دادا بھائی نوروجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دادا بھائی نوروجی
(انگریزی میں: Dadabhai Naoroji ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل= دادا بھائی نوروجی، 1890

رکن پالیمان
برائے فینسبری سینٹرل
مدت منصب
1892 – 1895
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Frederick Thomas Penton
William Frederick Barton Massey-Mainwaring Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 3
معلومات شخصیت
پیدائش 4 ستمبر 1825[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی[3][4]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 جون 1917 (92 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی[5][4]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش لندن، مملکت متحدہ
شہریت Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب زرتشتیت
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی الفنسٹن کالج  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان، استاد جامعہ، ماہر معاشیات  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان گجراتی[6]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت یونیورسٹی کالج لندن  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
دادا بھائی نوروجی
دادا بھائی نوروجی کی 1892 کی ایک تصویر۔

دادا بھائی نوروجی پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک ہندوستانی سیاست دان اور سماجی لیڈر تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے اس حقیقت کی نشان دہی کی تھی کہ تجارت کی آڑ میں برطانیہ ہندوستان کی دولت لوٹ رہا ہے۔ ان کی کتاب Poverty and Un-British Rule in India میں بڑی تفصیل کے ساتھ ہندوستانی دولت کی برطانیہ منتقلی کی وضاحت درج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نو آبادیاتی نظام کے تحت ہندوستان کی ساری دولت کا برطانیہ پہنچ جانا اور بدلے میں کچھ بھی واپس نہ ملنا ہی ہندوستان میں غربت کا باعث ہے۔
1894ء میں مہاتما گاندھی نے نورو جی کو خط میں لکھا کہ "ہندوستانی آپ سے ایسی ہی امیدیں رکھتے ہیں جیسی بچے باپ سے رکھتے ہیں۔ یہاں واقعی ایسی توقعات ہیں۔"

ڈرین تھیوری اور غربت[ترمیم]

دادا بھائی نوروجی نے ہندوستان سے برطانیہ کی جانب دولت کے بہاو کی چند وجوہات کی نشان دہی کی تھی۔

  • ہندوستان کی حکومت غیر ملکی ہے۔
  • ہندوستان میں بسنے کے خواہش مند نئے لوگ نہیں آتے۔ ایسے نئے آنے والے لوگ معیشت کے لیے مزدوری اور سرمائیہ لاتے ہیں۔
  • سرکاری ملازمین اور فوج کے اخراجات ہندوستان کی آمدنی سے پورے کیے جاتے ہیں۔
  • ہندوستان کے اندر اور غیر ممالک میں برطانوی سلطنت کی توسیع کے اخراجات ہندوستان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
  • آزادانہ تجارت کے نام پر ہندوستان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ ہندوستانی مال سستا خریدا جاتا ہے اور برطانوی مال مہنگا بیچا جاتا ہے۔
  • اچھی تنخواہوں کی ملازمتیں صرف غیر ملکیوں کودی جاتی ہیں جو اس رقم کو ہندوستان میں خرچ نہیں کرتے اور آخر کار اپنے ساتھ واپس لے جاتے ہیں۔
  • ریلوے سے ہونے والی خطیر آمدنی پر ہندوستان کا کوئی حق نہیں ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

  • http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12126488t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  • ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w61m4hdf — بنام: Dadabhai Naoroji — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  • اجازت نامہ: CC0
  • ^ ا ب http://www.britannica.com/EBchecked/media/120849/Dadabhai-Naoroji-statue-in-Mumbai
  • اجازت نامہ: CC0
  • http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12126488t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ