الخوارزمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(خوارزمی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
محمد ابن موسیٰ الخوارزمی
(عربی میں: محمد بن موسی خوارزمی ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
1983 CPA 5426 (1).png
سوویت اتحاد سے 6 ستمبر 1983 کو الخوارزمی کے اعزاز میں ان کی 1200 ویں سالگرہ (اندازہً) پر جاری ہونے والا ایک ڈاک ٹکٹ۔

معلومات شخصیت
پیدائش 780ء
خیوا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 850ء
بغداد[1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل ایرانی
عملی زندگی
پیشہ ریاضی دان،  ماہر فلکیات،  جغرافیہ دان،  فلسفی،  مترجم،  منجم،  مؤرخ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلکیات،  ریاضی،  الجبرا،  ہندی اعداد،  حساب،  مثلثیات،  جغرافیہ،  زمینیات  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت بیت الحکمت  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت ریاضی کے کارہائے نمایاں
کارہائے نمایاں الكتاب المختصر في حساب الجبر والمقابلۃ  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد اللہ بن محمد بن موسیٰ خوارزمی نے عالمگیر شہرت پائی۔

نام[ترمیم]

ان کا نام ’’عبد اللہ بن محمد بن موسیٰ خوارزمی‘‘ ہے، خوارزم سے تعلق رکھتے تھے، کچھ مورخین نے ان کی پیدائش کاسن 780ء لکھا ہے۔، تاہم وہ المامون کے زمانے میں تھے، بغداد میں رہے۔

وجہ شہرت[ترمیم]

خوارزمی کی وجہ شہرت ان سے زیادہ ان کے آثار ہیں اور ریاضی اور فلکیات میں شہرت پاکر ابھرے، خلیفہ المامون سے منسلک ہوئے جنہوں نے ان کا خوب اکرام کیا، “بیت الحکمہ” سے بھی منسلک ہوئے اور معتبر سائنسدانوں اور علما میں شمار ہوئے،

وفات[ترمیم]

ان کی وفات 232ھ کے بعد کے کسی سال میں ہوئی۔ آپ کی وفات 850ء میں ہوئی۔

تصنیفات[ترمیم]

انہوں نے بہت ساری اہم تصانیف چھوڑیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں :

  • الزیج الاول، الزیج الثانی جو ”السند ہند“ کے نام سے مشہور ہے،
  • کتاب الرخامہ، کتاب العمل بالاسطرلاب،
  • اور مشہورِ زمانہ ”کتاب الجبر والمقابلہ“ جسے انہوں نے لوگوں کے روز مرہ ضروریات اور معاملات کے حل کے لیے تصنیف کیا جیسے میراث، وصیت، تقسیم، تجارت، خرید وفروخت، کرنسی کا تبادلہ (ایکسچینج)، کرایہ، عملی طور پر زمین کا قیاس (ناپ)، دائرہ اور دائرہ کے قُطر(diameter) کا قیاس، بعض دیگر اجسام کا حساب جیسے ثلاثی، رباعی اور مخروط ہرم وغیرہ۔ ۔
  • اس میں سے ایک کارنامہ (صورۃ الارض) نامی کتاب کی تصنیف بھی ہے جس میں انہوں نے مختلف قدرتی اور آدم ساز (انسانوں کے بنائے ہوئے) خطے مثلاً پہاڑوں سمندروں، جزیروں، دریاؤں، نہروں اور شہروں کو ان کے ناموں کی ترتیب کے اعتبار سے ارضیاتی نقشہ جات میں وقت اور تصحیح کے ساتھ ذکر کیا ہے
  • وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے علمِ حساب اور علمِ جبر کو الگ الگ کیا اور جبر کو علمی اور منطقی انداز میں پیش کیا۔

وہ نہ صرف عرب کے نمایاں سائنسدانوں میں شامل ہیں بلکہ دنیا میں سائنس کا ایک اہم نام ہیں، انہوں نے نہ صرف جدید جبر کی بنیاد رکھی، بلکہ علمِ فلک میں بھی اہم دریافتیں کیں، ان کا زیچ علمِ فلک کے طالبین کے لیے ایک طویل عرصہ تک ریفرنس رہا، خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ریاضیاتی علوم میں یورپ کبھی بھی ترقی نہ کرپاتا اگر اس کے ریاضی دان خوارزمی سے نقل نہ کرتے، ان کے بغیر آج کے زمانے کی تہذیب، تمدن اور ترقی بہت زیادہ تاخیر کا شکار ہوجاتی۔

الخوارزم (لاطینی میں جو "الگورتہم" بنا) ان کے نام سے ماخوذ ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ربط : https://d-nb.info/gnd/118676180  — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb122220627 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. Knuth, Donald (1979). Algorithms in Modern Mathematics and Computer Science. Springer-Verlag. ISBN 0-387-11157-3. 24 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ.