خٹک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خٹک (انگریزی: Khattak پشتو: خټک) پختون قبیلہ۔ خٹک قبائل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ کے مغربی کنارے سے لے کر مالاکنڈ کی سرحدوں تک آباد ہیں۔ اس تمام علاقے کو ضلع کرک میں شامل کیا جاتا ہے۔ خٹک قبائل کا تاریخی مرکز ٹری کرک اور اکوڑہ خٹک ہے جو صوبائی صدر مقام پشاور سے تقریباً 135 کلومیٹر جنوب اور 50 کلومیٹر مشرق میں واقع ہیں۔
خٹک لقمان کی اولاد میں سے ہیں، لقمان کا بھائی آفریدی قبائل کا جد امجد تصور کیا جاتا ہے۔ تاریخ سے عیاں ہے کہ خٹک قبائل نے با رہا ہجرت کی ہے اور اب یہ قبیلہ مختلف علاقوں جیسے بنوں کے شمالی حصے، کوہاٹ، کرک، نوشہرہ اور اٹک میں آباد ہیں۔
پشتون یا پختون قبائل میں خٹک قبیلہ کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اس قبیلہ میں شرح تعلیم بہت زیادہ ہے۔ تاریخ میں یہ بات بھی عیاں ہے کہ خٹک قبیلہ سے تعلق رکھنے والے افراد ذہین تھے اور کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔

 شورنگ خان خٹک

ہاں میں خٹک ہوں[ترمیم]

خوشحال خان خٹک وفات: 1689ء تحریر امتیاز خان خٹک پشتون جنگجو ہیرو٫ شاعر اور فلسفی پشتو۔ نواح پشاور کے قریب اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ باپ شہباز خان قبیلہ خٹک کا سردار اور مغلوں کی جانب سے علاقے کا جاگیردار تھا۔ اوائل عمر میں یوسف زئی قبیلے کے اکثر معرکوں میں شریک رہا۔ 1651ء میں باپ کے مرنے پر27 سال کی عمر میں اپنے قبیلے کا سردار بنا۔ شروع سے ہی مغلون کے وفادار تھے اور ٱپکا لشکر مغل فوج میں ھر اول دستے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں اس کی شکایتیں دربار میں پہنچیں جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا اور وہ تین چار برس دہلی اور رنتھمبور کے قلعوں میں قید رہا۔ اپنے خلاف اورنگزیب کی ان شکایتوں اور قید و بند کی صعوبتوں کو خوشحال خان خٹک ایک جگہ اپنی شاعری مين اس طرح بلاوجہ قرار ديتے ھين - ”پروردہ کا دا مغلو پہ نمک يم، د اورنگ لا لاسا ہم لا غريوہ ڈ ک يم، بس ناحقہ يئے زندان کڑم يو سو کالا، خدائے خبردے کاپاخپل گناہ زۂ شک يم، د افغان پة ننگ م وتڑلہ تورہ، ننگيالے د زمانے خوشحال خٹک يم-“ ”اگرچہ مين مغلون کے نمک کاپروردہ ھون- ليکن اورنگ (زيب) کے ھاتون بہت غذ بناک ھون- ناحق چند سال تک مجھے زندان کيا- خدا جانتا ہے کہ مين نے کوي گناہ نہين کيا- مين نے افغان قوم کی ننگ و ناموس کی خاطر اپنی کمر سے تلوار باند لی ہے- مین زمانے بھرکا غيرت مند خوشحال خان خٹک ھون-“ پھر رہا ہو کر وطن واپس آیا۔ دل میں مغلوں کے خلاف انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ یوسف زئی اور ٱفريدی قبیلے کے ساتھ مل کر شاہی فوجوں پر کئی حملے کیے اور اکثر معرکوں میں مغل افواج کو زک پہنچائی۔ ويسے تو ساری زندگی جنگ و جدل اور افغان قوم کوايک کرنے کی کوشش مين گزاری تاھم اس کا آخری زمانہ بڑی مصیبت اور پریشانی میں گزار۔ اپنی زندگی کے اس پہلوکے بارے مين ايک جگہ لکتھے ھين- ”لايو غم را زنے لاڑ نۂ وی بل راشی، لکہ زۂ پہ ورز پيدا د شور و شر يم“ ”ابھی ايک غم سے چٹھکارا نھين پاتا کہ دوسرا آ موجود ہوتا ہے٫ جيسے کہ مين بروز شور و شر پيدا ھوا ھون-“ اس نے تقریباً پنتالیس ہزار اشعار اپنی یادگارمين چھوڑے ہیں۔ 200 سے زايد کتابين ان سے منسوب ھين- جن مين سے زیادہ تر نا پيد ھين- موجود کتابون مين سے قابل ذکر باز بامہ، فضل نامہ، دستار نامہ اور فرح نامہ شامل ھين-ان کی شاعری مينتغزل سے بڑھ کر واقعاتی رنگ ہے۔ بیشتر رجزیہ اشعار ہیں۔ وہ بيک وقت صاحب تيغ و قلم، شاعر و فلسفی، افغان قوم کے راہ نما و حکيم، خودی و غيرت کے علمبر دارر و پاسدارتھے

جٹہ یونین کونسل جٹہ یونین کونسل کی آبادی 1 جٹہ اسماعیل خیل 2 جٹہ علی خان خیل 3 ثنڈا خرم 4 میر کلام 5 زنڑانکا 6 چختو 7 معصول گارڈ 8 مکوڑی 9 آذاد بانڈہ 10 ممی خیل 11 شیخان 12 شکر خیل 13 چشمائے 14 عمر خان کلے

مشہور شخصیات[ترمیم]

خٹک قبیلے کی مشہور شخصیات درج ذیل ہیں۔

خوشحال خان خٹک[ترمیم]

پشتو کے مشہور جنگجو شاعر خوشحال خان خٹک کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے اور وہ اپنے زمانے میں اس قبیلے کے سربراہ تھے۔ ان کی پشتو ادب میں خدمات لازوال ہیں اور تصانیف کو کلاسیکی درجہ حاصل ہے۔ پختون تاریخ میں ان کے کام کو نہایت ادب سے دیکھا جاتا ہے اور کئی تعلیمی اداروں میں تحقیق میں بھی استعمال ہوا ہے۔ خوشحال خان خٹک سیاسی، سماجی اور ادبی حلقوں میں مہارت رکھتے تھے اور ہر شعبہ میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ فارسی اور پشتو زبانوں میں خوشحال خان خٹک نے تقریباً 360 سے زائد کتابیں تحریر کی۔
حجاج بن یوسف شاورنگ خان خٹک