دارالعلوم کراچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دار العلوم کراچی کورنگی، کراچی میں واقع یہ مشہور دینی تعلیمی ادارہ سابق مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے قائم کیا تھا۔ جامعہ کے موجودہ شیخ الحدیث شیخ الاسلام مولانا مفتی تقی عثمانی ہیں۔ جو سپریم کورٹ شریعہ بینچ کے جسٹس بھی رہے ہیں۔اس وقت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر ہیں ۔ پاکستان کے موجودہ مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی صاحب بهی اس مدرسے کے رئیس وصدر ہیں ۔

ناظم تعلیمات مولانا راحت علی ہاشمی صاحب ۔ ناظم اعلیٰ اشرف ملک صاحب ہیں۔

جامعہ دار العلوم کراچی ایک وسیع وعریض دینی درسگاہ ہے جس میں بیک وقت تقریبًا دس بارہ طلبہ پڑھتے ہیں۔ دار العلوم کے احاطے میں ایک وسیع کتب خانہ ہے جس میں لگ بھگ ایک لاکھ کتابیں موجود ہیں۔ اس لائبریری میں امام رازیؒ کا ایک مخطوطہ بھی موجود ہے۔ لائبریری میں مطالعے کے لیے خوبصورت اور پرسکون ہال ہے جہاں بیٹھ کر اطمینان سے ہر قسم کی کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ لائبریری میں نظامت کا فریضہ اس وقت مولانا ابوطاہر صاحب سر انجام دے رہے ہیں۔

دار العلوم میں ایک بڑی مسجد ہے جس میں تیس ہزار افراد سما سکتے ہیں۔اسکے ناظم اور امام ولی کامل مفتی عبد الروف سکھروی صاحب ہیں۔نائب امام مولانا اشرف عالم صدیقی ہیں۔

طلبہ کے رہائش کے لیے بہترین سہولیات سے آراستہ ہاسٹل ہے۔اسکے ناظم اعلیٰ جامعہ کے قدیم بزرگ استاد مولانا محمد اسحاق صاحب ہیں۔ہاسٹل کے ہر کمرے میں پانچ طلبہ کی گنجائش ہوتی ہے۔ ہر طالب علم کے لیے ایک پلنگ، پنکھا، لیمپ اور الماری کا اہتمام کیا گیا ہے۔

کھانے کے لیے الگ میس ہے جس میں بیک وقت چار ہزار طلبہ کو کھانا کھلایا جاسکتا ہے۔ یہاں حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا تیار کیا جاتا ہے۔

دار الافتاء میں مسائل کا حل بتایا جاتا ہے۔ یہاں ہرطرح کے دینی مسائل بشمول معاشی (Economics) مسائل انتہائی عرق ریزی سے حل کیے جاتے ہیں۔دن میں تقریباً ایک سو فتاویٰ جاری ہوتے ہیں اس کے ناظم مفتی عبد الروف سکھروی ہیں دیگر ببڑے مفتیان کرام میں



مفتی محمود اشرف عثمانی

مفتی عبدالمنان

مفتی عبداللہ