دار العلوم ندوۃ العلماء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دار العلوم ندوۃ العلماء
{{#if:
Mohr copy.jpg
شعار إلی الإسلامِ مِن جدید (عربی)
شعار اردو میں
"از سرِ نو اسلام کی جانب"
تاسیس 1315ھ مطابق 1898ء
الحاق اسلام
مقام لکھنؤ، اترپردیش، بھارت بھارت کا پرچم
ویب سائٹ

www.nadwatululama.org

www.nadwa.in

ندوۃ العلماء 1894ء میں قائمہوا۔ کہا جاتا ہے کہ مولوی عبدالغفور صاحب اس خیال کے محرک تھے، لیکن بعد میں محمد علی نے اس کو عملی جامہ پہنایا۔ موج کوثر کے مصنف محمد اکرم (شیخ) کے مطابق مولانا شبلی اور مولوی عبدالحق دہلوی نے اس ادارے کے قواعد مرتب کیے۔

اغراض و مقاصد[ترمیم]

  1. علمائے اسلام کے باہمی اختلافات کو ختم کرنا۔
  2. مسلمانوں کے لیے موزوں نصاب تعلیم فراہم کرنا۔

جہاں تک ندوة العلماء کے اغراض و مقاصد کا تعلق تھا یہ مسلمانوں کے بہترین مفاد میں تھا اس لیے پوری قوم میں اس کی پزیرائی ہوئی۔ یہاں تک کہ سرسید احمد خان اور محسن الملک نے بھی ان کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ حقیقت میں شبلی نعمانی ندوۃ العلماء کے روح رواں تھے۔ جب اس ادارے کو برے دن دیکھنا پڑے تو شبلی نعمانی 1904ء میں اپنی ملازمت کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ آئے اور ندوۃ العلماء میں نئی روح پھونک دی۔ یہ آپ ہی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ندوہ کا شمار امت مسلمہ کے قابل فخر اداروں میں ہونے لگا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]