دار المصنفین شبلی اکیڈمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(دار المصنفین سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

دار المصنفین شبلی اکیڈمی ایک علمی و تحقیقی ادارہ ہے جو بھارت کے شہر اعظم گڑھ میں واقع ہے۔[1] اس ادارے کا قیام علامہ شبلی نعمانی کا دیرینہ خواب تھا۔[2] دارالمصنفین کے قیام کی بات علامہ شبلی نے سب سے پہلے 1910ء میں ندوۃ العلما کے اجلاس میں کی تھی۔ شبلی نے اپنی موروثی جائداد میں ہی دارالمصنفین کی بنیاد رکھ دی۔ تعمیر کا کام بھی شروع ہو گیا، لیکن ابھی وقف نامہ ہی زیرِ تحریر تھا کہ 18 نومبر 1914 ء کو دارالمصنفین کی تکمیل کی حسرت لیے ہوئے قوم کا نیرِ تاباں غروب ہو گیا۔ لیکن ان کے شاگردوں کے ہاتھوں یہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

مقاصد[ترمیم]

دارالمصنفین اپنے قیام کے وقت سے ہی اپنے مقاصد کے حصول میں مصروف ہے۔ سید سلیمان ندوی نے دارالمصنفین کو عالمی سطح پر متعارف کرادیا۔ دارالمصنفین کے قیام کے مقاصد وہی تھے جو بیت الحکمت بغداد کے قیام کا تھا ’’دارالمصنفین کی تاریخی خدمات‘‘ کے دیباچہ میں اس کے مقاصد کو ان الفاظ میں تعبیر کیا گیا ہے :

  1. ملک میں اعلی مصنفین اور اہل قلم کی جماعت پیدا کرنا
  2. بلند پایہ کتابوں کی تصنیف و تالیف اور ترجمہ کرنا
  3. ان کی اور دیگر علمی ادبی کتابوں کی طبع و اشاعت کا انتظام کرنا۔

آج دارالمصنفین کی خدمات کے مطالعہ کے بعد پوری دیانتداری کے ساتھ یہ اعتراف کیا جاسکتا ہے کہ دارالمصنفین اپنے مقاصد کی حصولیابی میں بہت حد تک کامیاب ثابت ہوا ہے۔

دارالمصنفین کی علمی مملکت[ترمیم]

دارالمصنفین میں دارالتصنیف، دارالاشاعت، دارالطباعت، شعبہ رسالہ معارف، دارالکتب جیسے اہم شعبے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دارالمصنفین کے کتب خانہ میں عربی، فارسی، انگریزی اور اردو کی بیش بہا کتابیں اور نادر مخطوطات موجود ہیں۔ عربی مخطوطات میں کتاب الجمل، شرح نہج البلاغہ ،کتاب المیزان، احیاء العلوم اور فتاوی عالمگیری اور فارسی مخطوطات میں اکبر نامہ، مونس الارواح، سر اکبر روضۂ تاج محل، کلیات کلیم، ظفر نامہ امیر تیمور، تاریخ فرشتہ ،قصص العجائب، تزک جہانگیری، سفینۃ الاولیاء تذکرہ مخزن الغرائب ،مرآۃ العالم، فرہنگ جہانگیری، کلمۃ الحقائق، مدارج النبوۃ قابل ذکر ہیں ۔

ماہنامہ معارف[ترمیم]

معارف کے نام سے ایک رسالہ نکالنے کا خیال شبلی کے ذہن میں علی گڑھ کے قیام کے دوران ہی آگیا تھا۔ لیکن کسی وجہ سے یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ جب شبلی نے دارالمصنفین کا خاکہ تیار کیا تو اس میں ایک علمی رسالہ بھی شامل تھا۔ شبلی نے اس کا نا م ’’معارف‘‘ رکھا اور اس کے اغراض و مقاصد کا خاکہ بھی تیار کر دیا تھا، شبلی کی ناگہانی وفات کی وجہ سے ان کی زندگی میں یہ خواب پورا نہ ہو سکا، جب ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے اپنے استاذ کی وصیت کے مطابق ان کے علمی خوابوں کی تکمیل کا بوجھ اٹھایا۔ جب دارالمصنفین نے جون 1916ء میں اپنا پریس قائم کیا تو شبلی کا یہ دیرینہ خواب سید صاحب کے ہاتھوں تکمیل کو پہنچا۔ معارف کا پہلا شمارہ جولائی 1916 میں نکلا۔ یہ رسالہ دارالمصنفین کا علمی ترجمان ہے۔ اس کے مقاصد وہی ہیں جو دارالمصنفین کے قیام کے ہیں۔

دارالمصنفین کی علمی خدمات[ترمیم]

دارالمصنفین ایک ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک تحریک بھی ہے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ دارالمصنفین کی خدمات ہمہ جہت ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ علمی میدان میں ان کی خدمات انتہائی اہم ہیں۔ رسالہ معارف کا اجرا اور اس کا اس تسلسل کے ساتھ جاری رہنا سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ دارالمصنفین نے اہلِ قلم کی جماعت تیار کر کے علمی دنیا پر بڑا احسان کیا ہے۔ دارالمصنفین سے شائع ہونے والی علمی اور تحقیقی کتابیں ان سب پر مستزاد ہیں۔ دارالمصنفین میں جن موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے اس میں سیرتِ نبوی، سوانح و تذکرہ، حدیث و فقہ ،تصوف، تاریخ اسلام، تاریخ ہند ،فلسفہ، سائنس، علم الکلام، اردو ادب اور تاریخ اردو ادب وغیرہ شامل ہیں۔ دارالمصنفین سے بعض اہم کتابوں کا ترجمہ بھی کرایا گیا ہے۔ لیکن زیادہ تر مستقل تصنیف ہیں۔ اب تک تقریباً ڈھائی سو کتابیں چھپ چکی ہیں۔ سیرت کے موضوع پر سب سے پہلی کتاب سیرت النبی لکھی گئی ہے، جو سات جلدوں پر مشتمل ہے۔ پہلی دو جلد علامہ شبلی کی ہیں، باقی جلدیں ان کے شاگرد سید سلیمان ندوی کی ہیں۔ اس کے علاوہ سید سلیمان ندوی کی دو کتابیں خطبات مدراس اور رحمت عالم سیرت کے موضوع پر طبع ہوئی ہیں۔ سیر صحابہ کی بارہ جلدوں کا عظیم الشان کارنامہ بھی دارالمصنفین کا ہی حصہ ہے، تاریخ اسلام کے سلسلے کا نمایاں کارنامہ ہے۔[3]

دارالمصنفین کی گولڈن جوبلی[ترمیم]

1965ء میں دارالمصنفین کی گولڈن جوبلی منائی گئی، جس کی صدارت ڈاکٹر ذاکر حسین صدر جمہوریہ ہند نے کی۔[4]

رسالہ[ترمیم]

دار المصنفین کے زیر اہتمام ایک ماہنامہ معارف شائع ہوتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]