دار العلوم احمدیہ سلفیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دار العلوم احمدیہ سلفیہ
Darul Uloom Ahmadiyya Salafia
قیام 1918 (1918)
بانی مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی
وائس چانسلر ڈاکٹر سید عبد العزیز سلفی
مقام

دربھنگہ، بہار، ہندوستان

12°20′42″N 98°45′54″W / 12.345°N 98.765°W / 12.345; -98.765متناسقات: 12°20′42″N 98°45′54″W / 12.345°N 98.765°W / 12.345; -98.765
ویب سائٹ www.duasalafia.com/ur/

دار العلوم احمدیہ سلفیہ بھارت کے صوبہ بہار کے ضلع دربھنگہ کا ایک مشہورسلفی تعلیمی و تنظیمی ادارہ ہے جس کا قیام 1918ء میں حضرت مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس کا قیام ایک مکتب کی شکل میں ہوا تھا لیکن جلد ہی بانی اور منتظموں کی کوششوں سے ایک دار العلوم کی شکل اختیارکرگیا۔ دار العلوم میں ملک کے کئی مشہور علمائے کرام نے اپنی خدمات انجام دیں۔[1][2]

قیام[ترمیم]

جمعیت اہل حدیث ہند کے مؤسس وبانی مولانا عبد العزیز رحیم آبادی نے بہار میں دار العلوم احمدیہ سلفیہ کو1918ء میں قائم کیا تاکہ ہندوستان و نیپال میں اسلام کی صحیح دعوت پیش کی جاسکے اور عام مسلم بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم سے مزین کرنے کے علاوہ غریب و نادار طلبہ کی تعلیم و تربیت کی جاسکے۔

ادارہ جات[ترمیم]

شعبه نشر واشاعت[ترمیم]

اس شعبہ کے تحت دار العلوم احمدیہ سلفیہ کا ترجمان پندرہ روزہ مجله الھدی، دربھنگہ گزشتہ 68 سالوں سے پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس میں دینی علمی موضوعات کے ساتھ ملکی وملی مسائل پر اہم مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے مدیر اس وقت شکیل احمد سلفی ہیں۔ ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی سے لے کر شکیل احمد سلفی تک اس رسالے کی ادارت مشہور علما اور صحافی حضرات کرتے رہے ہیں۔ ہندوستانی مدارس اور اردو صحافت کے میدان میں اس رسالہ کی شاندار تاریخ رہی ہے۔ اس کے کئی خصوصی شمارے تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ الہدی سے قبل ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی کی ادارت میں کچھ عرصہ تک مجله سلفیه کی اشاعت بھی ہوتی رہی تھی جس کے بند ہونے کے بعد الہدی کی اشاعت عمل میں آئی۔ مجلہ سلفیہ بھی مدارس سے شائع ہونے والے رسالوں اور اردو زبان کی صحافت میں اہم مقام رکھتا ہے۔

سلفیہ یونانی میڈیکل کالج و ہسپتال[ترمیم]

شہر دربھنگہ قدیم زمانہ سے ایک علمی گہوارہ رہا ہے۔ یہاں بہت سے کالج اور علمی مراکز پائے جاتے ہیں لیکن طب یونانی کی تعلیم کے لیے کوئی ادارہ نہ تھا۔ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے 1981 میں اس کالج کی بنیاد ڈالی گئی جہاں طب یونانی کے ساتھ طب اسلامی قدیم اور جدید کی اعلی تعلیم دی جاتی ہے۔ کالج کا الحاق بہار یونیورسٹی مظفر پور سے کرایا گیا ہے اور سی سی آئی ایم (C.C.I.M.) سے بھی کالج کو منظوری حاصل ہے۔ اس کے ماتحت ایک شفاخانہ بھی ہے جس کا نام مستشفیٰ فریدی (فریدیہ اسپتال) ہے۔ اس میں نادار اور غریب مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے اور ہر طرح کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔[3]

سلفیہ اسکول[ترمیم]

یہ معہد دار العلوم کے اہم شعبوں میں سے ایک ہے جو سلفیہ اسکول کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی بنیاد پر 1965؁ء میں پڑی تاکہ دار العلوم کی جانب سے مقرر کیے گئے نصاب کے مطابق تعلیم دی جاسکے۔ عصری تعلیم کے اس ادارہ میں قرآن کی تعلیم اور ابتدائی عربی معلومات کے ساتھ دین اسلام کے اصول و مبادی سے متعارف کرانے کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ اب اسکول کو وقت اور حالات کے تقاضے کے مطابق مرکزی بورڈ برائے ثانوی تعلیم (سی بی ایس ای) سے میٹرک تک ملحق کیا گیا ہے اور انٹر میڈیٹ کے الحاق کی کارروائی بھی جاری ہے۔[4]

فریدیہ ھاسپٹل[ترمیم]

سلفیہ یونانی میڈیکل کالج و ہسپتال کے ماتحت ایک شفاخانہ بھی ہے جس کا نام مستشفیٰ فریدی (فریدیہ اسپتال) ہے۔ اس میں نادار اور غریب مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے اور ہر طرح کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔

الیکٹرانک سنٹر[ترمیم]

جو طلبہ اوسط سے کم یا ادنی ذہانت اور لیاقت رکھتے ہیں اور فراغت کے بعد دینی تعلیم اور دعوتی میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں ا ن کے لیے دیگر میدانوں میں روز گار کا دروازہ کھولنے کے مقصد سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے تحت چلائے جار ہے الکٹرانک کورس کا (ڈریم) سینٹر قائم کیا گیا ہے تاکہ وہ فراغت کے بعد والدین اور ملت پر بار بن کر نہ رہیں بلکہ مناسب روز گار سے وابستہ ہو کر خود کفیل زندگی گزار سکیں۔

کمپیوٹر سنٹر[ترمیم]

جدید ٹیکنالوجی نے دعوت اور دینی علوم و تحقیقات کے میدان میں بھی اہم دروازے کھولے ہیں۔ آج کمپیوٹر کی مدد سے تعلیم کے حصول میں بڑی آسانی پیدا ہوئی ہے اور تحقیقات کا راستہ بھی آسان اور ہموار ہواہے۔ اسی طرح کمپیوٹر اور ویب سائٹ وغیرہ کی مدد سے دعوت کے کاز کو بھی وسعت، تنوع اورسہولت حاصل ہوئی جس کے ذریعہ زیادہ لوگوں تک دعوت کو پہنچانا آسان ہو گیا۔ اس لیے دار العلوم کے طلبہ کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے ذریعہ چلایا جا رہا ایک سالہ کمپیوٹر کورس بھی کرایا جاتا ہے۔ دار العلوم کے تحت اس کا منظور شدہ سینٹر قائم ہے۔ اس کورس سے کے ذریعہ اوسط اور اس سے کم ذہانت اور لیاقت کے طلبہ کے لیے روزگار کا دروازہ بھی کھلتا ہے۔

ناظمین دار العلوم[ترمیم]

دار العلوم کے منتظمین اس طرح سے ہیں:

  • عبد العزیز محدث رحیم آبادی، بانی
  • با بو عبد اللہ، دوسرے ناظم
  • ڈاکٹر سید محمد فرید، تیسرے ناظم
  • ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی، چوتھے ناظم
  • ڈاکٹر سید عبد العزیز سلفی، پانچویں ناظم

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Cite web|url=http://shodhganga.inflibnet.ac.in/bitstream/10603/94399/9/09_chapter%204.pdf%7Ctitle=Center of Islamic Learning and Modern Institution in}} India|last=|first=|date=|website=Shodh Ganga|archive-url=|archive-date=|dead-url=|access-date=2017-06-21}}
  2. "Darul Uloom Ahmaddiyah Salafiah | Darbhanga Bihar"۔ www.duasalafia.com (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-21۔
  3. "Salfia Unani Medical College"۔ www.salfiaunani.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-21۔
  4. "Salfia School"۔ salfiaschool.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-21۔