ممشاد علوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(خواجہ ممشاد علوی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خواجہ ممشاد علوی دینوری آپ کا شمار جلیل القدر مشائخ و صاحبان علوم ظاہری و باطنی میں ہوتا ہے۔

لقب[ترمیم]

ان کا لقب کریم الدین آپ ابو ہبیرہ بصری کے مرید خاص تھے۔

ولادت[ترمیم]

آپ ایران کے دینور علاقے میں پیدا ہوئے۔ یہاں سے عراق بغداد علم حاصل کرنے کی غرض سے گئے جو اُن دنوں علوم و فنون کا مرکز ہوا کرتا تھا اور ساری دنیا سے طلباء یہاں آیا کرتے تھے۔ آپ دنیاوی دولت رکھتے تھے اور سخی بھی تھے لہٰذا ضرورت مندوں کا خیال رکھتے تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ ابو ہبیرہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید خاص تھے۔جب مزاج پر روحانیت کا غلبہ ہوا تو تمام دولت غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کردی۔ باطنی اشارہ پاکر ہبیرہ بصری سے بیعت کی اور عبادت و ریاضت کے بعد باطنی کمال کی تکمیل ہوئی۔ مرشد نے اپنا کمبل عطا فرمایا اور اپنا جانشین بنایا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار جلیل القدر مشائخ و صاحبان علوم ظاہری و باطنی میں ہوتا ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ سے عجیب و غریب کرامات ظاہر ہوئیں چنانچہ کہا جاتا ہے کے آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی ولادت کے دن سے ہی صائم الدہر تھے اور ایام شیر خوارگی میں بھی دن کے وقت دودھ نہ پیا کرتے۔ [1]

سخاوت[ترمیم]

ممشاد علوی دینوری ابتدائی زندگی میں بڑے صاحب ثروت اور دنیا دار تھے۔مگر جب اللہ سے لگاؤ ہوا تو سب کچھ غریبوں میں تقسیم کر دیا۔ اور مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے اور فرمایا کہ اے اللہ میں نے اپنے عزیزو اقارب کو تیرے سپرد کر دیا ہے۔اب انہیں رزق دینا تیرا کام ہے۔
ایک دن دوران سفر ایک شخص کو دیکھا کہ سر پر کھانا رکھے تیز تیز جا رہا تھا ۔آپ نے پوچھا تم کون ہو اور یہ کھانا کس کےلیے ہے۔اس شخص نے کہا میں رجال الغیب سے ہوں ۔ یہ کھانا تمہارے اہل و عیال کے لیے ہے۔ مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ ہر روز انہیں کھانا پہنچاؤں۔

علوی وجہ تسمیہ[ترمیم]

جس دن ممشاد علوی دینوری نے خرقہ خلافت پہنا ۔خواجہ ہبیرہ بصری نے آپ کو فرمایا اے علو ! جا تمہارا کام بھی علو (اعلٰی) ہو گیا۔ وضو کر کے ہمارے پاس آؤ۔ ممشاد علوی دینوری وضو کرکے آئے تو ہبیرہ بصری نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور آسمان کی طرف منہ کر کے کہا اے اللہ علو کو درویشی عطا فرما دے۔یہ بات سنتے ہی ممشاد علوی دینوری بیہوش ہو گئے۔ چند لمحوں کے بعد ہوش میں آئے تو پھر بیہوش ہو گئے۔اس طرح چالیس با ر بیہوش ہوئے۔آخرہبیرہ بصری نے اپنا لعاب دہن منہ میں ڈالا تو پوری طرح ہوش میں آگئے اور آپ کے قدموں میں گر گئے۔ ہبیرہ بصری نے فرمایا علو تمہیں اپنے مطلب کا دیدار ہو گیا ہے۔ ممشاد علوی دینوری نے عرض کیا کہ میں تیس سال تک مجاہدہ کرتا رہا ، ریاضتیں کیں مگر یہ مقام نہ پا سکا۔آج آپ کی وساطت سے ایک لمحہ میں پہنچ گیا ہوں اور بے پناہ دولت ملی ہے۔ہبیرہ بصری نے آپ کو اپنا خرقہ پہنایا اور اپنے مصلیٰ پر بٹھا کر ارشاد و سلوک کی اجازت دی۔ [2]
تذکرۃ الاصفیاء اور مشائخ چشت کے بعض دوسرے رشحات میں لکھا ہے کہ علی دینوری رحمۃ اللہ علیہ اور ممشاد دینوری رحمۃ اللہ علیہ دونوں ایک ہی شخصیت ہیں اور انہیں ممشاد علو دینوری رحمۃ اللہ علیہ لکھا جاتا ہے لیکن دارا شکوہ کے مطابق نفحات الانس اور بعض دوسری کتب سے یہ تفہیم ہوتی ہے کہ علو دینوری رحمۃ اللہ علیہ اور ممشاد دینوری رحمۃ اللہ علیہ علاحدہ علاحدہ شخصیات ہیں چنانچہ دارا شکوہ نے ممشاد دینوری رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ سلسلہ سہروردیہ کے مشائخ عظام میں علاحدہ سے کیا ہے۔ دارا شکوہ نے انہیں سیدالطائفہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا مرید بتایا ہے اور ان کا سال وفات 298ھ تحریر کیا ہے۔ [3] [4]

وصال[ترمیم]

آپ 4 محرم الحرام 298ھ کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ دینور میں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خزینۃ الاصفیاءجلد دوم،غلام سرور لاہوری،صفحہ 36مکتبہ نبویہ لاہور
  2. خزینۃ الاصفیاءجلد دوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 35مکتبہ نبویہ لاہور
  3. خزینۃ الاصفیاءجلد دوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 37مکتبہ نبویہ لاہور
  4. سفینۃ الاولیاء : از شہزادہ دارا شکوہ قادری