خواجہ غلام محی الدین غزوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ غلام محی الدین غزنوی نقشبندی (نیریاں شریف)

ولادت[ترمیم]

خواجہ غلام محی الدین غزنوی افغانستان کے مروم خیز محلہ غزنی میں 1320ھ؍1902ء میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام خواجہ محمد اکبر خاں تھا۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم اپنے ماموں مولانا گل محمد صاحب سے حاصل کی۔ اوائل عمر میں اخروٹ کی تجارت کیا کرتے تھے دینداری کا ماحول شروع سے ہی ملا رات کو عبادت الٰہی میں مصروف رہتے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

ایک دفعہ سر راہ بابا اقبال سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے استفسا ر پر بتایا کہ میں اپنے پیر و مرشد خواجہ محمد قاسم موہڑوی کی خدمت میں حاضری دینے جا رہا ہوں آپ نے اس نام میں اتنا کیف و سرور محسوس کیا کہ جو کچھ جیب میں تھا، نکال کر بابا اقبال کو دے دیا اور کہا کہ غزنی کے ایک مسافر کا سلام اور یہ نذرانہ ان کی خدمت میں پیش کردینا، ’’جب خواجہ محمد قاسم کی خدمت میں با با اقبال نے وہ نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے فرمایا: دوبارہ ملاقات ہو تو اس شخص سے کہنا کہ : ’’ہمیں تمہاری ضرورت ہے نذر و نیاز کی ضرورت نہیں ہے‘‘ یہ سنتے ہی بارگاہ شیخ میں حاضر ہو کر بیعت ہوئے اور واپس آ گئے کاروبار تجارت میں نقصان ہوا جب تین سو روپے باقی رہ گئے تو بارگاہ شیخ میں حاضر ہوئے اور رقم پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ اسے بطور امانت رکھ لیں تاکہ بوقت ضرورت کسی سے مانگنے کی نوبت نہ آئے۔ مرشد کامل نے وہ رقم فقراء میں تقسیم کردی جس سے آپ حددرجہ پریشان ہوئے۔ باباجی موہڑوی نے کیفیت دیکھی تو فرمایا: پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں، میں نے تمہارے لیے ایسا سودار کھا ہوا ہے جس کے خرید مشرق اور مغرب سے تمہارے پاس پہنچیں گے۔‘‘ اس فرمان سے اطمینان قلبی حاصل ہو گیا اور آپ یک سوئی سے شیخ کی خدمت اور عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔

نیریاں شریف آمد[ترمیم]

ب رہان الواصلین خواجہ غلام محی الدین غزنوی بارہ سال تک منازل طریقت طے کرنے کے بعد مرشد کامل نے حکم دیا کہ آزد کشمیر کے بے آباد مقام ڈناپوٹھی میر خاں( موجودہ نیر یاں شریف ) جاکر رشد وہدایت کا فریضہ انجام دو، یہ مقام جہاں دن کے وقت بھی جاتے ہوئے لوگ گھبراتے تھے آپ کی آمدسے اس طرح آباد ہوا کہ رات کے وقت بھی وہاں کی فضا ذکر و فکر کرنے والوں کے دم قدم سے معمور رہتی۔ ہزاروں افراد آپ کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کر کے معصیت و نافرمانی کی زندگی سے تائب ہو گئے۔ آپ نے رولپنڈی ،کیمبل پور، مظفر آباد، مردان، پوٹھوہار، میر پور، جہلم اور ہزارہ کے علاقوں کے متعدد دور ے کیے، عوام الناس کو اتباع شریعت کی تلقین کی۔

وفات[ترمیم]

غلام محی الدین غزنوی نے 28 ربیع الاول 1395ھ 11/اپریل 1975ء کو نیریاں شریف (تراڑکھل۔ آزاد کشمیر) میں وفات پائی لوگ آج بھی آپ کے مزار سے سکونِ قلبی حاصل کرتے ہیں۔

خلفائے کرام[ترمیم]

آپ نے تیس حضرات کو خلافت عطا فرمائی چند حضرات کے اسماء یہ ہیں :۔ 1۔مولانا مفتی پیر ہدایت الحق صاحب۔ مہتمم مدرسہ حقائق العلوم، حضرو۔* 2۔خواجہ فیض محمد آف تتا پانی۔3۔پیرصوفی غلام محمد صاحب، ساہیوال۔ 4۔صوفی پیر محمد شفیع، مین بازار، گجرخاں۔ 5۔خواجہ محمد امیر، افغانستان۔ 6۔حضرت خواجہ علامہ پیر علاو الدین صدیقی 7۔خواجہ پیر صوفی غلام سرور نقشبندی ڈسکہ،سیالکوٹ( یہ حقیقت میں پیر علاو الدین صدیقی کے خلیفہ ہیں۔)

اولاد[ترمیم]

1935ء میں آپ کی پہلی شادی ہوئی جس سے دو صاحبزادے ہیں

دوسری بیوی سے چار صاحبزادے ہیں:

  • امام ربانی فاروقی
  • فضل ربانی زاہدی
  • غلام ربانی*
  • شیر ربانی

تیری شادی سے صرف ایک صاحبزادے ہیں۔

  • شمس العارفین۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]