔ بعض مؤرخین نے آپ کو صحیح النسب سید لکھا ہے۔ جبکہ اصلاً ترک تھے۔[2] حیاتِ باقی میں آپ کا سلسلہ نسب یوں درج ہے؛ خواجہ باقی باللہ بن قاضی عبد السلام بن قاضی عبد اللہ بن قاضی اجر بن قاضی حسین بن قاضی حسن بن محمد بن احمد بن محمود بن عبد اللہ بن علی اصغر بن جعفر ذکی خلیل بن علی نقی بن محمد تقی بن علی رضا بن موسی کاظم بن امام جعفر الصادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی بن ابی طالب۔[3] تمام کتب تصوف میں آپ کو فاروقی النسب لکھا ہے؟

تحصیل علم[ترمیم]

آپ نے آٹھ برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اُس دور کے کابل کے مشہور عالمِ دین محمد صادق حلوائی سے تلمذ اختیار کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں علم و عمل کے آفتاب بن کر چمکنے لگے اور اپنے زمانے کے اہلِ علم میں شہرتِ دوام حاصل کر لی۔ سمرقند میں فقہ، حدیث، تفسیر اور دوسرے دینی علوم کی تکمیل کی۔ بچپن سے آثار تجرید و تفرید اور علاماتِ فقر و درویشی آپ کی پیشانی سے عیاں تھیں۔

علم باطنی[ترمیم]

ایک مجذوب کی نظر کرم سے کتابوں سے دل اچاٹ ہو گیا اور آپ کسی مرشد کامل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ آخر میں امیر عبد اللہ بلخی کی خدمت میں پہنچے۔ اب طبیعت کو استقامت ہوئی اور مدارج روحانی میں ترقی ہونے کے بعد پیر بابا بھائی دلی کشمیری کے حضور پہنچے اور فیض حاصل کیا۔ اس کے بعد پیر کامل کی تلاش میں دہلی وارد ہوئے اور حضرت شیخ عبد العزیز کی خانقاہ میں ان کے صاحبزادے شیخ قطب العالم کے پاس رہ کر یاد حق میں مشغول ہو گئے۔ پھر اشارہ غیبی پاکر بخارا پہنچے اورخواجہ امکنگی حضرت کے مرید و خلیفہ تھے نقشبندی سلسلے کی تعلیم حاصل کی۔ محمد اور حضرت شاہ نقشبند بخاری کی روحانیت سے بلا واسطہ بطور اویسیت فیضیاب تھے۔

ہندوستان آمد[ترمیم]

حضرت خواجہ محمد امکنگی نے اشارہ غیبی پاکر آپ کو ہندوستان کی طرف ہجرت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا

تمہارے وجود سے طریقہ نقشبندیہ ہندوستان میں رونق عظیم اور شہرت فخیم حاصل کرے گااور وہاں کے تشنگان علم وعرفاں کا جامتجھ سے سیراب ہوگا[4]

چنانچہ آپ کے حکم پر ترکستان سے لاہور ہوتے ہوئے ہندوستان کے مرکزی شہر دہلی تشریف لائے اور دریائے جمنا کے کنارے قلعہ فیروز آباد میں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ کی تشریف آوری سے پانچ چھ سال کے اندر اندر روحانی حلقوں میں انقلاب برپا ہو گیا۔ علماء و مشائخ اور عامۃ المسلمین کے علاوہ اُمراء سلطنت بھی آپ کے حلقہ بیعت میں شامل ہونے لگے۔ چنانچہ نواب مرتضی خان فرید بخاری، عبدالرحیم خان خاناں، مرزا قلیج خان اور صدر جہاں وغیرہم بھی آپ کے نیاز مندوں میں شامل ہونے لگے۔ آپ نے دورِ اکبری کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے ایک خاص حکمت عملی کے تحت بشمول انہی راسخ العقیدہ امرا و علما و صوفیا کی ایک جماعت تیار کی جن میں حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی بھی شامل تھے۔ ان حضرات نے علمائے سوء کے منفی کردار کے اثرات زائل کرنے کے لیے اکبر اعظم کے بعد نور الدین جہانگیر کی جانشینی پر اس شرط کے ساتھ حمایت کی کہ وہ دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں ان کا حامی و موئید ہو گا۔ اکبر اعظم کے دربار سے وابستہ بہت سے امرا بھی آپ کے متعقد تھے۔ آپ نے امرا کے طبقے کی اصلاح کی طرف توجہ دی یہ آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اکبر کے عہد میں جو لامذہبیت پیدا ہو رہی تھی اس کا خاطر خواہ سدباب ہوااور طبقہ امرا میں مذہب سے وہ انس پیدا ہو گیا جس کے سامنے اکبر کے خیالات فروغ نہ پاسکے۔

مزاج و خواص[ترمیم]

آپ کی نظر کیمیا، توجہ اکسیر اور دعا مستجاب تھی اور آپ سے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا۔ آپ بہت کم گو، کم خور اور کم خواب تھے۔[1]

اولاد و خلفاء[ترمیم]

آپ کے دو صاحبزادے تھے۔ خواجہ عبیداللہ عرف خواجہ کلاں اور خواجہ عبداللہ عرف خواجہ خورد۔ 1008ھ میں حضرت مجدد الف ثانی آپ سے بیعت ہو کر خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے جن سے بالخصوص پاک و ہند اور بالعموم پوری دنیا میں سلسلہ نقشبندیہ کی اشاعتِ عام ہوئی۔ دیگر مشہور خلفاء میں شیخ تاج سنبھلی اور خواجہ حسام الدینشامل ہیں۔[5]

وفات[ترمیم]

ہفتہ 25 جمادی الثانی 1012ھ بمطابق 29 نومبر 1603ء کو بعد نماز عصر ذکر اسم ذات کرتے ہوئے وفات پائی۔ 'نقشبندِ وقت' اور 'بحرِ معرفت بود' سے تاریخ وفات نکلتی ہے۔ خواجہ باقی باللہ کا مزار دہلی میں فیروز شاہ قبرستان میں صحنِ مسجد کے متصل واقع ہے۔[6]

مکتوبات امام زبانی[ترمیم]

مکتوبات امام ربانی میں آپ کے نام حضرت مجدد الف ثانی کے لکھے ہوئے 20 مکتوبات ہیں جو دفتر اول یعنی پہلی جلد میں ادباً و احتراماً شروع میں رکھے گئے ہیں۔ ان میں آپ کے ذاتی احوال کے علاوہ علوم و معارف کے بے شمار جوہر گرانمایہ شامل ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب البینات شرح مکتوبات، ابو البیان محمد سعید احمد مجددی ؒ
  2. ^ ا ب جہان امام ربانی اقلیم اول،صفحہ 328 ،امام ربانی فاؤنڈیشن کراچی
  3. حیات باقی
  4. تذکرہ مشائخ سیفیہ از محمد عرفان قادری صفحہ 138 بہار اسلام پبلیکیشنز لاہور
  5. مکتوبات_حضرت_مجدد_الف_ثانی: دفتر اول، اردو ترجمہ؛ سید_زوار_حسین_شاہ
  6. البینات شرح مکتوبات، ابو البیان محمد سعید احمد مجددی

<link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:زیارات" />