خواص
خواص (Trait)اردو کے لفظ خاص اور خاصہ کی جمع ہے اور لغت کے مطابق [1] اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اپنے علم و فضل یا اثر و اقتدار وغیرہ کی بنا پر عام لوگوں سے امتیاز حاصل ہوتا ہے۔
خصلت؛ خاصیت؛ خاصہ؛ نشان؛ شباہت؛ پٹ؛ شائبہ خصوصیت یا امتیازی وصف۔ (قدیم) ہلکا سا حظ یا ذرا سی چاشنی۔[2] "خواص" (واحد: خاصیہ یا خاصہ) لغتِ عرب، علم المنطق، فلسفہ اور طب میں کسی بھی شے، ذات یا نوع کی ان خصوصی صفات، ذاتی اثرات اور امتیازی ویژگیوں کو ظاہر کرتا ہے جو اسے دیگر تمام اشیاء سے ممتاز کرتی ہیں۔[3][4]
"خواص" کا لغوی اور اشتقاقی پس منظر
[ترمیم]عربی زبان میں "خواص" (یا خواصّ) اسمِ جمع ہے جو "خاصّة" یا "خاصّية" کی جمع کے طور پر مستعمل ہوتا ہے، جبکہ "خصائص" کا لفظ "خصيصة" کی جمع ہے جو کسی شے کی منفرد صفت اور حد بندی کو ظاہر کرتی ہے۔[3][5] لغوی مآخذ کے مطابق کلمہ (خ-ص-ص) کا بنیادی مادہ کسی شے کو عام کے بالمقابل کسی ایک فرد یا نوع کے ساتھ مخصوص کرنے، انفرادیت بخشنے اور فضیلت دینے کے معانی کو ظاہر کرتا ہے۔[6][3]
"خاصہ" اور "خاصیہ" کا علمی الفرق
[ترمیم]علمائے اصطلاحات اور اطباء نے "خاصّہ" اور "خاصّية" کے استعمال میں ایک باریک فرق قائم کیا ہے:
- "خاصّہ": عرف میں ہر اس اثر اور صفت کو کہا جاتا ہے جو کسی شے کے ساتھ مخصوص ہو، خواہ اس اثر کا سبب معلوم ہو یا نا معلوم، جیسے انسان کے لیے لکھنا یا تعجب کرنا۔[3][7]
- "خاصّية": اطباء اور حکماء کے ہاں "خاصیہ" کا اطلاق ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں اثر تو معلوم اور محسوس ہو مگر اس کا سبب مخفی اور مجهول ہو ("السبب المجهول للأثر المعلوم")، جیسے بعض ادویہ اور عقاقیر کی باطنی جاذبیت یا اثر پذیری۔[3][8][7]
علم المنطق اور تعریفات میں خاصہ کا مقام
[ترمیم]علم المنطق میں مفرد کلی مفاہیم کی پانچ بنیادی اقسام (الكليات الخمس) تسلیم کی گئی ہیں، جو الجنس، النوع، الفصل، الخاصة اور العرض العام پر مشتمل ہیں۔[9][7]
منطقی الاصطلاح میں خاصہ کی تعریف
[ترمیم]منطقیین کے نزدیک "الخاصة" اس کلی عرضی مفهوم کو کہا جاتا ہے جو محض ایک ہی حقیقت اور نوع کے تمام یا بعض افراد پر بولا جائے اور دوسری حقائق کے افراد میں نہ پایا جائے، جیسے انسان کے لیے "الكاتب بالقوة" یا "الضاحك بالفعل"۔[10][11] اس تعریف میں فصل کی طرح خاصہ بھی کسی شے کو دیگر تمام چیزوں سے ممتاز کرتا ہے، مگر فصل شے کا ذاتى جزو ہوتا ہے جبکہ خاصہ اس کا عرضِ لازم یا مفارق ہوتا ہے۔[12][13]
"الرسم التام" اور "الرسم الناقص"
[ترمیم]منطق میں اشیاء کے تعارف اور شناختی معالم (المعرّف) کو بنانے میں خواص کا مرکزی کردار ہے:
فلسفہ اور علمی الاصطلاحات میں خاصہ کی اقسام
[ترمیم]علمی کتب اور فلسفیانہ شروح میں خاصہ کی ساخت اور شمولیت کے لحاظ سے متعدد اقسام بیان کی گئی ہیں:
- شاملہ اور غیر شاملہ: اگر خاصہ اپنی حقیقت کے تمام افراد کو احاطہ کرے تو اسے "شاملہ" کہتے ہیں (جیسے انسان کے لیے "الكاتب بالقوة") اور اگر صرف بعض افراد پر بولا جائے تو اسے "غیر شاملہ" کہا جاتا ہے (جیسے "الكاتب بالفعل")۔[10][14]
- الخاصة المطلقة اور الخاصة الإضافية: "خاصہ مطلقہ" وہ ہے جو کسی شے کو اس کی تمام مغائرات سے ممتاز کرے (جیسے انسان کے لیے الضحک)، جبکہ "خاصہ اضافی" کسی ایک نوع کو بعض دوسری انواع کے مقابلے میں ممتاز کرتی ہے (جیسے الماشی کا لفظ انسان کے لیے شجر کے مقابلے میں)۔[7]
- بسیطہ اور مرکبہ: خاصہ اگر مفرد کیفیت پر مبنی ہو تو "بسیطہ" کہلاتی ہے اور اگر متعدد عرضیات کا مجموعہ ہو کر ایک جگہ خاص بنے تو اسے "خاصہ مرکبہ" کہتے ہیں (جیسے بادی البشرۃ، مستقیم القامۃ اور عریض الاظفار کا مجموعہ)۔[8][7]
طب اور طبیعیات میں خواصِ اشیاء
[ترمیم]علمِ طب، نباتات اور طبیعیات میں اشیاء اور مرکبات کے خواص کا مطالعہ ایک اہم ترین بنیادی باب ہے۔[6][7]
"خواص العقاقير" اور ادویہ کے اثرات
[ترمیم]اطبائے اسلام کے ہاں "خواص العقاقير" سے مراد ادویہ، نباتات اور کیمیائی اجسام کی وہ باطنی قوتیں اور اثرات ہیں جو انسان کے بدن اور اعضاء پر مرتب ہوتے ہیں۔[6][7] طبی اصطلاح میں "ذو الخاصية" اس دوا کو کہا جاتا ہے جو اپنی خاص صورت اور جوہر کے ذریعے انسانی مزاج کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر شفا کا باعث بنے اور حیات کو فاسد نہ کرے۔[4][7]
طبیعی اجسام اور عناصر کے خواص
[ترمیم]طبیعیات کے دائرے میں اجسامِ طبیعیہ کی خواص کی تقسیم ان کی حرکات اور ہیئت کے اعتبار سے کی جاتی ہے:
- عناصر کے خواص: عناصرِ اربعہ میں سے آگ (النار) کا خاصہ "خفیف مطلق" (اوپر کی طرف حرکت) ہونا ہے، جبکہ زمین (الأرض) کا خاصہ "ثقیل مطلق" (نیچے کی طرف طبعی حرکت) ہونا ہے۔[17]
- طبیعی بالذات خصوصیات: مادی اجسام کے خواص میں ان کا حجم، تخلخل، تکاثف، امتداد اور پزیرائیِ ابعادِ ثلاثہ (طول، عرض، عمق) شامل ہیں۔[12][11]
نفوس اور ارواح کے باطنی خواص
[ترمیم]حکماء اور اربابِ معرفت کے نزدیک انسانی وجود کے مختلف مراتب اور لطائفِ باطنی کے بھی اپنے اپنے خاص خواص اور وظائف ہوتے ہیں۔[3][7]
نفوس کی انواع اور ان کے خاص خواص
[ترمیم]علومِ عقلیہ میں نفس کے مراتب کے خواص یوں ممتاز کیے گئے ہیں:
- النفس النباتي: اس کا خاصہ تغذیہ، نمو اور توليدِ مثل کا عمل سر انجام دینا ہے۔[18]
- النفس الحيواني: اس کا خاصہ الجزئیات کا ادراک کرنا اور ارادی حرکت پیدا کرنا ہے۔[19]
- النفس الإنساني (الناطقہ): اس کا خاصہ الکلیات کا ادراک، افکار اور معقولات کا استنباط کرنا ہے۔[18]
- النفس القدسية: اس کا خاصہ حدس کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہو کر حقائقِ کلیہ کو بغیر تکلف کے استحضار کرنا ہے۔[18]
ارواح اور اخروی نشأت کے خواص
[ترمیم]اربابِ کشف اور حکماء کے نزدیک دنیاوی وجود کے گھنے اور کثیف مادے کے مقابلے میں اخروی نشأت اور روحی عالم میں ارواح کے خواص غالب ہو جاتے ہیں، جس کی بنا پر ارواح لطیف، شفاف، نورانی اور بیک وقت متعدد مقامات پر تصرف کی صلاحیت رکھتی ہیں۔[3]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ خواص کا مطلب
- ↑ آن لائن قومی انگریزی اُردو لُغت، ادارۂ فروغِ قومی زبان اسلام آباد پاکستان
- 1 2 3 4 5 6 7 أبو البقاء الكفوي (1998)۔ الكليات معجم في المصطلحات والفروق اللغوية۔ بيروت: مؤسسة الرسالة۔ ج 1۔ ص 393
- 1 2 أحمد مختار عمر (2008)۔ معجم اللغة العربية المعاصرة۔ القاهرة: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 652
- ↑ أحمد مختار عمر (2008)۔ معجم الصواب اللغوي۔ القاهرة: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 342
- 1 2 3 مجمع اللغة العربية (1972)۔ المعجم الوسيط۔ القاهرة: مجمع اللغة العربية۔ ج 1۔ ص 238
- 1 2 3 4 5 6 7 8 9 مصطفى بن عبد الله الكاتب (1996)۔ كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم۔ بيروت: مكتبة لبنان ناشرون۔ ج 1۔ ص 734
- 1 2 3 المناوي (1990)۔ التوقيف على مهمات التعاريف۔ بيروت: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 161
- ↑ أبو البقاء الكفوي (1998)۔ الكليات معجم في المصطلحات والفروق اللغوية۔ بيروت: مؤسسة الرسالة۔ ج 1۔ ص 746
- 1 2 المناوي (1990)۔ التوقيف على مهمات التعاريف۔ بيروت: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 144
- 1 2 جلال الدين السيوطي (2004)۔ معجم مقاليد العلوم في الحدود والرسوم۔ القاهرة: مكتبة الآداب۔ ج 1۔ ص 120
- 1 2 الجرجاني (1983)۔ التعريفات۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 88
- ↑ أبو هلال العسكري (1991)۔ معجم الفروق اللغوية۔ قم: مؤسسة النشر الإسلامي۔ ج 1۔ ص 33
- 1 2 القاضي عبد النبي الأحمدنكري (2000)۔ دستور العلماء = جامع العلوم في اصطلاحات الفنون۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ ج 2۔ ص 51
- ↑ جلال الدين السيوطي (2004)۔ معجم مقاليد العلوم في الحدود والرسوم۔ القاهرة: مكتبة الآداب۔ ج 1۔ ص 34
- ↑ القاضي عبد النبي الأحمدنكري (2000)۔ دستور العلماء = جامع العلوم في اصطلاحات الفنون۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ ج 2۔ ص 98
- ↑ الجرجاني (1983)۔ التعريفات۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 158
- 1 2 3 الجرجاني (1983)۔ التعريفات۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 244
- ↑ الجرجاني (1983)۔ التعريفات۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 243