خوش نظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خوش نظمی (انگریزی: Good Governance) کے متعلق جان اسٹیورٹ مل کی تعریف یوں ہے کہ اچھی حکومت کا معیار وہ حد ہے جس تک وہ اپنی رعایا کی صفات حمیدہ میں اضافہ کرسکتی ہے۔

خوش نظمی کے تین پیمانے[ترمیم]

  • وہ طریقہ جس سے حکومت سازی کی جاتی ہے، اسے جوابدہ بنایا جاتا ہے، حرکات و سکنات کی نگرانی کی جاتی ہے اور تبدیلی لائی جاتی ہے۔
  • حکومت کی صلاحیت جس سے کہ وہ اپنے وسائل کو خوبی سے بروئے کار لاتی ہے اور سوجھ بوجھ سے حکمت عملی اور ضوابط نافذ کرتی ہے۔
  • وہ سیاق و سباق جس کے تحت عام شہری ریاستی معاملات کا حصہ بنتے ہیں۔[1]

روایتی اور جدید طرز حکمرانی کا تقابلی تجزیہ[ترمیم]

خصوصیات روایتی حکمرانی جدید حکمرانی
مقصد معاشی ترقی انسانی ترقی
سیاسی نظام جمہوری یا غیر جمہوری جمہوری اور ساجھے داری
ترقی کے محرکین ریاست جس میں شہریوں کا سماج شامل نہ ہو ریاست، بازار اور شہریوں کا سماج
قانون کی نوعیت صرف ریاست کے فائدے کے لیے سب کے فائدے کے لیے
تتائج غیر متوقع حسب توقع
محرکین کا دائرہ عمل مقامی/ قومی مقامی،قومی اور عالمی
نین المحرکین رشتے ادارہ جاتی اور تسلسل کے ساتھ ایک سطحی اور غیر ادارہ جاتی
تقسیم کا طریقہ کار حکومت کی ایجنسیاں حکومت کی ایجنسیاں،نجی کمپنیاں اور غیر سرکاری ادارے

[2]

حکمرانی کے زیر اثر ترقی کے محرکات[ترمیم]

دائرہ عمل ریاست بازار شہریوں کا سماج
عالمی ہمہ جہت ایجنسیاں جیسے کہ اقوام متحدہ، عالمی بنک، عالمی تجارتی ادارہ بین الاقوامی کمپنیاں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں جیسے کہ ڈی ایف آئی ڈی (DFID)، ایکشن ایڈ (ACTION AID)
قومی قومی/ صوبائی حکومتیں گھریلو کمپنیاں / بین الاقوامی کمپنیاں قومی / مقامی غیر سرکاری تنظیمیں
مقامی مقامی خود حکمرانی ادارے (مثلاً پنچایت) مقامی تاجر مقامی غیر سرکاری تنظیمیں، عام شہری

[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. “Beyond Good Governance”, Alok Bhattacharya & Mostafa Kamal, International Journal of Marketing and Trade Policy, Volume 5, No.2, July-Dec 2013, Pg 167-189.
  2. Shylendra, H S (2004), “The Emerging Governance Paradigm & Its Implication for Poverty Alleviation & Equity, Working Paper, P 182, Institute of Management, Anand, Courtesy: Joseph T M, Electoral Reforms for Good Governance, 2006
  3. Shylendra, H S (2004), “The Emerging Governance Paradigm & Its Implication for Poverty Alleviation & Equity, Working Paper, Institute of Management, Anand, Courtesy: Joseph T M, Electoral Reforms for Good Governance, 2006