مندرجات کا رخ کریں

دامن مہاڑ کنڈ شمالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ضلع خوشاب کی قدیم ترین آبادیوں میں سے ایک آبادی ہے، موسم کے لحاظ سے گرم مگر خوبصورت آبادی وادئ سون سے پہلے دامن مہاڑ میں واقع ہے، مہاڑ یا پربت مقامی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں،

موضع کنڈ کی آبادی میں 95 فیصد سے زائد لوگ حضرت قطب شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد سے ہیں جنہیں عرفِ عام میں اعوان کہا جاتا ہے، کنڈ میں آباد اعوانوں کی تاریخ کافی پرانی ہے، سلطان محمود عزنوی دور میں حضرت قطب شاہ عرب شریف سے آنے والے قافلوں میں بغرضِ جہاد آئے، آپ کے بعد آپ کی اولاد سے دو بیٹے عبد اللہ گورڑہ اور محمد کندلان ( کنڈان قوم کے جدِ امجد) دو مختلف اوقات میں جہاد کی غرض سے برصغیر میں آئے تاہم دوسری دفع عبد اللہ گورڑہ نے جام شھادت نوش کیا اور موجودہ مقام دادا گورڑہ پہ آپ کو ایک سال کے لیے امانتاً دفن کیا گیا ، جب ایک سال بعد شھید کی میت کو بغداد شریف لے جایا جانے لگا تو قافلے کے کثیر تعداد میں لوگوں نے وادئ سون اور دامن مہاڑ میں اپنی عارضی/ مستقل پناہ گاہیں بنا لی تھیں چنانچہ انھوں نے قافلے کے ساتھ جانے کی بجائے یہیں رہنے کو ترجیح دی، انہی رہ جانے والے لوگوں میں عبد اللہ گورڑہ اور محمد کندلان کی اولاد بھی تھی،

بنیادی طور مؤرخین کنڈ کی تاریخ یہیں سے ہی شروع کرتے ہیں، کنڈ کی وجہ تسمیہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے، محمد کندلان کی اولاد نے سب سے پہلے ایک بستی تعمیر کی جسے کَند کا نام دیا گیا، جو حوادثِ زمانہ کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے ہوتے کُنڈ کے نام سے جانا جانے لگا،

1857 کی جنگ آزادی میں جب برصغیر مکمل طور پر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور مسلم آبادیوں پر شب خون مارے جانے لگے تو اس وقت کنڈ کی آبادی موجودہ ڈیرہ کیلہ سے تقریباً ایک کلومیٹر شمال میں ایک پہاڑی کے دامن موجود تھی، جن میں کچھ لوگ گلہ بانی اور زراعت سے وابستہ تھے اور کچھ قریب سے گزرنے والی سرکاری ( لونڑی ) سڑک پر گزرنے والے قافلوں سے چھینا جھپٹی کرکے اپنی گذر اوقات کرتے رہتے تھے، اس جگہ کو اب پرانے کھولے ( مکانات) کہا جاتا ہے نشانات وقتاً فوقتاً اب بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں،

جبکہ عبد اللہ گورڑہ کی اولاد میں کچھ لوگ جنھیں روحانیت و تصوف سے شغف تھا یہاں سے شمال مغرب میں بالکل الگ  ایک وادی آباد کی جسے اب چپھڑ شریف کے نام سے جانا جاتا ہے ،

جب مسلم آبادیوں پر سکھوں اور ہندوؤں کے حملے بڑھنے لگے تو یہاں سے مذکورہ کنڈ کی آبادی شفٹ ہوئی اور دو کلومیٹر جنوب سامنے کی جانب  U ٹائپ پہاڑ میں پھر مکانات تعمیر کیے اب یہ جگہ پرانا کنڈ کہلاتی ہے اور بہت سارے پرانے مکانات اب بھی موجود ہیں ، یہ جگہ ڈیرہ کیلہ سے بالکل اوپر پہاڑوں کے درمیان میں ہے۔

یہاں سے شفٹ ہو کر کنڈ کب موجودہ جگہ پر آیا اس بارے کوئی مستند روایت موجود نہیں ہے، البتہ موجودہ جگہ پر قیام پاکستان سے قبل ایک بار پھر ہندو سکھ اور مسلمان اکٹھے رہتے تھے، تاہم معیشت پہ ہندو سیٹھ قابض تھے، بنیادی طور پر کنڈ زرخیز علاقہ ہے  بارانی فصلوں کا دارومدار بروقت ہونے والی بارشوں پہ ہے، اہم فصلوں میں باجرہ، جوار، چنے، کالے تِل  گندم وغیرہ اہم ہیں،

شرح خواندگی ستر فیصد سے زائد ہے، لوگوں کی اکثریت افواج پاکستان میں ہے، جن میں پہلے نمبر پہ بری فوج، پھر فضائیہ اور پھر بہت کم تعداد میں لوگ نیوی میں ہیں،

ضلع خوشاب کے مایہ ناز عالم دین مولانا منصب خان سیالوی الازہری مرحوم کا تعلق کنڈ سے تھا،  کنڈ کی سرزمین سے پروفیسرز بھی نکلے، جن میں پروفیسر محمد حیات اعوان ( ڈھڈی) پروفیسر محمد اعظم کنڈان، پروفیسر فتح محمد اعوان (حفظال) شامل ہیں ، اسی دھرتی کے دو سپوت برگیڈیئر سرفراز اعوان ( دربال ) مرحوم جبکہ برگیڈیئر ڈاکٹر محمد فیاض ملک ( کنڈان) حاضر سروس ہیں، ایک مایہ ناز سپوت پاک فضائیہ میں ہواباز شہر یار کنڈان بھی کنڈ سے ہی تعلق رکھنا ہے،

پرائمری اور مڈل اسکولز کے علاوہ سرزمین کنڈ کے پاس بچوں اور بچیوں کا ایک ایک کالج بھی موجود ہے ، کنڈ کے میدان سیاست میں کسی زمانے میں دو فیملیوں ( ملک محمد خان اور خدا یار ) کا راج رہا تاہم تحریک انصاف کی انٹری کے بعد نئ نسل اپنی ترجیحات تبدیل کر چکی ہے ،  کنڈ کی سرزمین میں سیاسی سطح پہ ملک افتخار گندوال کام نام بھی نہیں بھلایا جا سکتا ، ملکی سطح کے دو بڑے منصوبوں کا سروے بھی کنڈ کی سرزمین سے ہو چکا ہے اگر منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے تو کنڈ کو انشاء اللہ بہت بڑا فائدہ ہوگا، ایک منصوبہ سی پیک کا للہ انٹر چینج سے موسیٰ خیل تک موٹروے برانچ اور دوسرا منصوبہ کالاباغ ڈیم بننے کی صورت میں نہر کا ہے یہ سروے تقریباً 30 سال قبل ہوا تھا، لیکن کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک،

اسی کنڈ[1] کی سرزمین ناڑہ کے مقام پر 1971 کی جنگ میں دشمن کا جہاز ہمارے شاہینوں مار گرایا تھا،

اس سرزمین میں بے شمار اولیاء کرام کے مزارات بھی موجود ہیں۔ہیں۔

شکریہ


حوالہ جات[ترمیم]

  1. "کنڈ کی تصاویر"۔ 16 جنوری 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 جنوری 2022