خوشاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خوشاب
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع ضلع خوشاب

خوشاب دریائے جہلم کے مغربی کنارے پر آباد صوبہ پنجاب کا ایک تاریخی قدیمی قطعہ ارض ہے۔ سرزمین خوشاب دریا، سرسبز میدان، کوہسار اورصحرا سے مزین ہے۔ صدیوں پرانے تاریخی شہر خوشاب کی تاریخ موہنجوڈرو اور ہڑپہ سے بھی پرانی ہے۔ خوشاب فارسی کے دو الفاظ ’’خوش‘‘ اور ’’ آب‘‘ کا مجمو عہ ہے جس کے معنی ’’میٹھا پانی‘‘ ہیں۔ سینہ بہ سینہ چلتی روایات کے مطابق یہاں سینکڑوں حملہ آور اور کئی بادشاہ وارد ہوئے اور جس نے بھی یہاں کا پانی پیا اس کے شیریں پن کی تعریف کی۔ یہ روایات امیر تیمور، محمود غزنوی، بابر اور شیر شاہ سوری کے ساتھ بالخصوص منسوب ہیں۔ تاہم شیر شاہ سوری کے حوالے سے منسوب روایت کافی مستند اور مضبو ط سمجھی جاتی ہے کہ جب اس مشہور مسلم فاتح کا اس علاقہ سے گزر ہوا اور پڑاؤ کے دوران جب اس نے دریا ئے جہلم کا پانی پیا تو بے اختیارکہہ اٹھا ۔۔۔’ خوش آب‘‘ ۔۔۔۔ اوریوں یہ الفا ظ زبان زدعام ہو کر اس علاقے کو ایک خوب صورت نام دے گئے۔

خوشاب کی تاریخ[ترمیم]

شیر شاہ سوری نے اس شہر کو سنوارنے اور اس کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ مرکزی عید گاہ، جامع مسجد مین بازار، شہر پناہ کے دروازے اور فصیل اس زمانے کی اہم تعمیرات میں سے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق شہر خوشاب1503عیسوی میں آباد ہوا جبکہ اس کے گرد فصیل 1593میں مکمل ہوئی۔ 1809میں راجا رنجیت سنگھ نے خوشاب پر قبضہ کر لیا۔محمد شاہ کے زمانے میں خوشاب کا گورنر نواب احمد یار تھا جس کا مقبرہ خوشاب میں موجود ہے۔ دریائے جہلم کے کنارے آباد یہ شہر لا تعداد مرتبہ سیلابوں کی زد میں آکر تباہ ہوا۔ بالخصوص 1849اور1893میں دریائے جہلم میں آنے والی طغیانیوں میں سردار جعفر خان کا قلعہ، تارا چند اور نواب احمد خان کے باغات، فصیل اور دروازوں کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ شہرپناہ کی فصیل کو سہ بارتعمیر کیا گیا۔ اول مرتبہ شیر شاہ سوری نے، دوسری مرتبہ سردار لعل خان بلوچ نے 1761میں کچی فصیل کو پختہ بنا دیا جبکہ تیسری مرتبہ 1866میں انگریز ڈپٹی کمشنر کیپٹن ڈیوس نے از سر نو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ شہر کا نقشہ بنوا کر فصیل کو مکمل کیا۔ اس باردیوار شہر میں چار بڑے دروازے، مشرق کی جانب کابلی گیٹ، مغرب کی جانب لاہوری گیٹ،شمال کی جانب جہلمی گیٹ اور جنوب کی جانب ملتانی گیٹ تعمیر کیے گئے۔1865میں ڈپٹی کمشنر کیپٹن ڈیوس نے تیس فٹ چوڑا اور تقریباََ ڈیڑھ کلو میٹر لمبا بازار بنوایا۔ اسی بازار خوشاب کے عین آغاز پر موجود کابلی گیٹ اپنی قدیمی شان و شوکت کا پرشکوہ منظر کچھ اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ جیسے آپ صدیوں پرانے شہر خوشاب میں داخل ہو رہے ہوں۔ حکومت انگلشیہ نے اس شہر کا نقشہ صلیب کی طرز پر بنایا۔1866میں کابلی گیٹ مکمل ہوا جس میں ڈاکخانہ اور پولیس چوکی قائم کی گئی۔ اور یہ شہر کی آخری حد تھی، جبکہ دوسرے سرے پر لاہوری گیٹ تھا جہاں پر ایک بڑا پتن بھی تھا۔1945تک دریائے جہلم شہر کی دیواروں کے ساتھ ساتھ بہتا تھا لیکن فی زمانہ دریا شہر سے دور ہوتا چلا گیا اور اب تقریباََ ڈیڑھ میل دور مشرق کی جانب بہہ رہا ہے۔1700 ؁ء میں خوشاب جہلم کمشنری کے تحت تھا اور اس کا صدر مقام شاہ پور تھا۔ تزک بابری میں بابر نے خوشاب کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے کہ: ’’جمعہ کا دن تھا اور خوشاب کے باسیوں نے میری خدمت میں ایک وفد بھیجا جس کے جواب میں میں نے شاہ حسین بن شاہ شجاع ارغوان کا انتخاب کیا کہ وہ خوشاب جا کر وہاں کے لوگوں سے بات چیت کرے۔...‘‘ ترک جہانگیری میں بھی خوشاب کا ذکر کچھ اس طرح سے ہے : ’’یہ سر سبز و شاداب سرزمین ہے جس کی آمدن 30لاکھ دام ہے۔ ‘‘ خوشاب سے ضلع خوشاب تک 1857کی جنگ آزادی سے صرف چار سال قبل1853میں تاج برطانیہ کے تحت اسے ٹاؤن کمیٹی کا درجہ ملا۔ بعد ازاں اسے میونسپل کمیٹی بنا دیا گیا۔1867ء میں خوشاب کو تحصیل کا درجہ دیا گیا، 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت خوشاب ضلع سرگو دھا کی تحصیل تھا،اور 1982میں خوشاب کو الگ ضلع کا درجہ دے دیا گیا جب اسے ضلع کا درجہ ملاتو یہ دو تحصیلوں خوشاب اور نور پور تھل پر مشتمل تھا۔ اب اس میں تحصیل قائدآ بادکا اضافہ ہو چکا ہے یو ں ضلع خوشاب چار تحصیلوں خوشاب ،نور پور تھل، قائد آباد اور ایک تحصیل نو شہرہ پر مشتمل ہے۔

اس کی انفرادیت اس بات میں ہے کہ یہاں سرسبز میدان، پہاڑ اور صحرائی علاقے ہیں۔ ضلع خوشاب کے لوگ محنتی اور زراعت پیشہ ہیں۔ یہاں کی زیادہ تر آبادیاعوان اور بلوچ قبائل سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں کہ اکثر لوگ فوج میں شمولیت کو باقی پیشوں پر ترجیح دیتے ہیں۔

خوشاب میں آباد قومیں[ترمیم]

مشاہیر ضلع خوشاب[ترمیم]

اہم ادبی شخصیات میں شامل ہیں:-

  1. جناب احمد ندیم قاسمی مرحوم۔
  2. واصف علی واصف مرحوم ،
  3. سہیل وڑائچ
  4. عبدالقادر حسن ،
  5. خوشونت سنگھ مرحوم،
  6. اسلم شہزاد مرحوم
  7. ملک خدا بخش ساجد اعوان
  8. امتیاز حسین امتیاز
  9. ملک عدنان عالم اعوان ،
  10. چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال ،
  11. عتیق اختر افغانی
  12. ارسلان اختر افغانی ، مدیر ضرغام

اہم سیاسی شخصیات یہ ہیں،

  1. ملک نعیم خان (مرحوم)،
  2. ملک کرم بخش اعوان مرحوم ،
  3. ملک صالح محمد گنجیال،
  4. ملک محمد علی سانول اعوان،
  5. ملک شاکر بشیر ،
  6. محترمہ جویریہ ظفر آہیر،
  7. ملک آصف بھا ،
  8. ملک غلام رسول سنگھا (موجودہ ایم پی اے)،
  9. ملک عمر اسلم (موجودہ ایم این اے)،
  10. ملک احسان ٹوانہ (موجودہ ایم این اے)،
  11. ملک خدا بخش ٹوانہ ،
  12. محترمہ سمیرا ملک ،
  13. ملک وارث کلو (موجودہ ایم پی اے)،
  14. محمد شریف بلوچ ،
  15. کرم الہی بندیال ،
  16. }} فتح خالق بندیال]] (موجودہ ایم پی اے)،
  17. ملک جاوید اعوان ،
  18. امیر حیدر سنگھا ،
  19. ڈاکٹر کیپٹن رفیق سردار شجاع خان بلوچ مرحوم،
  20. ملک نعیم آہیر ،
  21. ملک محمد بشیر اعوان مرحوم،

تفریحی مقامات /میلہ جات[ترمیم]

وادی سون ، اچھالی جھیل ، کھبیکی جھیل ، کنٹی گارڈن ، میلہ منڈی خوشاب ، میلہ نور پور تھل، میلہ سید المعروف ،

دفاعی تنصیبات[ترمیم]

سکیسر بیس ، پاکستان اٹامک انرجی کمشن پلانٹ گروٹ

مزارات[ترمیم]

خوشاب بزرگوں کی سر زمین ہے ، سب سے زیادہ مشہور مزارات میں دربار بادشاہوں اور دربار سیدالمعروف شامل ہیں،

طبعی خدوخال[ترمیم]

ہمہ جہت جغرافیائی خدوخال: تحصیل خوشاب اور قائد آباد میدانی ، تحصیل نوشہرہ پہاڑی اور تحصیل نور پور تھل صحرائی علاقہ ہے۔

سوغات[ترمیم]

خوشاب کی سب سے اہم سوغات ڈھوڈا (مٹھائی) ہے۔ یہ ایک مٹھائی ہے جو یہاں نسل در نسل تیار کی جاتی ہے اور اپنے ذائقہ میں بے مثال ہے۔

اسلامک ریسرچ سنٹر[ترمیم]

ضلع خوشاب کے موضع شاہ حسین تھل میں نواب اللہ بخش کھارا ایک معروف سماجی و سیاسی شخصیت تھے اب ان کے پوتے پروفیسر ملک جاوید اقبال کھارا نے ان کے نام پر نواب اللہ بخش کھارا اسلامک ریسر چ سنٹر شاہ حسین تھل کی بنیاد رکھی ہے۔

وادی سون سکیسر[ترمیم]

وادی سون سکیسر




Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔