معین الدین چشتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری
Dargah of moinuddin chishti.jpg
مزارِ معین الدین چشتی، اجمیر، بھارت
مذہب اسلام
سلسلہ سلسلہ چشتیہ
ذاتی تفصیل
پیدائش رجب 537ھ/ 2 فروری 1143ءبمقام چِشت، سیستان، ایران[1]
انتقال رجب 633ھ/ 15 مارچ 1236ء
(مدت حیات: 93 سال شمسی، 96 سال قمری)
اجمیر، راجستھان، دہلی سلطنت
مقام استراحت ضلع اجمیر، راجستھان، بھارت
مزید معلومات
خطاب •غریب نواز
•سلطان الہند
شیخ
خلیفہ
پیشرو خواجہ عثمان ہارونی
جانشین قطب الدین بختیار کاکی
مذہبی زندگی
طلباء قطب الدین بختیار کاکی
نظام الدین اولیاء
بابا فرید الدین گنج شکر
نصیر الدین محمود چراغ دہلوی

سُلطان الہند حضرت خواجہ سیّد محمد معین الدین چشتی اجمیری ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے بانی ہیں، آپ قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید الدین گنج شکر اور نظام الدین اولیاء جیسے عظیم الشان پیرانِ طریقت کے مرشد ہیں۔ غریبوں کی بندہ پروری کرنے کے عوض عوام نے آپ کو غریب نواز کا لقب دیا جو آج بھی زبان زدِ عام ہے۔

ولادت[ترمیم]

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۱۴ رجب المرجب ۵۳۶ ھ بمطابق 1141 عیسوی (بروز پیر ۱۴ رجب ۵۳۰ھ مطابق 1135ء۔[2])کو جنوبی ایران کے علاقے سیستان آپ ایران میں خراسان کے نزدیک سنجر نامی گاؤں کےایک امیر گھرانے میں پیدا ہوئے۔معین الدین کا بچپن میں نام حسن تھا ۔ آپ نسلی اعتبار سے نجیب الطرفین صحیح النسب سید تھے آپ کا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سےامیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سےجا ملتا ہے۔ آپ کے والد گرامی خواجہ غیاث الدین حسین امیر تاجر اور با اثر تھے۔ خواجہ غیاث صاحب ثروت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عابد و زاہد شخص بھی تھے۔ دولت کی فراوانی کے باوجود معین الدین چشتی بچپن سے ہی بہت قناعت پسند تھے۔ معین الدین کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی بی بی ماہ نور ہے۔

نسب[ترمیم]

خواجہ معين الدين چشتی غریب نواز کا شجرہ نسب حضرت علی سے جا ملتا ہے۔آپ کے والد و والدہ سید گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کا شجرہ نسب یہ ہے: معین الدین بن سید غیاث الدین بن سید کمال الدین بن سید احمد حسین بن سید طاہر بن سید عبد العزیز بن سید ابراہیم بن سید محمد بن امام حسن اصغر بن امام علی نقی بن محمد تقی ابن علي موسی رضا بن موسی کاظم ابن جعفر صادق ابن محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی[3][4]۔

تاریخ کے آئنے میں[ترمیم]

  • والد حضرت امام حسین اور والدہ امام حسن کی اولاد میں سے ہیں اسی طرح آپ حسنی وحسینی سید ہیں ۔
  • عمر مبارک 15 سال تھی جب آپ کے والد کا وصال ہوا ۔
  • والد کا مزار شہر بغداد میں ہے ۔
  • پیر ومرشد کا نام حضرت خواجہ عثمان ہارونی ہے ،ان کا مزار مکہ معظمہ میں ہے ۔
  • آپ پیر ومرشد کے ساتھ روضہ رسول پر گئے اور کعبۃ اللہ کی زیارت کی ۔ حضور ﷺ کے حکم پر 588ء میں ہندوستان تشریف لائے ۔
  • ہندوستان کی تشریف آوری کے موقع پر مریدین ومعتقدین کی تعداد 40 تھی ۔
  • جب آپ تشریف لائے اس وقت اجمیر میں پر تھوی راج چو ہان کی حکومت تھی ۔
  • آپ نے دو شادیاں کیں ایک بیوی کا نام عصمت اللہ ہے جبکہ دوسری بیوی کا نام امت اللہ ہے ۔
  • آپ کے تین فر زند اور ایک بیٹی تھی ۔ حضرت خواجہ فخر الدین جن کا مزار اجمیر سے ساٹھ کلو میڑ دور درواڑ میں ہے ۔
  • حضرت خواجہ ابو سعید چشتی جن کا مزار احاطہ درگاہ شاہی گھاٹ پر ہے ۔ خواجہ حسام الدین ایام جوانی میں ہی مردان غیب میں شامل ہو گئے تھے ۔
  • آپ کی صاحبزادی کانام بی بی حافظ جمال ہے ۔

القابات[ترمیم]

معین الحق، حجۃ الاولیاء، سراج الولیاء، فخر الکاملین، قطب العارفین، ہند الولی، عطاء رسول، تاج اولیاء، شاہ سوار قاتل کفار، مغيث الفقراء او معطي الفقراء، سلطان الہند[5]، ولی الہند، ہند النبی‏ ، وارث النبی فی الہند ، خواجہء خواجگان ‏، خواجہ اجمیری‏ ، خواجہ غریب نواز ، امام الطریق ، خواجہ بزرگ ، پیشواء مشایخ ہند ، شیخ الاسلام، نائب النبی فی الہند[6]

مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

بچپن[ترمیم]

جب آپ کی عمر صرف 15 سال تھی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ایسے لمحات میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی نور نے بڑی استقامت کا ثبوت دیا اور بڑے حوصلے کے ساتھ بیٹے کو سمجھایا اور کہا:
”فرزند! زندگی کے سفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے اگر تم ابھی سےاپنی تکلیفوں کا ماتم کرنے بیٹھ گئے تو زندگی کے دشوار گزار راستے کیسے طے کرو گے۔ تمہارے والد کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کرے۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول کے لیے ہی صرف کر دینی چاہئیں“۔
مادر گرامی کی تسلیوں سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سےعلم حاصل کرنے لگے۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سے ایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور بھی خالق حقیقی سے جاملیں۔ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اس دنیا میں اکیلے رہ گئے۔

اجمیر شریف میں غریب نواز کا مزار

والد گرامی کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنے والی چکی آپ کو ورثے میں ملی۔ والدین کی جدائی کے بعد باغبانی کا پیشہ آپ نے اختیار کیا۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ آپ کو اس کا بڑا افسوس تھا لیکن یہ ایک ایسی فطری مجبوری تھی کہ جس کا بظاہر کوئی علاج نہ تھا۔ ایک دن خواجہ معین الدین چشتی اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ ادھر سے مشہور بزرگ ابراہیم قندوزی کا گزر ہوا۔ آپ نے بزرگ کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے پاس گئےاور ابراہیم قندوزی کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ ابراہیم قندوزی ایک نوجوان کےاس جوش عقیدت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے شفقت سے آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگے جانے لگے تو آپ نے ابراہیم قندوزی کا دامن تھام لیا۔ حضرت ابراہیم نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا:
اے نوجوان! ”آپ کیا چاہتے ہیں؟“
خواجہ معین الدین چشتی نے عرض کی کہ
”آپ چند لمحے اور میرے باغ میں قیام فرمائیے۔ کون جانتا ہے کہ یہ سعادت مجھے دوبارہ نصیب ہوگی کہ نہیں“۔
آپ کا لہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ ابراہیم قندوزی سے انکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئے۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سے بھرے ہوئے دو طباق معین الدین چشتی نے ابراہیم قندوزی کے سامنے رکھ دئیے اور خود دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ ابراہیم قندوزی نے اپنے پیرہن میں ہاتھ ڈال کر جیب سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر معینہ الدین کی طرف بڑھایا اور فرمایا
”وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے“۔ اس ٹکڑے کا حلق سے نیچے اترنا ہی تھا کہ معین الدین چشتی کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے کائنات کی ہر شے بے معنی ہے۔

علوم ظاہری[ترمیم]

بعدازاں آپ نے سب کچھ اللہ کی راہ میں لُٹانے کے بعد تحصیل علم کے لیے خراساں کو خیرباد کہہ دیا اور آپ نے سمرقند بخارا کا رُخ کیا جو اس وقت علوم و فنون کےاہم مراکز تصور کئے جاتے تھے۔ یہاں پہلے آپ نے قرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تفسیرفقہحدیث اور دوسرے علوم ظاہری میں مہارت حاصل کی۔

علوم باطنی[ترمیم]

علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ نے مرشد کامل کی تلاش میں عراق کا رخ کیا۔ اپنے زمانے کے مشہور بزرگ خواجہ عثمان ہارونی کی خدمت میں آئے خواجہ معین الدین چشتی اپنے مرشد کی خدمت میں تقریباً اڑھائی سال رہے۔ آپ پیرو مرشد کی خدمت کے لیے ساری ساری رات جاگتے رہتے کہ مرشد کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے۔

سرورِ کائنات کے روضہ اقدس کی حاضری ہوئی حضرت عثمان ہارونی نے خواجہ معین الدین چشتی کو حکم دیا۔
”معین الدین! آقائے کائنات کے حضور سلام پیش کرو۔
خواجہ معین الدین چشتی نے گداز قلب کے ساتھ لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
”السلام علیکم یا سید المرسلین۔“ وہاں موجود تمام لوگوں نے سنا۔ روضہ رسول سے جواب آیا۔
”وعلیکم السلام یا سلطان الہند“۔

اسفار[ترمیم]

سفر بغداد کے دوران آپ کی ملاقات شیخ نجم الدین کبریٰ سے ہوئی اولیائے کرام میں شیخ نجم الدین کبریٰ کا مقام بہت بلند ہے۔ معین الدین چشتی اڑھائی ماہ تک شیخ نجم الدین کبریٰ کے ہاں قیام پزیر رہےاور ایک عظیم صوفی کی محبتوں سے فیض یاب ہوئے۔ اس کے بعد معین الدین چشتی بغداد میں شیخ عبدالقادر جیلانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کچھ عرصہ یہاں قیام کیا۔ پھر آپ تبریز تشریف لے گئےاور وہاں خواجہ ابو سعید تبریزی سے فیض حاصل کیا۔ ابو سعید تبریزی کو تصوف کی دنیا میں ہمہ گیر شہرت حاصل ہے۔ چند دن یہاں گزارنے کے بعد آپ اصفہان تشریف لے گئے۔ وہاں مشہور بزرگ شیخ محمود اصفہانی کی محبت سے فیض یاب ہوئے۔ جب آپ اصفہان سے روانہ ہوئے تو قطب الدین بختیار کاکی جو ابھی نوعمر تھے آپ کے ساتھ ہوئےجو بعد میں تاجدار ہند کہلائے۔ آپ گنج شکر بابا فرید کے مرشد اور نظام الدین اولیاء کے دادا مرشد ہیں۔ بہرکیف معین الدین چشتی اصفہانسےخرقان تشریف لےآئے یہاں آپ نے دو سال وعظ فرمایا اور ہزاروں انسانوں کو راہ راست پر لائے۔ پھر ایران کے شہر استرآباد تشریف لےآئےان دنوں وہاں ایک مرد کامل حضرت شیخ ناصر الدین قیام پزیر تھے۔ جن کا دو واسطوں سے سلسلہ بایزید بسطامی سے جا ملتا ہے چند ماہ یہاں حضرت شیخ ناصرالدین سے روحانی فیض حاصل کیا۔ پھر ہرات کا قصد کیا۔ یہ شہر ایرانی سرحد کے قریب افغانستان میں واقع ہے۔ یہاں خواجہ عبداللہ انصاری کے مزار مبارک پر آپ کا قیام تھا۔ بہت جلد سارے شہر میں آپ کے چرچے ہونے لگے۔ جب بات حد سے بڑھ گئی اور خلق خدا کی ہر لمحے حاضری کی وجہ سے وظائف اور عبادت الٰہی میں فرق پڑنے لگا تو آپ ہرات کو خیرباد کہہ کر سبزوار تشریف لےگئے۔

وصال[ترمیم]

ایک روایت کے مطابق تاريخ الوفاة : 6 رجب627ہ 661هـ-1230 م 97 سال حیات رہے جبکہ دوسری روایت میں 103 سال کی عمر میں آپ کا وصال 633ھ ْ 1229ء میں اجمیر میں ہوا۔[7]

تصنیفات[ترمیم]

  • انیس‌الارواح : ‌ یا انیس‌ دولت‌، جو ملفوظات‌ خواجہ عثمان‌ ہاروَنی‌تحریر کئے
  • گنج‌ اسرار ، مجموعہ دیگر از ملفوظات‌ خواجہ عثمان‌ ہارونی‌ اور شرح‌ مناجات خواجہ عبداللّه‌ انصاری‌ ہیں
  • دلیل‌العارفین،یہ کتاب‌ مسائل طہارت ‌، نماز ، ذکر، محبت‌، وحدت‌ و آداب‌ سالکین ہیں
  • بحرالحقائق ‌، ملفوظات‌خواجہ معین‌الدین‌ چشتی خطاب‌ ہے خواجہ قطب‌الدین‌ بختیار
  • اسرارالواصلین ، اس میں شامل‌ آٹھ خطوط جو خواجہ قطب‌الدین‌ اوشي بختیار کو لکھے
  • رسالہ وجودیہ
  • کلمات‌ خواجہ معین‌الدین‌ چشتی
  • دیوان مُعین الدين چشتي ‌،اس میں شامل‌ غزلیات فارسی‌

خلفاء[ترمیم]

معین الدین کے کئی خلفاء ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

  1. قطب الدین بختیار کاکی (خلیفہ و جانشین)
  2. فريد الدين مسعود گنج شکر
  3. نظام الدين اولياء مشہور خلیفہ
  4. ابو الحسن يمين الدين خسرو
  5. خواجہ بنده نواز گیسو دراز
  6. السید اشرف جہانگیر سمنانی
  7. عطاء حسين فانی
  8. شاه جمال بابا
  9. شيخ حميد الدين صوفی سعيد ناگوری المعروف سلطان التاركين شيخ فخرالدين اجميری
  10. بی بی حافظہ جمال دختر شان
  11. خواجہ محمد يادگار سبزواری
  12. شمس الدين التتمش بادشاه ہندوستان
  13. شاه فخرالدين گرديزی
  14. مولانا ضياء الدين بلخی
  15. شہاب الدين محمد بن سام غوری فاتح دہلی
  16. پير حاجی سيد علی شاه بخاری

شجرہ طریقت خواجہ معین الدین چشتی[ترمیم]

پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں بعض بزرگان دین نے خراسان کے ایک قصبہ چشت میں رشد و ہدایت کا ایک سلسلہ شروع کیا٬ جو دور دور تک پھیلتا چلا گیا٬ یہ خانقاہی نظام طریقہ سلسلہ چشتیہ کے نام سے موسوم ہوا٬

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "مقامِ ولادت". 
  2. تاریخِ ولادت
  3. معین الاولیاء ص38،37
  4. سلطان الہند خواجہ غریب نوازمحمد آصف حسین انصاری صفحہ3
  5. سلطان الہند خواجہ غریب، مصنف نواز محمد آصف حسین انصاری صفحہ۔4
  6. شعری اداری
  7. وصال

بیرونی روابط[ترمیم]