دار العلوم حقانیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دار العلوم حقانیہ
Darul Uloom Haqqania
JamiaHaqqania.jpg
قیام23 ستمبر 1947؛ 74 سال قبل (1947-09-23)
بانیمولانا عبد الحق
چانسلرشیخ الحدیث مولانا انوار الحق حقانی
مولانا حامد الحق حقانی
نائب صدرمولانا سلمان الحق حقانی
وائس چانسلرمولانا حامد الحق
طلبہ2022 Gul (4 July 2022), "In Pakistan, Funding for 'University of Jihad' Draws Fire", VOA News. Retrieved 19 May 2020.</ref>
مقاماکوڑہ خٹک نوشہرہ، ، پاکستان

دار العلوم حقانیہ ایک مسلم دینی درسگاہ ہے جو اکوڑہ خٹک، خیبر پختونخوا، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ بنیادی طور پر اہل سنت دیو بندی مکتب فکر کا مدرسہ ہے جو دار العلوم دیوبند کے خطوط پر قائم ہے۔[1]

تاریخ[ترمیم]

یہ مدرسہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا مدرسہ ہے اور یہ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی اسلامی تعلیم کی درسگاہ ہے ۔

اسے 1947ء میں مولانا عبد الحق جو پاکستانی سیاست دان مولانا سمیع الحق شہید کے والد محترم ہیں نے قائم کیا۔[2]

قابل ذکر شخصیات[ترمیم]

دار العلوم حقانیہ کے چانسلر شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق کے بعد شیخ انوارالحق صاحب ہیں۔[3] مدرسے کو افغانی طالبان کے بہت سے سینئر رہنماؤں بشمول ملا عمر کے یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔[4][5]

اس کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کے موجودہ سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی یہاں سے فارغ التحصیل ہیں

شیخ الحدیث مولانا ادریس ترنگزئی ،دیر باباجی ، شیخ رحیم اللہ حقانی، جلال الدین حقانی،مفتی عزیزالرحمان ہزاروی صاحب جیسے علماء حقانی بیٹے ہیں

حوالہ جات[ترمیم]

  1. EU snub for hardline Pakistan MP, BBC News Online, 20 April 2005
  2. Hussain، Zahid (2008-07-01). Frontline Pakistan: The Struggle with Militant Islam (بزبان انگریزی). Columbia University Press. ISBN 9780231142250. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 اکتوبر 2016. 
  3. Inside Islam's "terror schools", William Dalrymple, New Statesman, 28 March 2005
  4. The Father of the Taliban: An Interview with Maulana Sami ul-Haq , Imtiaz Ali, Spotlight on Terror, The Jamestown Foundation, Volume 4, Issue 2, May 23, 2007
  5. The 'university of holy war', Haroon Rashid, BBC Online, 2 October 2003