دتاتریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دتاتریہ
دتاتریہ
دتاتریہ کی مصوری از راجا روی ورما
ملحقہتری مورتی کا اوتار
مسکنمختلف
علاماتشنکھ، چکر، کنول، تری شول، کمنڈل، ڈمرو
ذاتی معلومات
والدین

دتاتریہ، دتا یا دتا گرو[1]، ہندو مت میں ایک بھگوان اور سنیاسی اور یوگا کے دیووں میں سے ایک ہیں۔ ہندوستان اور نیپال کے بہت سے علاقوں میں، وہ دیوتا سمجھے جاتے۔ مہاراشٹرا ، گووا ، کرناٹک اور گجرات، میں تاتریا کو تین ہندو دیوتاؤں برہما ، وشنو اور شیو کا اوتار سمجھا جاتا ہے، جنہیں مجموعی طور پر تریمورتی کہا جاتا ہے۔[2] دوسرے علاقوں میں اور مقدس کتب میں کچھ جیسے گروڈ پران ، برہما پران اور ستوت سنہتا، وہ مہا وشنو کے اوتار ہیں۔[3]

ان کی پیکر نگاری علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہے۔ مغربی مہاراشٹر اور آندھر پردیش میں انہیں تین سروں اور چھ ہاتھوں والا، ہر سر اور ہر ہاتھ تری مورتی کے اجزا یعنی برہما، وشنو اور شیو سے متعلق ہے۔ ان کے ہاتھوں میں جاپ مالا اور پانی کا کلش برہما کا، شنکھ اور سدرشن چکر وشنو کا اور شیو کا ڈمرو ہوتا ہے۔[2] انہیں عموماً کنارہ کش و مجتنب سادھو کے طور پر دکھایا جاتا ہے جو جنگل یا بیابان میں رہنے، دنیاوی راحت اور مال کا تیاگ کرنے والا اور دھیانی یوگی طرز کی زندگی بسر کرنے والا ہوتا ہے۔ مصوریوں اور کچھ بڑی نقاشیوں میں انہیں کُتوں اور ایک ایک گائے کے ساتھ دکھایا جاتا ہے، کتے چار ویدوں کی علامتیں ہیں بلکہ دتا گرو کے نزدیک تمام تخلیقات بالخصوص جانوروں میں مماثلت اور برابری ہے۔ ان کی تعلیمات سے مقدس اور پاک گائے سے لے کر کتے تک چھوٹی اور بڑی ذاتوں میں مساوات کا درس ملتا ہے۔ یہ سب ایک کرشماتی شخصیت نے بیان کیا، جو ایک اوتاری پُرش (گاڈ مین) ہیں اور ان کا تعلق دتاتریہ کی آل سے ہے، شری رام کرشن سرسوتی کشیرساگر سوامی جی امبیکاپوری۔ شمالی ہند میں گائے کو پرتھوی ماتا (ارضِ مادر) جو تمام جانداروں کو پالتی ہے، کی علامت کے طور پر پوجا جاتا ہے۔ [2][4] جنوبی مہاراشٹر، وارانسی (بنارس) اور ہمالیہ کے مندروں میں ان کی پیکر نگاری میں انہیں ایک ہاتھ اور دو سروں والا مع چار کتوں اور ایک گائے کے ساتھ دکھاتا جاتا ہے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Sri Duttatreya (Raja Ravi Varma)". 
  2. ^ ا ب پ Maxine Berntsen (1988). The Experience of Hinduism: Essays on Religion in Maharashtra. State University of New York Press. صفحات 95–96. ISBN 978-0-88706-662-7. 
  3. Rigopoulos 1998.
  4. Rigopoulos 1998، صفحات 224–226.