حیدر علی آتش کی شاعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دبستان لکھنؤ کی صحیح نمائندگی کا جہاں تک تعلق ہے اس سلسلے میں امام بخش ناسخ اور آتش کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ محاکمہ کرتے ہوئے آتش کوترجیح دیتے ہیں۔ اور لکھتے ہیں: ” میں تو یہ کہوں گا کہ لکھنوی ادب اور شاعری کا صحیح نمائندہ آتش ہی تھا ناسخ نہ تھا۔ کیونکہ آتش کے کلام میں اسی زندگی کی لطافتوں کی روح کھچ کر اس طرح جلوہ گر ہو گئی ہے جس طرح شراب کے جوہر میں شراب روح کی طرح کشید ہو کر سراپا لطافت بن جاتی ہے۔ اور اگر غور کیا جائے تو آتش کی شاعری لکھنوی شاعری کی ہی روح ِ لطیف ہے۔ آتش ہی لکھنؤ کا وہ بڑا شاعر تھا جس نے لکھنؤ کے مشاعروں کے لیے بھی لکھا اور اپنے لیے بھی شاعری کی اور اس کی یہی شاعری ہے جس میں لکھنؤ کا وہ ادب پیدا ہو گیا ہے جس کی حیثیت مستقل ہے۔“

ڈاکٹر خلیل الرحمن اعظمیٰ نے بھی اپنی تصنیف ”مقدمہ کلا م آتش“ میں نقطہ پیش کیا ہے کہ

” آتش ہی لکھنوی دبستان کی نمائندگی کا حق رکھتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ ناسخ کے پاس صرف کرتب تھا استادی اور زبان دانی کا دعویٰ تھا۔ لیکن آتش اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھے۔ وہ وجدان اور احساس جمال کے مالک تھے ۔۔۔۔ آتش کا کلام سونے پر سہاگہ کی حے ثے ت رکھتا ہے۔ ناسخ، تخلیقی قوت کے فقدان کی وجہ سے ذہنی ورزش کی طرف مائل رہے۔ اس لیے ان کا کلام زندگی سے دور جا پڑا اور اس میں کوئی رس باقی نہ رہا۔

بقول رام بابو سکسینہ ”میر و غالب کے بعد اگر کسی کا مرتبہ ہے تو وہ آتش ہے۔“

ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ آتش کو ناسخ پر فوقیت حاصل ہے۔ کلیم الدین احمد اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں: ” ہر ذی فہم واقف ہے کہ آتش شاعر تھے اور ناسخ شاعری کے لیے تخلیق نہیں کیے گئے تھے۔“

آل احمد سرور نے لکھنؤ کے ادب پر تنقید کرتے ہوئے آتش و ناسخ پر بھی رائے زنی کی ہے، ” ناسخ کی شاعر ی میں نشتریت سرے ہی سے نہیں وہ جس طرح باقاعدہ ورزش کرتے ہیں اسی طرح ڈھلے ڈھلائے شعر کہتے ہیں۔ ناسخ خودار انسان تھے انہوں نے کبھی اپنے آپ کو ذلیل نہ کیا مگر شاعر وہ بہت معمولی تھے۔ آتش کے یہاں جذبہ بھی ہے۔ گرمی بھی ہے۔ اور گداز بھی وہ دربار سے متعلق نہیں تھے۔

گویا یہ بات طے ہو گئی ہے کہ آتش ہی اے ک اے سے سخنور ہے ں جو ہر معے ار کے مطابق دبستان لکھنؤ کے نمائندہ کے طور پر تسلیم کیے جا سکتے ہیں۔ اور اردو شاعری کے ہر بڑے نقاد کی رائے بھی یہی ہے۔

دہلویت اور لکھنویت کا امتزاج[ترمیم]

آتش کو اگرچہ بجا طور پر لکھنوی دبستان کا نمائندہ شاعر تسلیم کیاجاتا ہے لیکن اس کے باوصف اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وہ صرف لکھنؤ ی دبستان کے شاعر نہیں بلکہ دبستان دہلی اور لکھنؤ کے سنگم پر کھڑے ہیں۔ ان کے ہاں خارجی اور داخلی دونوں کیفیتیں ملتی ہیں۔ چنانچہ حسن ِ صورت کی تعریف کے ساتھ ساتھ حسنِ سیرت کی توصیف بھی ملتی ہے۔ گویا ان کے یہاں لکھنویت کا رنگ اور دہلویت کی خوشبو دنوں موجود ہیں،

دہلوی اثرات[ترمیم]

کسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کا
کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا

آئے بھی لوگ بیٹھے بھی اُٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈ تا تیری محفل میں رہ گیا

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو ایک قطرہ خوں نہ نکلا

لکھنوی اثرات[ترمیم]

ہر شب شب ِ برات ہے ہر روز روزِ عید
سوتا ہوں ہاتھ گردن ِ مینا میں ڈال کے

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

آتش کی غزل گوئی[ترمیم]

آتش کی شاعری اس کے کردار کا مرقع ہے۔ اس کے کلام میں وہی سرور و نزہت ہے جو جنگل کی مست ہوائوں میں، وہی روانی ہے جو بہتے دریائوں میں، وہی موسیقی ہے جو ستاروں کی چمک او ر کل نظام ِ فطرت میں ہے۔ وہ ایک آزاد شاعر تھے جو شعر کہتے وقت یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا مذہب کیا ہے۔

آتش نوائی:۔[ترمیم]

بقول آل احمد سرور:
” آتش کے یہاں جذبہ بھی ہے، گرمی بھی اور گداز بھی۔“
آتش کے کلام میں گرمی بہت ہے غالباً تخلص کی رعایت سے اصلاح استعمال کی گئی ہے۔ لیکن اس میں کلام نہیں کہ ایسے اشعار بھی موجود ہیں جن میں تلخی حالات کی کارفرمائی نمایاں طور پر موجود ہے اسی زمانے کے سے اسی خلفشار، ذہنی انتشار اور تذبذب کی کیفیت کو پیش نظر رکھیے اور پھر اس قسم کے اشعار پڑھیے؟

بخت بند نے مجھے ہر چند مٹایا آتش
رہ گیا نام مرا گنبد گرداں کے تلے

مشتاق درد عشق جگر بھی ہے دل بھی ہے
کھائوں کدھر کی چوٹ بچائوں کدھرکی چوٹ

داخلیت:۔[ترمیم]

آتش کی شاعری کی لے بنیادی طور پر اگرچہ لکھنؤ کی شعراءکی رنگین مزاجی، فارغ البالی اور عیش پرستی سے مختلف ہے اور یہ فرق بڑی حد تک افتادِطبع اور درویشانہ زندگی کے سبب ہے لیکن اس کے باوجود ان کے ہاں داخلیت کی جانب واضح رجحان ملتا ہے۔ جو لکھنؤ کی مخصوص فضا کا پیدا کردہ ہے۔
اس بناءپر کیفی اعظمی ان کوداخلیت کا حامل شاعر قرار دیتے ہیں۔ جو انہوں نے اپنی شاعری میں زندگی کے محسوسات و تجربات کو حسین پیرائے میں بیان کیا ہے۔

سفر ہے شرط مسافر نواز بُہتیرے
ہزار ہا شجر ِ سایہ دار راہ میں ہے

نہ پوچھ حال مرا چوبِ خشک صحرا ہوں
لگا کے آگ مجھے کارواں روانہ ہوا

رجائیت:۔[ترمیم]

آتش کے کلام کا بڑا حصہ رجائیت اور زندگی کی قوت سے لبریز ہے ان کا تصور ِ زندگی مکمل طور پر عشرت و انبساط کا پہلو لیے ہوئے ہے۔ ان کے ہاں غم و درد کا ذکر بہت کم ہے اور جو تھوڑا بہت ہے بھی وہ زندگی سے بیزاری اور مایوسی نہیں سکھاتا ہے بلکہ ان کا توانا اور پر جوش لہجہ مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے پر ابھارتا ہے۔ آتش کی زندگی کے تاریک اور حزینہ پہلو کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ اس کے روشن اور تابناک پہلو کو پیش نظر رکھتے ہیں ان کے ہاں قلندرانہ شان نظر آتی ہے۔ ایک سرمستی کی کیفیت ملتی ہے ان کی شخصیت میں جو شجاعت اور جوانمردی اور قوت و عظمت تھی اس کا بھر پور اظہار ان کے اشعار میں ملتا ہے۔ مثلاً

تھکیں جو پائو ں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتش
گل ِ مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے

دل ِ بے تاب کو فریاد و فغاں کرنے دو
پہلے غماز ہی کو قصہ بیاں کرنے دو

انفرادیت:۔[ترمیم]

آتش کی غزل میں جو سپاہیانہ للکار، معرکہ آرائی، بلند آہنگ اور آتش نوائی ملتی ہے و ہ شعرائے کرام کی تمام مانوس آوازوں سے مختلف اور الگ ہے۔ انہوں نے غزل کی عام تشبیہات اور پامال استعاروں سے ہٹ کر براہ راست تغزل کا جادو جگایا ہے۔ غزل کی علامت کوآتش نے ایک نیا مزاج اور نیا آہنگ دیا۔ آتش کا کلام اپنے مخصوص لب و لہجہ اور انفرادی انداز ِ بیان کی وجہ سے صاف پہنچانا جاتا ہے۔

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق ِ خدا غائبانہ کیا

پیامبر نہ میسر ہو تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

آتش کے انفرادی رنگ کا ثبوت وہ بے شمار اشعار ہیں جو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اور ہماری روز مرہ گفتگو کا حصہ بن چکے ہیں دیکھیے

ع بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
ع میں جا ہی ڈھونڈتا تیری محفل میں رہ گیا
ع ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
ع بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

شاعرانہ مصوری:۔[ترمیم]

آتش کے کلام کی ایک اور بڑی خوبی جس کی تعریف اکثر نقادانِ شعر و ادب نے کی ہے انکی شاعرانہ مصوری ہے۔ آتش نے شاعری کو کئی جگہ مصوری سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے بارے میں آل احمد سرور لکھتے ہیں کہ:
” آتش، مصحفی کے شاگرد تھے انہی کے اثر سے آتش کے یہاں حسن کا ایک ایسا شوخ اور رنگین احساس ملتا ہے جو ان کے اشعار میں ہماری عشقیہ شاعری کا ایک نا قابل مسخر سرمایہ بنا دیتا ہے۔ آتش حسن کی عکاسی بھی کرتے ہیں مگر دراصل ان کے یہاں حسن کی مصوری ہے۔ مصور جب تصویر کھینچتا ہے تو نقش میں نقاش کا تخیل اور احساس کی ایک نئی زندگی بھر دیتا ہے۔ اب تصویر صرفخطوط اور رنگوں کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ منہ سے بولنے لگتی ہے۔ آتش کے بہترین اشعار ان رنگین احساس کا نگار خانہ ہیں۔“

مرا ہر شعر اک اک عالم تصویر رکھتا ہے
مرقع جان کر ذی فہم دیوان مول لیتے ہیں

نظرآتی ہے ہر سو صورتیں ہی صورتیں مجھ کو
کوئی آئینہ خانہ کارخانہ ہے خدائی کا

قوت تخیل:۔[ترمیم]

آتش اپنی قو ت تخیل کے زور سے اشعار میں ایسی رنگا رنگی، دلکشی اور رعنائی بھر دیتے ہیں جو قاری کے ذہن کو متاثر کیے بغے ر نہیں رہتی۔ آتش کا دیوان پڑھیے تو احساس ہوتا ہے کہ عام طور پر آتش اپنی غزلوں کے مطلع سے ہی ہمیں اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
ان کے مطلع نہایت زور دار ہوتے اور پہلی ہی آواز میں ہم پر ایسا تاثر چھوڑتے ہیں جو پوری غزل پر حاوی ہوتا ہے۔ غزل میں ایک ہی فضا ایک ہی موڈ اور کیفیات کی وحدت کے لیے مطلعوں سے بہت مدد ملتی ہے۔ دراصل آتش کی مصوری بھی ان کے تخیل کی رنگینی کی مرہون ِمنت ہے۔ مثلاً

ایسی وحشت نہیں دل کی کہ سنبھل جائوں گا

صورت پیرہن تنگ نکل جائوں گا

تصور سے کسی کے کی ہے میں نے گفتگو برسوں

رہی ہے اِیک تصویر خیالی روبر و برسوں

تشبیہات و استعارات:۔[ترمیم]

فن شعر میں تشبیہ و استعارہ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اس سے شعر کے حسن و دلکشی میں بے حد اضافہ ہوتا ہے۔ تشبیہ و استعارہ زندگی کے ٹھوس مادی حقائق اور تلخ تجربات کو جمالیاتی پیکر میں، ڈھالنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ آتش نے اپنے تجربات و احساسات کے اظہار کے لیے جہاں بھی اس وسیلے کی تلاش کی ہے وہاں اُن کے ہاں اپنی شخصیت کے وجدانی اور جمالیاتی، عناصر کی مدد سے تشبیہات و استعارات کے حسن کاری نمایاں طور پر موجود ہے۔

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبر و کرتے

ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے

کسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کا

کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا

دور سے کوچہ دلدار کو کھڑا تکتا ہوں

نہ تو دیوار کا تکیہ ہے نہ در کا پہلو

لفظی صنعت گری:۔[ترمیم]

آتش نے جہاں جہاں فارسی زبان استعمال کی ہے۔ وہاں بھی ذوق سلیم کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ان کی لفظی صنعت گری کے باوجود شعر کے حسن اور تاثے رکو قائم رکھاہے۔ وقار عظیم اس بارے میں لکھتے ہیں،
لکھنؤ ¿ی شاعر ی کی پوری عمارت لفظوں کی بنیاد پر کھڑی ہے لفظی صنعت گری نام ہے اور اس صنعت گری کے برتنے میں کمال حاصل کرلینا شاعرانہ کمال کی دلیل ہے۔۔۔۔۔ آتش کی شاعری کا خاصہ بڑا حصہ اس طرح کی لفظی بازی گری کا نمونہ ہے۔“

جو دیکھے تیری زنجیر زلف کا عالم

اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے

وہ بادہ کش ہوں مری آواز پا کو سن کر

شیشو ں نے سر حضوری ساغر جھکا دیے

عشقیہ شاعری:۔[ترمیم]

آتش بنیادی طور پر عشق و عاشقی کے شاعر ہیں لیکن ان کی عشقیہ شاعری میں وہ رکاکت اور ابتذال نہیں جو عام لکھنوی شعراءکے ہاں موجودہے۔ اس کے برعکس ان کے ہاں تہذیب اور نفاست کا احساس ہوتا ہے وہ محبوب کے کاکل و رخسار کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے احساسات و جذبات کی بھی ترجمانی ان کے ہاں ملتی ہے لیکن عامیانہ پن سے وہ اپنے دامن کو آلودہ نہیں ہونے دیتے۔ ان کا محبوب شائد بازاری نہیں اسی لیے ان کی شاعری میں جنسیت کی کار فرمائی کا ِ احساس بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس میں ابتذال اور سوقیانہ پن نہیں ہے بلکہ جنس کا صحت مند تصور ان کے ہاں ملتا ہے۔

آتش کا محبوب بھی کوئی تخیلی مخلوق نہیں بلکہ ہماری ہی دنیا کا جیتا جاگتا انسا ن ہے جو خود بھی محبت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی محبت میں ہوسناکی نہیں بلکہ اس میں سچائی اور خلوص کی آنچ موجود ہے۔

چمن میں شب کو وہ شو خ بے نقاب آیا

یقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا

خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یا رہمیں تھے

یوسف تھا اگر تو ُ تو خریدار ہمیں تھے

اخلاقی شاعری:۔[ترمیم]

آتش کو اخلاقی شاعری کا بادشاہ کہا گیا ہے۔ اور اسی خصوصیت نے ان کے کلام میں ایسے اشعار کا بیش بہا خزانہ جمع کر دیا ہے اور وہ ایسی سچائیوں کا آئینہ بھی بنتے ہیں کہ سننے والوں نے انہیں خرزجاں بنایا ہے۔ آتش کے ایسے شعروں کو آتش کے رندانہ اور قلندرانہ مزاج اور لکھنؤ کے پاکیزہ اور شائستہ تہذیبی مزاج کی ہم آہنگی کی بدولت ضرب المثل کی حیثیت اور مقبولیت حاصل ہو گئی ہے۔ چند اشعار پیش خدمت ہیں،

وفا سرشت ہوں شیوہ ہے راستی میرا

نہ کی وہ بات جو دشمن کو ناگوار ہوئی

محبت سے بنا لیتے ہیں اپنا دوست دشمن ک

جھکاتی ہے ہماری عاجزی سرکش کی گردن کو

عجب نعمت عطا کی ہے خدا نے اہل غیرت کو

عجب یہ لوگ ہیں غم کھا کے دل کو شاد کرتے ہیں

مرصع سازی:۔[ترمیم]

آتش کے نزدیک شاعری مرصع سازی ہے جس طرح مرصع ساز نگینوں کو جوڑ کر حسن پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح شاعر الفاظ کی بندش سے نگینوں کو جڑنے کا کام لیتاہے۔ آتش کے کلام میں بھی ترشے ہوئے الفاظ آبدار موتی کی طرح لڑی میں پرئو ے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اور اکثر اشعا ر میں روانی، موسقیت کی حد تک پہنچ گئی ہے۔

بندش الفاظ جڑنے میں نگوں سے کم نہیں

شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا

نشاطیہ انداز:۔[ترمیم]

آتش کی شاعری میں نہ شدید غم ہے نہ لکھنؤ جیسی خوشی اور سرمستی ہے ان کی شاعری میں معتدل قسم کا انبساط، سرور اور ایک خاص قسم کی راحت کا احساس ہے ان کے یہاں مہذب قسم کی زندہ دلی ہے پر امید ہونے کے ساتھ ساتھ عمل کی تعلیم اور تلقین پائی جاتی ہے۔

ہوائے دور مئے خوشگوار راہ میں ہے

خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

مجموعی جائزہ:۔[ترمیم]

تذکرہ نگاروں اور جدید نقادوں نے آتش کے کلام کی تعریف کی ہے۔ استاد مصحفی نے اپنے شاگرد کو عظیم شاعر کہا ہے۔ آزاد اور عبد السلام ندوی نے آتش کی شاعری میں سادگی، روانی اور ترنم کا ذکر خاص طور پر کیا ہے

تاریخ ادب اردو میں رام بابو سکسینہ لکھتے ہیں،

”میر و غالب کے بعد اگر کسی کا مرتبہ ہے تو وہ آتش ہیں۔“

مزید لکھتے ہیں کہ:۔ ” آتش کے ہاں صفائی اور محاورات کا بہترین تصرف ہے۔“

بقول فراق: ”آتش کے یہاں دو طرح کے اشعا ر ہیں ایک وہ جن میں آتش کی انفرادی گرما گرمی اور کڑک اور دوسرے وہ جن میں آتش نے مصحفی کے رنگ کو چمکایا ہے۔“

آخر میں ڈاکٹر ابوللیث صدیقی کی رائے بھی سنتے ہیں،

” آتش کے یہاں عام لکھنوی رنگ کے اشعار کافی ہیں لیکن اکثر اشعار میں درد و تاثر ہے۔“

مزید دیکھیے[ترمیم]