دادری میں ہجومی قتل، 2015ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دادری is located in بھارت
دادری
دادری
دادری نئی دہلی سے تقریباً 50 کلومیٹر دوری پر واقع ہے.

دادری میں بلوا اس واقعہ کا نام ہے جس میں 200 افراد کے ہجوم نے ایک مسلمان خاندان کو 28 ستمبر 2015ء کی رات کو دادری کے نزدیک بِسارا گاؤں، اترپردیش، بھارت میں حملے کا نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے 52 سالہ محمد اخلاق سیفی کا قتل کیا اور ان کے 22 سالہ بیٹے دانش کو بری طرح زخمی کر دیا۔[1][2][3][4]

واقعات[ترمیم]

افواہیں[ترمیم]

28 ستمبر 2015ء کی شام کو کچھ لوگوں نے مقامی مندر کے لاؤڈ اسپیکر سے اس افواہ کو پھیلانا شروع کیا کہ محمد اخلاق کے خاندان نے ایک گائے ذبح کی ہے اور اس کے گوشت کو عید الاضحٰی کے موقع پر استعمال کیا ہے۔[5][6] حالانکہ بھارت میں عام طور سے مسلمان صرف بکرے کی قربانی کرتے ہیں۔[7] بعد میں پولیس نے بتایا کہ اس افواہ کی وجہ سے قتل کا یہ واقعہ پیش آیا۔[8]

حملہ[ترمیم]

ایک ہجوم جس کے پاس لاٹھیاں، تلوار اور بندوقیں تھیں، محمد اخلاق کے گھر رات کو ساڑھے دس بجے پہنچا۔ خاندان عشائیہ ختم کر کے سونے جا رہا تھا۔ اخلاق اور ان کا بیٹا پہلے ہی سو چکے تھے۔ ہجوم نے ان پر گائے کے گوشت کھانے کا الزام عائد کیا۔ فریج میں کچھ گوشت ملا جسے ضبط کر لیا گیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ بکرے کا گوشت تھا۔ ہجوم نے سلائی مشین پٹک کر اخلاق کے سر کو مارا اور خاندان کو باہر نکال دیا۔ اخلاق اور دانش کو مسلسل لاتوں اور اینٹوں سے مارا گیا پھر چاقو سے حملہ کیا۔ اخلاق کی بوڑھی ماں اور بیوی پر بھی حملہ کیا گیا اور اس کی بیٹی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ خاندان کے ہندو پڑوسیوں نے اس ہجوم کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔ پولیس کو بلایا گیا لیکن وہ ایک گھنٹے بعد پہنچی۔ اس وقت تک اخلاق دم توڑ چکے تھے اور دانش بری طرح زخمی تھے۔[3][5][6][7]

یہ خاندان اس گاؤں میں تقریبًا ستر سال سے آباد تھا۔ اس خاندان میں 52 سالہ اخلاق، 42 سالہ جان محمد سیفی، 82 سالہ اصغری بیگم، بیوی اِکرام، بیٹا 22 سالہ دانش اور بیٹی ساجدہ [3][9][10] اخلاق کا بڑا لڑکا 27 سالہ محمد سرتاج بھارتی فضائیہ میں ٹیکنیشن ہے اور حملے کے وقت چینائی میں تھا۔[11]

مابعد واقعہ گرفتاریاں[ترمیم]

پولیس نے مندر کے پجاری اور اس کے معاون کو تفتیش کے لیے گرفتار کیا۔ ایک ایف آئی آر بھی درج کیا گیا جس میں خاندان والوں کی گواہی کی بنا پر دس لوگوں کی حملہ آوروں کے طور پر شناخت کی گئی تھی اور تعزیرات ہند کے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یکم اکتوبر کو آٹھ افراد گرفتار ہوئے تھے۔ تاہم مقامی افراد نے ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس کے ساتھ تصادم میں ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔[5][7][8]

مندر کے بجاری نے کسی طرح کی وابستگی سے انکار کیا۔ اس نے کہا کہ اسے کچھ نوجوانوں نے اعلان کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اس نے صرف یہ اعلان کیا تھا کہ ایک گائے ذبح کی گئی تھی اور لوگ مندر میں جمع ہو جائیں۔[8] 3 اکتوبر کو وِشال نامی آدمی جو مقامی بھارتیہ جنتا پارٹی قائد سنجے رانا کا بیٹا ہے، اس معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔[12] 4 اکتوبر تک دانش ہنگامی دیکھ ریکھ اکائی میں چار دن گزار چکا تھا اور دو دماغی آپریشنوں سے گزر چکا تھا۔ اسے کیلاش اسپتال، گریٹر نوئیڈا شریک کرایا گیا تھا۔[11] گرفتارشدہ اشخاص کی خاتون رشتے داروں نے صحافیوں پر حملہ کیا اور ذرائع ابلاغ کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ ان کا دعوٰی تھا کہ ان اشخاص کو ناحق گرفتار کیا گیا اور ذرائع ابلاغ صرف متاثرین کی داستان بیان کر رہا ہے۔[13][14]

5 اکتوبر کو اتر پردیش پولیس نے خرد بلاگ نگاری کی ویب سائٹ ٹویٹر سے کچھ متن اور تصاویر کو حذف کرنے کے لیے کہا جو اس واقعے کے متعلق تھے اور ان کے متعلق اشتعال انگیز تھے۔[15][16]

رد عمل[ترمیم]

اتر پردیش کے وزیر اعلٰی اکھلیش یادو نے متاثرہ خاندان کے لیے دس لاکھ روپیے کے معاوضہ کا اعلان 30 ستمبر 2015 کو کیا۔ انہوں نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سوپراِنٹنڈنٹ کو اس خاندان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کہا۔[17] اکتوبر 2015 کو یہ معاضہ بڑھا کر بیس لاکھ روپیے کر دیا گیا۔[18] محمد اخلاق کا بڑا لڑکا محمد سرتاج جو بھارتی فضائیہ میں ٹیکنیشن ہے، کہا کہ وہ اپنے خاندان کو دادری سے باہر نکالنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔[19]

مہیش شرما، بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر نے کہا کہ ہجوم کا یہ قتل منصوبہ بند نہیں تھا اور بدقسمت حادثہ ہے۔ تاہم انہوں نے خاندان سے انصاف کا وعدہ کیا۔[20] ان ہی کی جماعت کے رہنما تَرُن وجے نے کہا کہ یہ واقعہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقیاتی ایجنڈے کو اُلٹ دے گا۔ انہوں نے ہندوؤں سے تشدد پر آمادہ ہونے کی بجائے گایوں کی دیکھ ریکھ کرنی چاہیے۔ انہوں نے گائے کے گوشت کی برآمد اور کوڑدانوں سے گایوں کے پلاسٹک کھانے جیسی باتوں پر بھی توجہ دلائی۔[21] ایک اور بی جے پی لیڈر ساکشی مہاراج نے معاوضے کی رقم پر تنقید کی اور کہا کہ اگر کوئی ہندو کا قتل ہوتا تو اس کے خاندان کو کافی کم معاوضہ دیا جاتا۔[22]

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین قائد اسد الدین اویسی نے پولیس کے گوشت کو جانچنے کے فیصلے کی تنقید کی۔ انہوں ریاست کی بر سر اقتدار جماعت کی غیر فعالیت اور مقامی بی جے پی قائدین کی جانب سے فسادیوں کے دفاع کی مذمت کی۔[23]

بھارت کے فضائیہ کے سربراہ اروپ راہا نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ وہ خاندان کو بھارتی فضائیہ کے علاقے میں منتقل کرتے ہوئے تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔[24] بہار کے سابق وزیر اعلٰی اور راشٹریہ جنتا دل قائد نے کہا کہ غریب عوام اور تارکین وطن گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ اور بکرے اور گائے کے گوشت میں کچھ فرق نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے مزید یہ کہا کہ بکرے اور گائے کے گوشت صحت کے لیے مضر ہیں۔[25] سابق سپریم کورٹ کے جج مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ وہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور گائے کو مقدس نہیں مانتے۔ وہ تیزرفتار انصاف اور خاطیوں کے لیے سخت سزا کے طلبگار تھے۔[26][27]

متاثرین کی کارروائی روکنے کی گزارش[ترمیم]

دادری معاملے کے متاثرین نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اکھِلیش یادو سے ملاقات کرکے کہا کہ وہ اِس معاملے میں اب تک (دسمبر 2015ء کے پہلے ہفتے تک) کی گئی کارروائی اور معاشی معاوضے سے مطمئن ہَیں اَور وہ اب اِس واقعے میں آگے کوئی تحقیق یا کارروائی نہِیں چاہتے۔[28]

مقتول اور خاندان کے خلاف ایف آئی آر[ترمیم]

ایک عدالت نے 9جون، 2016ء میں اخلاق اور اس کے خاندان کے افراد کے خلاف گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا۔[29]

ملزمین کو ملازمت[ترمیم]

ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق دادری کے مقامی بی جے پی قیادت کی پر زور جستجو کی وجہ سے اس واقعے میں ملزم پائے گئے 15 افراد کو 2017ء میں نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن یا این ٹی پی سی کے پاور پلانٹ میں ملازمت دی گئی جو دادری میں واقع ہے۔[30]

سب انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کا قتل[ترمیم]

3 دسمبر 2018ء میں بلند شہر میں سب انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کا قتل گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں ہوا تھا۔ یہ وہی عہدیدار تھے جنہوں نے دادری قتل کے معاملے میں دس ملزمین کو اولًا گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے ملزمین کے خلاف سبھی قانونی کارروائی کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے عینی شاہدوں کی گواہی تعزیرات ہند کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کی۔ اخلاق کے خاندان کے بعد وہ اس معاملے کے پہلے گواہ بنے۔ تاہم ان کا تبادلہ جلد ہی وارنسی کر دیا گیا۔ سبودھ کمار سنگھ کے قتل تک دادری معاملے میں کوئی فرد جرم (چارج شیٹ) داخل نہیں کیا گیا تھا اور ملزمین برائت کی درخواست بھی داخل کر چکے تھے۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سبودھ کو اپنی فرض شناسی کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔[31]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Indian man lynched over beef rumours"۔ بی بی سی نیوز۔ 30 ستمبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  2. "Dadri: Outrage after mob lynches man for allegedly consuming beef"۔ The Indian Express۔ 1 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  3. ^ ا ب پ "Indian mob kills man over beef eating rumour"۔ الجزیرہ۔ 1 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  4. "Bisara faces political polarisation"۔ Deccan Herald۔ 3 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  5. ^ ا ب پ "Why India man was lynched over beef rumours"۔ بی بی سی نیوز۔ 1 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  6. ^ ا ب "A mob in India just dragged a man from his home and beat him to death — for eating beef"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ ستمبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  7. ^ ا ب پ "Eight held for lynching 'beef-eater' in Dadri"۔ Mumbai Mirror۔ 1 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  8. ^ ا ب پ "Temple announcement about beef triggered the lynching: Police"۔ دی اکنامک ٹائمز۔ 2 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  9. "Mob allegedly beat Muslim farmer to death for eating beef"۔ Toronto Sun۔ 30 ستمبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔ line feed character in |accessdate= at position 3 (معاونت)
  10. "Dadri lynching: Three days before attack, my son was called a Pakistani, says mother"۔ The Indian Express۔ 2 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  11. ^ ا ب "Danish battles for life, his brother decides to leave Dadri village"۔ انڈیا ٹوڈے۔ 4 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  12. "BJP leader's son held in Dadri lynching case"۔ The Hindu۔ 4 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  13. "Dadri lynching: Women residents throw stones, chase media out of village"۔ The Indian Express۔ 4 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  14. "Mob lynching in Dadri: Kin of accused attack journalists over 'bias'"۔ Mumbai Mirror۔ 4 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  15. "Dadri lynching: Police asks Twitter to delete 'provocative' posts on Muhammad Akhlaq's killing"۔ DNA India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اکتوبر 2015۔
  16. "Dadri lynching: Uttar Pradesh Police ask Twitter to delete 'provocative' posts on killing"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 6 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اکتوبر 2015۔
  17. "Dadri lynching: UP govt announces Rs 10 lakh compensation to next of kin"۔ The Indian Express۔ 30 ستمبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  18. "Dadri Mob Killing: Ex-Gratia for Family Raised to Rs. 20 Lakh"۔ NDTV۔ 3 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  19. "'Neighbours' Attacked his Father. Now Air Force Man Wants to Move His family"۔ NDTV۔ 1 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اکتوبر 2015۔
  20. "Dadri lynching: Mob murder an accident, arrested youths too will get justice, says Mahesh Sharma"۔ The Indian Express۔ 3 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔ line feed character in |date= at position 3 (معاونت); line feed character in |accessdate= at position 3 (معاونت)
  21. "Dadri lynching: Incidents like these derail PM Modi's efforts, says BJP MP Tarun Vijay"۔ The Indian Express۔ 1 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  22. "When Muslim dies they give 20 lakhs, but Hindu doesn't even get 20,000: Sakshi Maharaj"۔ Zee News۔ 4 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اکتوبر 2015۔ line feed character in |date= at position 3 (معاونت); line feed character in |accessdate= at position 3 (معاونت)
  23. "Why test meat, why not their brains, asks Owaisi"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 2 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  24. "Dadri lynching was unfortunate, trying to move family to IAF area, says Air chief Arup Raha"۔ The Indian Express۔ 4 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  25. "Hindus also eat beef, says Lalu"۔ The Indian Express۔ 4 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  26. "I eat beef and don't consider cow as mother, Justice Markandey Katju says"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 3 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  27. "Dadri lynching: Cow cannot be anyone's mother, it's just another animal, says Katju"۔ The Indian Express۔ 3 اکتوبر 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2015۔
  28. उत्तर प्रदेश : अब कोई जांच नहीं चाहते दादरी कांड के पीड़ित
  29. Dadri lynching: Court orders FIR against murdered Mohammad Akhlaq, his kin
  30. Akhlaq murder suspects get jobs at NTPC plant in Dadri
  31. https://www.rediff.com/news/interview/was-cop-killed-for-his-role-in-probing-dadri-case/20181205.htm