خورشید احمد (جماعت اسلامی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پروفیسر خورشید احمد

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان۔ ماہر تعلیم، ماہر اقتصادیات، ہمہ گیر مصنف اور ایک مبلغ اسلام۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

آپ 23مارچ 1932 ء کودہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے قانون اور اس کے مبادیات میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اکنامکس اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جبکہ ایجوکیشن میں یونیورسٹی کی طرف سے انہیں اعزازی ڈگری عطا کی گئی۔ پروفیسر خورشید احمد 1949 ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے۔ 1953 ء میں ناظم اعلٰی منتخب کیا گیا۔ 1956 ء میں آپ جماعت اسلامی میں باضابطہ طور پر شامل ہو گئے۔

پروفیسرصاحب کی اسلام، تعلیم،عالمی اقتصادیات اور مجموعی اسلامی معاشرے کے حوالے سے بہت سا کام کیا۔ اور اسی وجہ سے انہیں بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔

خدمات[ترمیم]

پروفیسر خورشید احمد صاحب کی چیدہ چیدہ علمی خدمات کا اجمالی خاکہ اس طرح ہے۔

  • پروفیسر صاحب 1978 ء میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی رہے ہیں۔ وہ حکومت پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین بھی رہے ہیں۔
  • ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے 1955 ء سے لے کر 1958 ء تک کراچی یونیورسٹی میں پڑھایا۔
  • یونیورسٹی آف لیسٹر میں ریسرچ سکالر بھی رہے ہیں۔
  • 1983 ء سے 1987 ء تک آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس کے چیئرمین رہے۔
  • 1984 ء سے 1992 ءتک آپ انٹرنیشنل سنٹر فارریسرچ اِن اسلامک اکنامکس لیسٹر کے ایڈوائزری بورڈ کے ارکان رہے ہیں
  • 1979 ء سے 1983 ء تک شاہ عبد العزیز یونیورسٹی جدہ کے وائس پریزیڈنٹ رہے۔
  • 1974 ء سے 1978 ء تک اسٹینڈنگ کانفرنس آن جیوز، کرسچن، اینڈ مسلمزاِن یورپ برلن اینڈ لنڈن کے وائس پریذیڈنٹ رہے۔
  • پروفیسر صاحب Center for the study of islam and Christian - Muslim Relations, Silly Oak colleges, Birmingham, UK1976 - 78 کی ایڈوائزری کونسل کے ارکان بھی رہے ہیں۔
  • 1978 ء سے لے کر 1983 ء تک قومی ہجرہ کمیٹی کے رکن رہے۔
  • 1986 ء اور 1987 ء میں سوڈان کے اسلامی قوانین کا جائزہ لینے والی قانون دانوں کی کمیٹی کے رکن رہے۔
  • 1988 ء اور 1989 ء میں اسلامی ترقیاتی بینک جدہ کے ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی جائزہ کمیٹی کے ارکان رہے۔
  • 1985 ،1997 اور 2002 ء میں سینٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اورسینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور اقتصادی و منصوبہ بندی کے چیئرمین کے طور پر کام بھی کیا۔
  • پروفیسرخورشید دو اداروں کے بانی چیئرمین ہیں۔ ایک انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد، دوسرا لیسٹر(یوکے) کی اسلامک فاؤنڈیشن۔
  • اسلامک سنٹر زاریا (نائجیریا) ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، فاؤنڈیشن کونسل، رائل اکیڈمی فار اسلامک سولائزیشن عمان(اردن)کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن جبکہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی اور لاہور کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔

تصانیف اور اعزازات[ترمیم]

پروفیسر صاحب متعدد نظریاتی موضوعات پر مبنی رسائل وجرائد کی ادارت کرچکے ہیں۔ آپ نے اردو اور انگریزی میں سترکتابیں تصنیف کی ہیں۔ کئی رسائل میں اپنی نگارشات عطا کر چکے ہیں۔ آپ سوسے زائد بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز میں ذاتی حیثیت میں یا نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہوچکے ہیں۔ پہلی مرتبہ اسلامی معاشیات کو بطورعلمی شعبہ کے ترقی دی۔ اس کارنامے کے پیش نظر 1988 ء میں پہلا اسلامی ترقیاتی بینک ایوارڈ عطاکیا گیا۔ آپ کے کارناموں کے اعتراف میں 1990 ء میں شاہ فیصل بین الاقوامی ایوارڈ عطاکیا گیا۔ اسلامی اقتصادیات ومالیات کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں انہیں جولائی 1998 ء میں پانچواں سالانہ امریکن فنانس ہاؤس لاربوٰ یوایس اے پرائز دیاگیا۔ دوسری بہت سی مصروفیات کے علاوہ فی الوقت آپ جماعت اسلامی کے ترجمان ماہنامہ ترجمان القرآن کے مدیر ہیں۔