خود کشی پر مذہبی نقطہ ہائے نظر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خود کشی پر مختلف مذہب میں مختلف خیالات و نظریات پائے جاتے ہیں۔

ابراہیمی مذاہب[ترمیم]

یہودیت[ترمیم]

یہودیت میں خود کشی کو ناپسندیدہ مانا جاتا ہے اور اور خود کشی کرنے والے الگ قبرستان میں دفنایا جاتا ہے، اور اس کو کچھ ماتمی رسوم بھی حاصل نہین ہوتی ہیں۔ حالانکہ یہودیت میں خود کشی ثابت کرنا بہت مشکل ہے اور کسی بھی طرح خود کشی کو خود کشی نہ ماننے کی مختلف ترکیبیں کی جاتی ہیں جیسے کہ خود کشی کرنے والا شخص دماغی طور پر بیمار تھا، یا یہ کہ خود کشی کا ارتکاب کرتے ہی موت سے قبل اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہو گا ۔خود کی جان لینا جرم عظیم کا ارتکاب کرنے سے بہتر مانا جاتا ہے۔و2و اکثر علما کا ماننا ہے کہ درد سے بچنے کے لئے موت کو جلدی کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن تلمود اس مسئلہ میں زیادہ واضح نہیں ہے۔و3و خود کشی کرنے میں مدد کرنا یا مدد لینا دونوں گناہ ہیں اور کتاب احبار آیت 19:14 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس آیت کی تشریح میں کہا گیا ہے کہ گناہ کرنے پر اکسانا منع ہے اور جسمانی رکاوٹیں پیدا بھی جرم ہے۔و4و یہودیت میں بڑے پیمانے پر خودکشی کی ایک طویل تاریخ ہے جہاں دوسرے متبادل کی جگہ اس کو ترجیح دی جاتی ہے۔

عیسائیت[ترمیم]

انجیل میں خودکشی کی حرمت کے متعلق کچھ بھی مذکور نہیں ہے۔ انجیل خودکشی کی مذمت نہیں کرتا ہے اور انجیل میں ایسے لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے خودکشی کی ہے۔و7و و8و البتہ متعدد عیسائی نظریات میں خود کشی پسند نہیں کیا گیا ہے۔ عیسائیت میں یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ خودکشی کبھی نہ معاف ہونے والا گناہ ہے۔و9و

کاتھولک کلیسیا میں خود کشی کرنا گناہ ہے۔و10و لیکن اس جرم کی شدت اور اس کا گناہ حالات کے مد نظر مختلف ہوتا ہے۔ ابتدا میں کاتھولک کلیسا خودکشی کی لاش کو دفنانے سے منع کرتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔و11و

اسلام[ترمیم]

تمام مسلم علما کے نزدیک خود کشی حرام ہے۔ اسی طرح خودکش حملہ بھی ممنوع ہے۔و19و و20و و21و و22و و23و و24و

اور اپنی جانیں نہ قتل کرو۔ بیشک اللہ تم پر مہربان ہے


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]