دار العلوم دیوبند کے فضلا کی فہرست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دار العلوم دیوبند بھارت کا ایک اہم اسلامی تعلیمی ادارہ ہے۔ جسے فضل الرحمن عثمانی، محمد قاسم نانوتوی، سید محمد عابد دیوبندی اور دیوبند قصبہ کے چند دیگر علما نے قائم کیا تھا۔ وہاں کے معروف سابق فضلا میں محمود حسن دیوبندی؛ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی اور شبیر احمد عثمانی؛ پاکستان کی بانی شخصیات میں شامل ہیں۔ وہاں کے سابق فضلا کی فہرست درج ذیل ہے:

فضلا[ترمیم]

نام تعارف حوالہ جات
عبد الحق اکوڑوی (1912ء–1988ء) وہ پاکستانی عالم دین اور اسلامی تعلیمی ادارہ دار العلوم حقانیہ کے بانی، چانسلر اور شیخ الحدیث تھے۔ وہ سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے رکن کی حیثیت سے سیاست میں شامل رہے۔ انھوں نے قومی اسمبلی پاکستان میں تین بار خدمات انجام دیں اور تحریک ختم نبوت کے فعال حامی تھے۔ [1]
عبد الحق اعظمی (1928ء–2016ء) وہ دار العلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث تھے اور 34 سال تک اس ادارہ میں صحیح البخاری پڑھاتے رہے۔ انھیں "شیخِ ثانی" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ [2]
عبد الخالق سنبھلی (1950ء–2021ء) وہ دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم تھے۔ [3]
عبد المتین چودھری (1915ء–1990ء) اسلامک ریسرچ سینٹر بنگلہ دیش کے بانی؛ جو اسلامی بینکنگ میں شامل تھے۔ [4]
عبد الرحمن بنگلہ دیشی (1920ء–2015ء) ایک بنگلہ دیشی عالم اور فارسی کے بڑے شاعر تھے۔ [5]
ابو الکلام قاسمی (1950ء–2021ء) وہ ایک اردو نقاد اور عالم تھے، جنھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ [6]
احمد حسن امروہی (1850ء–1915ء) وہ ایک محدث اور فقیہ تھے، جنھوں نے مراد آباد میں مدرسہ شاہی کے پہلے صدر مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ [7]
اطہر علی بنگالی (1891ء–1976ء) وہ ایک بنگلہ دیشی عالم دین اور سیاسی کارکن تھے، جو پاکستان کی تحریک آزادی میں شامل تھے۔ وہ نظام اسلام پارٹی کے بانی صدر تھے۔ [8]
انور شاہ کشمیری (1875ء–1933ء) وہ ایک محدث اور دار العلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث تھے۔ [9]
انظر شاہ کشمیری (1927ء–2008ء) وہ ایک محدث اور انور شاہ کشمیری کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ وہی جامعہ امام محمد انور شاہ کے بانی تھے۔ [10]
اصغر حسین دیوبندی (1877ء–1945ء) عام طور پر وہ تفسیر اور حدیث کی کتابیں پڑھاتے تھے، اس طرح دار العلوم دیوبند کے انتظامیہ نے حدیث کی (مخصوص) کتابیں بخاری، مسلم وغیرہ) اور تفسیر جلالین اور در مختار کی تدریس آپ سے متعلق کی۔ [11][12]
اشرف علی تھانوی (1863ء–1943ء) وہ ایک صوفی شیخ تھے، جو اپنے قرآنی تفسیر "بیان القرآن" اور (خواتین کے لیے مخصوص اسلامی فقہ کے معاملات کے بارے میں) "بہشتی زیور" کے لیے مشہور تھے۔ [13]
عتیق الرحمن عثمانی انھوں نے ندوۃ المصنفین اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مشترکہ بنیاد رکھی۔ [14][15]
عزیز الحق (1919ء–2012ء) خلافت مجلس کے بانی اور وہ پہلا شخص تھے، جس نے صحیح البخاری کا بنگالی زبان میں مکمل ترجمہ کیا۔ [16]
عزیز الرحمن عثمانی انھوں نے دار العلوم دیوبند کے پہلے صدر مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ [17]
بدر الدین اجمل عطر کے کاروباری، آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے بانی اور جمعیت علمائے ہند کی آسام شاخ کے صدر۔ [18]
مفتی فیض الوحید انھوں نے قرآن کا پہلا گوجری ترجمہ اور تفسیر لکھی۔ [19]
سید فخر الدین احمد (1889ء–1972ء) وہ ایک شیخ الحدیث اور بہت سے علماء کے سرپرست تھے۔ انھوں نے دار العلوم دیوبند کے صدر المدرسین کی حیثىت بھی خدمات انجام دیں۔ [20]
فضیل احمد ناصری (ولادت: 1978ء) استاذ حدیث و نائب ناظم تعلیمات جامعہ امام محمد انور شاہ ديوبند [21]
غلام مصطفی قاسمی وہ ایک سندھی عالم و ادیب تھے۔ [22]
حبیب الرحمن الاعظمی (1900ء–1992ء) وہ ایک عظیم محدث تھے۔ ان کی کوششوں سے مصنف عبد الرزاق السنانی اپنی اصل شکل میں واپس آئی۔ [23]
حبیب الرحمن لدھیانوی (1892ء–1956ء) وہ مجلس احرار الاسلام کے رہنما تھے۔ [24]
محمد اللہ حافظ جی حضور (1895ء–1987ء) بنگلہ دیش خلافت آندولن کے بانی اور بنگلہ دیش کے اعلیٰ ترین سرکاری عہدے کے لیے کھڑے ہونے والی پہلی مذہبی شخصیت [25]
حامد الانصاری غازی (1909ء – 16 اکتوبر 1992ء) وہ مدینہ کے ایڈیٹر تھے۔ [26]
حفظ الرحمن سیوہاروی (1900ء – 2 اگست 1962ء) وہ اردو زبان کے ایک مصنف تھے۔ انھوں نے تقریبا 25 سال (1922ء-1947ء) برطانوی حکومت کے خلاف جنگ لڑی اور آٹھ سال جیل میں گزارے۔ وہ ایک سیاست دان بھی تھے اور انھوں نے 1952ء سے 1962ء تک امروہہ لوک سبھا حلقہ سے انڈین نیشنل کانگریس کے لیے انڈین پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ اسلام کا اقتصادی نظام، اخلاق اور فلسفۂ اخلاق اور قصص القرآن کے مصنف ہیں ۔ [27][28]
حسین احمد مدنی (1879ء–1957ء) وہ دار العلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث اور برصغیر پاک و ہند کے مشہور عالم تھے۔ حدیث اور فقہ میں ان کی مہارت کے اعتراف میں انھیں شیخ الاسلام اور شیخ العرب والعجم کے لقب سے نوازا گیا۔ جمعیت علمائے ہند کے اعلی رہنما ہونے کے ناطے؛ انھوں نے دو قومی نظریہ کی تردید میں متحدہ قومیت اور اسلام لکھی۔ [29]
خالد سیف اللہ رحمانی (ولادت 1956ء) وہ اسلامک فقہ اکیڈمی، بھارت کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ [30]
محفوظ الحق قاسمی (ولادت 1969ء) وہ حفاظت اسلام بنگلہ دیش کے نائب صدر، وفاق المدارس العربیہ بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل اور جامعہ رحمانیہ عربیہ، ڈھاکہ کے چانسلر ہیں۔ وہ الھیأۃ العلیا کی قائمہ کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور بنگلہ دیش خلافت مجلس کے سیکرٹری جنرل تھے۔ [31]
محمد ادریس کاندھلوی (1899ء–1974ء) انھوں نے جامعہ اشرفیہ میں شیخ التفسیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور معارف القرآن، سیرت المصطفی، حجیتِ حدیث اور التعلیق الصبیح (عربی شرح: مشکوۃ المصابیح) جیسی کتابیں لکھیں۔ [32][33]
محمد الیاس کاندھلوی (1885ء–1944ء) وہ تبلیغی جماعت کے بانی تھے۔ [34]
امام الدین پنجابی (وفات 1916ء) انھوں نے جامعہ مفتاح العلوم مئو قائم کیا۔ [35]
اعزاز علی امروہوی (وفات 1955ء) انھوں نے دو مرتبہ دار العلوم دیوبند کے مفتی کے طور پر خدمت انجام دی: پہلی بار 1927ء سے 1928ء اور دوسری بار 1944ء سے 1946ء تک۔ ان کے تلامذہ میں محمد شفیع دیوبندی شامل ہیں۔ ان کی کتاب نفحۃ العرب ؛ دار العلوم دیوبند سمیت کئی مدارس میں درس نظامی کے نصاب میں شامل ہے۔ [36][37][38]
محفوظ الرحمن نامی، (1911ء–1963ء) انھوں نے بہرائچ میں مدرسہ نور العلوم اور آزاد انٹر کالج قائم کیا۔ [39]
محمود حسن دیوبندی (1851ء–1920ء) وہ شیخ الہند کے طور پر جانے جاتے تھے ، دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور نوآبادیاتی مخالف ریشمی رومال تحریک کے رہنما تھے۔ [40]
محمود حسن گنگوہی، ( 1907ء–1996ء) وہ دار العلوم دیوبند کے سابق صدر مفتی تھے۔ فتاوی محمودیہ (32 جلدیں) کے مصنف اور شیخ تصوف محمد زکریا کاندھلوی کے شاگرد تھے۔ [41]
ماجد علی جونپوری (وفات 1935ء) وہ اپنے وقت کے منطق و فلسفہ کے امام تھے۔ وہ جونپور ، اترپردیش کے رہنے والے تھے۔ [42]
سید مناظر احسن گیلانی (1892ء–1956ء) اردو کے مشہور مصنف و قلمکار۔ انہوں نے تدوین حدیث اور تدوین فقہ جیسی کتابیں لکھیں۔ انھوں نے اپنے کیریئر کے دوران کلیہ دینیات، جامعہ عثمانیہ کے ڈین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ [43]
مفتی عبد الرزاق (1932ء– 2021ء وہ جمعیت علمائے ہند کے نائب صدر تھے۔ [44]
محمد مسیح اللہ خان (1912ء–1992ء) وہ ایک صوفی شیخ اور اشرف علی تھانوی کےخلیفہ تھے۔ [45]
محمد فیض اللہ قاسمی (1892ء–1976ء) وہ ایک بنگلہ دیشی عالم اور فارسی زبان کے شاعر تھے۔ [46]
مفتی محمود (1919ء–1980ء) وہ انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کے رکن تھے اور پاکستان میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے بانی ممبروں میں سے ایک تھے۔ 1 مارچ 1972 کو وہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے دوران خیبر پختونخواہ (اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ) کے وزیر اعلی کے طور پر منتخب ہوئے۔ [47]
منت اللہ رحمانی (7 اپریل 1913ء – 20 مارچ 1991ء) وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پہلے جنرل سیکرٹری تھے۔ [48]
محمد اسماعیل کٹکی (1914ء-20 فروری 2005ء) وہ اوڈیشا کے اولین فضلائے دار العلوم دیوبند میں سے تھے اور ’’جمعیت علمائے اوڈیشا‘‘اور ’’امارت شرعیہ اوڈیشا‘‘کے پہلے صدر تھے۔ ردِّ قادیانیت پر ان کی عظیم خدمات ہیں۔ 1946ء میں انھوں نے جامعہ مرکز العلوم، سونگڑہ، کٹک قائم کیا تھا۔ [49]
محب اللہ بابو نگری (ولادت 1935ء) وہ حفاظت اسلام بنگلہ دیش کے کلیدی شخص اور چیف ایڈوائزر اور الجامعۃ الاسلامیہ عزیز العلوم بابونگر کے چانسلر ہیں۔ [50]
محمد میاں دیوبندی (1903ء–1975ء) وہ ایک مؤرخ اور مصنف تھے۔ [51]
مرتضی حسن چاند پوری (1868ء–1951ء) انھیں ابن شیر خدا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ اشرف علی تھانوی کے خلیفہ تھے۔ انھوں نے احمد رضا خان کے دار العلوم دیوبند کے علماء کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ 'مجموعہ رسائل چاند پوری' کے نام سے ان کے کئی مضامین شائع ہوئے۔ [52]
محمد مصطفٰی اعظمی (1930ء–2017ء) عصر حاضر کے علماء میں سے ایک ہونے کے باوجود؛وہ "عالمی شاہ فیصل اعزاز برائے مطالعہ اسلامیات (1980)" کے وصول کنندہ تھے۔ 'دراسات في الحديث النبوي وتاريخ تدوينه' اور 'المحدثون من اليمامة إلى 250 هـ' جیسی کتابوں کے مصنف ہیں۔ [53]
محمد سہول بھاگلپوری (وفات 1948ء) وہ دار العلوم دیوبند کے پانچویں صدر مفتی تھے۔ [54]
نور حسین قاسمی (1945–2020) وہ حفاظت اسلام بنگلہ دیش جمعیت علمائے اسلام بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل، الھیأۃ العلیا للجماعۃ القومیہ بنگلہ دیش کے نائب صدر، وفاق المدارس العربیہ بنگلہ دیش کے سینئر نائب صدر اور جامعہ مدنیہ باری دھارا، ڈھاکہ و جامعہ سبحانیہ محمود نگر شیخ الحدیث و مہتمم تھے۔ [55]
محمد طیب قاسمی (1897ء–1983ء) وہ دیوبندی مکتب فکر تحریک کے بانی محمد قاسم نانوتوی کے پوتے تھے۔ انھوں نے 1929ء سے 1981ء تک نصف صدی سے زائد عرصہ تک دار العلوم دیوبند کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ [56][10]
قاضی مجاہد الاسلام قاسمی وہ ایک فقیہ اور قاضی تھے۔ [57]
محمد نجیب قاسمی وہ ایک مصنف و قلمکار ہونے کے ساتھ ساتھ سنبھل، اتر پردیش میں النور پبلک اسکول کے بانی بھی ہیں۔ [58]
نذیر احمد قاسمی (ولادت 1 جون 1965ء) وہ ایک کشمیری دیوبندی عالم اور دار العلوم رحیمیہ کے صدر مفتی ہیں۔ [59]
نور عالم خلیل امینی (1952ء–2021ء) وہ دار العلوم دیوبند میں عربی زبان و ادب کے ممتاز استاذ تھے۔ وہ عربی اور اردو کے ادیب تھے اور اس کے ماہانہ عربی میگزین مجلہ الداعی کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ [60]
نور الدین گوہرپوری (1924ء–2005ء) وفاق المدارس العربیہ بنگلہ دیش کے چیئرمین، گوہر پور حسینیہ مدرسہ کے بانی۔ [61]
رحمت اللہ میر قاسمی وہ کشمیر میں سب سے بڑے اسلامی مدرسہدار العلوم رحیمیہ کے بانی ہیں۔
سعید احمد پالن پوری (1942ء – 19 مئی 2020ء) وہ دار العلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث اور صدر مدرس تھے [62]
سلیم اللہ خان (1921ء – 15 جنوری 2017ء) وہ ایک پاکستانی عالم اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سابق صدر تھے۔ محمد تقی عثمانی اور محمد رفیع عثمانی ان کے سرفہرست تلامذہ میں شامل ہیں۔ انھوں نے 1967ء میں کراچی میں جامعہ فاروقیہ قائم کیا۔ [63]
سید ممتاز علی (1860ء–1935ء) لاہور میں "دار الاشاعت" اور "رفاہِ عام پریس" کے بانی سید ممتاز علی؛ انیسویں صدی کے آخر میں خواتین کے حقوق کے علمبردار تھے۔ [64]
شکر اللہ مبارک پوری (1895ء,1896ء – 23 مارچ 1942ء) وہ علوم عقلیہ کے ایک قابل ذکر عالم تھے اور مدرسہ احیاء العلوم، مبارکپور کے دوسرے ناظم تھے۔ ان کے قابل ذکر تلامذہ میں قاضی اطہر مبارکپوری اور دار العلوم دیوبند کے سابق صدر مفتی مفتی نظام الدین اعظمی شامل ہیں۔ [65][66]
سید احمد ہاشمی (1932ء–2001ء) وہ جمعیت علماء ہند کے ساتویں جنرل سکریٹری تھے، دو بار راجیہ سبھا کے رکن رہے تھے اور مسافر سہولیات کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ [67]
سید نور الحسن بخاری (1908ء–1984ء) وہ "تنظیم اہل سنت" کے بانی تھے۔ حسین احمد مدنی اور محمد شفیع دیوبندی کے قابل ذکر شاگرد تھے۔ الاحساب فی الکتاب، توحید اور شرک کی حقیقت، سیرت امام عثمان ذو النورین(2 جلدیں) کے مصنف، ان کی بڑی کتاب 'الاصحاب فی الکتاب' بڑے پیمانے پر صحابہؓ بارے میں ایک بااثر کتاب سمجھی جاتی ہے۔ وہ سیاست میں بھی بہت بااثر تھے، اگرچہ انہوں نے کبھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا؛ لیکن مفتی محمود نے ان سے کے پی کے میں مہم چلانے کی درخواست کی۔ [حوالہ درکار]
سعید احمد اکبر آبادی (1908ء–1985ء) انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کلیہ دینیات کے ڈین، مدرسہ عالیہ، کلکتہ کے پرنسپل اور سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی میں لیکچرر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی کتابوں میں ’’ صدیق اکبر ‘‘، ’’ فہم قرآن ‘‘ اور ’’ وحی الٰہی ‘‘ شامل ہیں۔ [68]
محمد سالم قاسمی (1926ء–2018ء) وہ دار العلوم وقف دیوبند کے سابق مہتمم اور محمد طیب قاسمی کے بیٹے تھے۔ وہ اسلامک فقہ اکیڈمی، بھارت کے سرپرست اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر تھے۔ [69][70]
محمد سرفراز خان صفدر (1914ء–2009ء) وہ ایک پاکستانی عالم و مصنف تھے۔ [71]
محمد شفیع دیوبندی (1897ء–1976ء) تحریک پاکستان کے ایک اہم رہنما اور مفتی اعظم پاکستان تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان چلے گئے، جہاں انھوں نے 1951ء میں دار العلوم کراچی قائم کیا۔ ان کی تصانیف میں "معارف القرآن" مشہور و معروف ہے۔ [72]
محمد سفیان قاسمی (ولادت 1954ء) وہ دار العلوم وقف دیوبند کے موجودہ مہتمم ہیں۔ [73]
شبیر احمد عثمانی (1887ء–1949ء) انھیں شیخ الاسلام کہا گیا اور وہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے سابق رکن تھے۔ [74]
شاہ احمد شافعی (ولادت 1920ء) وہ حفاظت اسلام بنگلہ دیش کے موجودہ سربراہ ، الجامعۃ الاھلیہ دار العلوم معین الاسلام ہاٹ ہزاری کے موجودہ مہتمم اور بنگلہ دیش قومی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔ [75]
طہ کران (وفات. 2021ء) وہ مسلم جوڈیشل کونسل کے صدر مفتی تھے۔ [76]
عبید الحق (1928ء–2007ء) وہ بیت المکرم مسجد، ڈھاکہ، بنگلہ دیش کے سابق خطیب تھے۔ [77]
عبیداللہ سندھی (1872ء–1944ء) وہ تحریک آزادی ہند کے ایک سیاسی کارکن اور اس کے متحرک رہنما تھے۔ عبید اللہ سندھی نے برٹش انڈیا کی آزادی اور بھارت میں استحصال سے پاک معاشرے کے لیے جدوجہد کی۔ [78]
عثمان منصور پوری (1944ء–2021ء) وہ 2006 سے مئی 2021 تک جمعیت علمائے ہند (میم) کے قومی صدر رہے۔ [79]
عزیر گل پیشاوری وہ ایک تحریک آزادی ہند کارکن اور محمود حسن دیوبندی کے ساتھی تھے۔ ریشمی رومال تحریک میں اپنے کردار کی وجہ سے انھیں مالٹا کی جیل بھیج دیا گیا تھا۔ [80]
وجیہ اللہ سندویپی (وفات. 1920ء) وہ سندویپ، چٹاگانگ ضلع کے پہلے فاضل دیوبند تھے۔ [16]
یاسر ندیم الواجدی (ولادت. 1982ء) انھوں نے دار العلوم آن لائن قائم کیا۔ [81]
یوسف کران وہ ایک جنوبی افریقی عالم تھے، جنھوں نے مسلم جوڈیشل کونسل کے صدر مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ [82]
زین العابدین سجاد میرٹھی 1910ء–1991ء) وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامیات کے صدر اور تاریخ کے پروفیسر تھے۔ ان کی کتاب تاریخ ملت دار العلوم دیوبند اور اس سے وابستہ دیگر مدارس کے نصاب میں درج ہے۔ [64]
حبیب الرحمن قاسمی اعظمی (1941ء- 12 مئی 2021ء) وہ فن اسماء الرجال کے ماہر، دار العلوم دیوبند کے استاذِ حدیث اور ’’شیوخ الامام ابی ابوداؤد السجستانی فی کتاب السنن‘‘، ’’تذکرہ علمائے اعظم گڑھ‘‘، ’’اجودھیا کے اسلامی آثار‘‘ اور ’’بابری مسجد حقائق اور افسانے‘‘ سمیت کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ [83]
حبیب الرحمن خیر آبادی (ولادت:1933ء) دار العلوم دیوبند کے موجودہ صدر مفتی۔ [84]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Sheikh-Ul-Hadith Moulana Abdul Haq". 02 جنوری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  2. مدنی، محمد شاکر نثار (ویکی نویس). "دار العلوم دیوبند کے شیخ ثانی از نور عالم خلیل امینی". تذکرہ قطب زماں (ایڈیشن جولائی 2018). ادارہ پاسبان علم و ادب. 
  3. Qāsmi 2020, p. 689.
  4. المحمود، اے.ایچ.؛ الحسن، سید محمود (2008). সুন্নাতে নববীর মূর্ত প্রতীক: মাওলানা আব্দুল মতিন চৌধুরী শায়খে ফুলবাড়ী রাহ. صفحات 78–81. 
  5. "Organization". Central Shariah Board for Islamic Banks of Bangladesh. 07 ستمبر 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  6. مشتاق احمد صدف (جون 2006). ابو الکلام قاسمی: شخصیت اور ادبی خدمات. نئی دہلی: کتاب نما. صفحہ 17. 
  7. منصور پوری، سلمان (2014). تحریک آزادی ہند میں مسلم علماء اور عوام کا کردار. دیوبند: دینی کتاب گھر. صفحہ 156. 
  8. "Memoir of the Graduates of the Dar al-Ulum, Deoband: Maulana Athar Ali Bengali". History of the Dar Al-Ulum Deoband. 2. Idara-e Ihtemam. 1980. صفحات 101–102. 
  9. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 49. 
  10. ^ ا ب محمد اللہ خلیلی قاسمی. "Mawlana Anzar Shah Kashmiri: A Tribute to His Life and Services" [مولانا انظر شاہ کشمیری: ان کی زندگی اور خدمات کو خراج تحسین]. IlmGate.org. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  11. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین قریشی (ایڈیشن 1981). صفحات 61–62. 
  12. ابو محمد مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی. علمائے دیوبند کے آخری لمحات (ایڈیشن 2015). مکتبہ رشیدیہ سہارنپور. صفحہ 51. 
  13. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین قریشی (ایڈیشن 1981). صفحات 32–33. 
  14. نایاب حسن قاسمی. دار العلوم دیوبند کا صحافتی منظر نامہ. ادارہ تحقیق اسلامی، دیوبند. صفحات 176, 198. 
  15. مہدی، جمیل (ویکی نویس). "عتیق الرحمن عثمانی (1901ء–1984ء)". مفکرِ ملت نمبر، برہان (ایڈیشن نومبر 1987). دہلی: ندوۃ المصنفین. صفحات 506–507. 
  16. ^ ا ب Mawlana Nur Muhammad Azmi. "2.2 বঙ্গে এলমে হাদীছ" [2.2 بنگال میں حدیث کا علم]. হাদীছের তত্ত্ব ও ইতিহাস [حدیث کی معلومات اور تاریخ] (بزبان بنگالی). Emdadia Library. صفحہ 26. 
  17. اسیر ادروی. تذکرۂ مشاہیر ہند: کاروان رفتہ. صفحات 197–198. 
  18. "Bioprofile of 15th Lok Sabha members, India". 02 نومبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2012. 
  19. "Mufti Faizul Waheed, who first translated Quran into Gojri, critical". The Kashmir Walla. 24 May 2021. اخذ شدہ بتاریخ 01 جون 2021. 
  20. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 158. 
  21. ڈاکٹر اعجاز ارشد قاسمی. علمائے دیوبند کی اردو شاعری (ایڈیشن جون 2017). کریٹیو اسٹار پبلیکیشنز، جامعہ نگر، نئی دہلی. صفحہ 191. 
  22. Shaikh Aziz (11 December 2003). "Allama Qasmi passes away". ڈان. اخذ شدہ بتاریخ 07 ستمبر 2020. 
  23. ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی. عالم اسلام کے چاند مشاہیر (سوانح و افکار کا مطالعہ) (ایڈیشن مارچ 2017). رہبر بک سروس، جامعہ نگر، نئی دہلی. صفحات 216–217. 
  24. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 105. 
  25. Islam, Muhammad Nazrul؛ Islam, Muhammad Saidul (20 March 2020). "Islam, Islamism, and democracy in Bangladesh". Islam and Democracy in South Asia: The Case of Bangladesh. Springer Publishing. صفحہ 241. 
  26. قاسمی، نایاب حسن. "مولانا حامد الانصاری غازی". دار العلوم دیوبند کاصحافتی منظر نامہ (ایڈیشن 2013). دیوبند: ادرہ تحقیق اسلامی. صفحات 197–200. 
  27. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 107. 
  28. "Maulana Hifzur Rahman and his Qasas-ul-Qur'an". www.arabnews.com. اخذ شدہ بتاریخ 10 جولا‎ئی 2019. 
  29. نظام الدین اسیر ادروی. مآثر شیخ الاسلام. دار المؤلفین دیوبند. 
  30. آفتاب غازی قاسمی؛ عبد الحسیب قاسمی (فروری 2011). "خالد سیف اللہ رحمانی". فضلائے دیوبند کی فقہی خدمات. دیوبند: کتب خانہ نعیمیہ. صفحات 395–410. 
  31. Staff Correspondent (3 October 2020). "Qawmi Madrassah Education Board gets new chairman". New Age (Bangladesh). 
  32. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 99. 
  33. محمد ادریس کاندھلوی. "مولانا محمد ادریس کاندھلوی: احوال و آثار از محمد سعد صدیقی". حجیتِ حدیث. اریب پبلیکیشنز، نئی دہلی. صفحات 9–18. 
  34. ابو الحسن علی حسنی ندوی. مولانا الیاس اور ان کی دینی دعوت. دینی پبلیکیشنز، دیوبند. صفحہ 51. 
  35. ادروی، اسیر. ولی و شیخ: مولانا امام الدین پنجابی. دیوریا، اترپردیش: قمر الباری ایم.ایس سی. 
  36. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 64. 
  37. محمد تقی عثمانی. اکابر دیوبند کیا تھے؟ (ایڈیشن مئی 1995). زمزم بک ڈپو، دیوبند. صفحہ 71. 
  38. محمد حنیف گنگوہی. "صاحب نفحۃ العرب". حالات مصنفین درس نظامی (PDF) (ایڈیشن مارچ 2000). کراچی، دار الاشاعت. صفحات 246–251. اخذ شدہ بتاریخ 22 مارچ 2020. 
  39. قاسمی، امیر احمد (ویکی نویس). "بانی جامعہ مسعودیہ نور العلوم بہرائچ". نور العلوم کے درخشندہ ستارے (ایڈیشن 2011). حافظ ضمیر احمد. صفحات 27–35. 
  40. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین ایف قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 19. 
  41. (سوانح فقیہ الامتاز مفتی فاروق میرٹھی۔)
  42. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین ایف قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 55. 
  43. "The Distinguished Researcher and Litterateur: Mawlānā Manāzir Ahsan Gīlāni". IlmGate.org. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  44. "مفتی عبدالرزاق خان بھوپالی نائب صدر جمعیۃعلماءہند وفات پاگئے". بصیرت آن لائن. 27 مئی 2021. اخذ شدہ بتاریخ 26 مئی 2021. 
  45. "مولانا مسیح اللہ خان شیروانی". White Thread Press. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  46. ابو موسی محمد عارف باللہ (2012). "فیض اللہ، مفتی". In Islam، Sirajul؛ Miah، Sajahan؛ Khanam، Mahfuza؛ Ahmed، Sabbir. Banglapedia: the National Encyclopedia of Bangladesh (ایڈیشن Online). Dhaka, Bangladesh: Banglapedia Trust, Asiatic Society of Bangladesh. ISBN 984-32-0576-6. OCLC 52727562. اخذ شدہ بتاریخ 12 نومبر 2021. 
  47. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین ایف قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 124. 
  48. نور عالم خلیل امینی. "مولانا جلیل القدر عالم و قائد امیر شریعت: حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی – چند یادیں". پس مرگ زندہ (ایڈیشن پانچواں، فروری 2017). دیوبند: ادارہ علم و ادب. صفحات 214–238. 
  49. روح الامین، محمد (4 اکتوبر 2021). "مناظر اسلام مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی قاسمی رحمہ اللّٰہ: حیات و خدمات". بصیرت آن لائن. اخذ شدہ بتاریخ 05 اکتوبر 2021. 
  50. Salehi، Asghar (2019-10-31). "Short biography of Allama Shah Muhibbullah Babunagari". QOWMIPEDIA (بزبان بنگالی). اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2020. 
  51. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین ایف قریشی (ایڈیشن 1981). صفحات 109–110. 
  52. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین ایف قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 42. 
  53. محمد نجیب قاسمی. "Dr. Muhammad Mustafa Azmi & His Contributions To Hadeeth". Deoband.net. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  54. نظام الدین اسیر ادروی. تذکرہ مشاہیر ہند: کاروان رفتہ. صفحہ 115. 
  55. "Nur Hossain Kasemi passes away at 75". The Daily Star (بزبان انگریزی). 2020-12-14. اخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2020. 
  56. ڈاکٹر. محمد شکیب قاسمی؛ شیخ غلام نبی قاسمی. حیات طیب (PDF) (بزبان انگریزی). حجۃ الاسلام اکیڈمی، دار العلوم وقف، دیوبند. صفحہ 24. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  57. ظفر احمد نظامی، قلمی خاکے
  58. "Profile of Mohammad Najeeb Qasmi". NajeebQasmi.com. اخذ شدہ بتاریخ 31 مئی 2019. 
  59. "Mufti Nazir for social reformist groups". گریٹر کشمیر. 14 March 2015. اخذ شدہ بتاریخ 05 ستمبر 2020. 
  60. "مولانا نور عالم خلیل امینی عربی و اردو کی مشترکہ لسانی روایت کے علم بردار تھے:ابرار احمد اجراوی". قندیل آن لائن. 3 May 2021. اخذ شدہ بتاریخ 04 مئی 2021. 
  61. "আল্লামা গহরপুরী পরিচিতি". গহরপুর হোসাইনিয়া মাদ্রাসা (بزبان بنگالی). 17 اگست 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 اگست 2019. 
  62. "Introduction of Mufti Saeed Ahmed Palanpuri". jamianoorululoom.com. اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2020. 
  63. "Maulana Saleemullah passes away". Dawn (newspaper). 16 January 2017. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2020. 
  64. ^ ا ب نایاب حسن قاسمی. "مولانا قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی". دار العلوم دیوبند کا صحافتی منظر نامہ. دیوبند: ادارہ تحقیق اسلامی. صفحات 147–151, 195–197. 
  65. قاضی اطہر مبارکپوری. "مولانا شکر اللہ مبارکپوری". تذکرہ علمائے مبارکپور (ایڈیشن 2010). مکتبۃ الفہیم، مئو. صفحات 264–276. 
  66. محمد سالم مبارکپوری. مولانا شکر اللہ مبارکپوری سوانحی خاکہ. مولانا شکر اللہ مبارکپوری اکیڈمی، مبارکپور. صفحات 3–13. 
  67. Muhammad عارف عمری (2 نومبر 2017). "مولانا سید احمد ہاشمی: ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند". ملت ٹائمز. اخذ شدہ بتاریخ 12 جولا‎ئی 2021. 
  68. مفتی عبید انور شاہ قیصر. "سعید احمد اکبر آبادی: ایک صاحب قلم شخصیت". ندائے دار العلوم وقف (ایڈیشن ربیع الثانی، 1438). دار العلوم وقف دیوبند. صفحہ 49. 
  69. "Obituary: Maulana Muhammad Salim Qasmi, an ocean of knowledge". TwoCircles.net. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  70. ڈاکٹر. محمد شکیب قاسمی؛ شیخ غلام نبی قاسمی. حیات طیب (PDF) (بزبان انگریزی). حجۃ الاسلام اکیڈمی، دار العلوم وقف دیوبند. صفحہ 194. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  71. "The Pride of Deoband: Shaykh Muhammad Sarfaraz Khan Safdar". deoband.org. 11 May 2009. اخذ شدہ بتاریخ 20 جون 2020. 
  72. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین ایف قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 93. 
  73. "Maulana Mohammad Sufyan Qasmi, The Rector, Jamia Islamia Darul Uloom Waqf, Deoband". dud.edu.in. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  74. رضوی، سید محبوب. تاریخ دار العلوم دیوبند [ہسٹری آف دی دار العلوم دیوبند]. 2. ترجمہ بذریعہ مرتاض حسین ایف قریشی (ایڈیشن 1981). صفحہ 68. 
  75. "Profile of Allama Ahmed Shafi". hifazat-e-islam. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  76. "If Only Someone Else Said it, Mufti Taha Karaan of South Africa". Seekers Guidance. 11 August 2020. اخذ شدہ بتاریخ 11 جون 2021. 
  77. "Khatib Obaidul Haq passes away". TheDailyStar.net. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  78. "Profile of MAULANA OBAIDULLAH SINDHI". FindPk.com. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2019. 
  79. محمد اللہ قاسمی. دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن 2020). دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی. صفحہ 686. 
  80. محمد میاں دیوبندی. "مولانا عزیز گل". اسیران مالٹا (ایڈیشن جنوری 2002). دیوبند: نعیمیہ بک ڈپو. صفحات 367–376. 
  81. عبدالرحمن صدیقی (3 June 2021). "ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی اور سرجیکل اسٹرائک". اردو لیکس. اخذ شدہ بتاریخ 04 جون 2021. 
  82. Baderoen، M. A. (July 2012). Footprints. ISBN 9781468908862. اخذ شدہ بتاریخ 25 مئی 2020. 
  83. اعظمی، عبد العلیم بن عبد العظیم (30 جون 2021). "مولانا حبیب الرحمن اعظمی حیات وخدمات". جہازی میڈیا ڈاٹ کام. عبد العلیم بن عبد العظیم اعظمی. اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2021. 
  84. محمد اللّٰہ قاسمی. دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن 2020). دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی. صفحہ 704-705.