درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
درج فہرست طبقات سے وابستہ لوگ بھارت کی سڑک پر چلتے ہوئے۔

درج فہرست طبقات اور درج فہرست قبائل بھارت میں موجود مختلف ذاتوں اور قبائل کا زمرہ ہے جنہیں ان کی پسماندگی کی وجہ سے مختلف سرکاری فوائد حاصل ہیں۔ بھارت میں یہ فہرستیں مرکزی سطح اور ریاسی حکومتوں کی سطح پر کہیں کہیں یکساں ہیں اور کہیں کہیں مختلف ہیں۔

دونوں زمروں کے لوگوں کا دستور میں عمومی تذکرہ[ترمیم ماخذ]

دَلِت یا نچلی ذات کی اَچھُوتی مانی جانے والی خاتون بمبئی میں۔ 1942ء کی تصویر

دستور کی دفعہ 46 کی رو سے : "مملکت خصوصی توجہ کے ساتھ پسماندہ طبقات، بالخصوص درج فہرست طبقات اور درج فہرست قبائل کے لوگوں کے تعلیمی اور معاشی مفاد کے فروغ کی کوشش کرے گی اور انہیں ہر قسم کی ناانصافی اور استحصال سے بچائے گی۔"[1]

درج فہرست طبقات کا سماجی تحفظ[ترمیم ماخذ]

  • دستور کی دفعہ 17 کی رو سے اچھوتاپن پر پابندی لگادی گئی اور کسی بھی شکل میں اس کی عمل آوری کو ممنوع قرار دیا گیا۔
  • اس دفعہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اچھوتاپن (جرائم) قانون 1955ء (Untouchability (Offences) Act, 1955) بنایا گیا۔ اسی قانون کی 1976ء بازتسمیہ ہوئی اور شہری حقوق تحفظ قانون 1976ء کا نام دیا گیا۔ مظالم سے نمٹنے کے لیے درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل (انسداد مظالم) قانون 1989ء (Scheduled Castes and Tribes (Prevention of Atrocities Act) 1989) بنایا گیا تھا۔
  • دستور کی دفعہ 23 کی رو سے انسانوں کی خریدوفروخت پر پابندی ہے۔ اس دفعہ کا سیدھا اثر درج فہرست طبقات پر ہے کیونکہ بندھؤا مزدوری سے سب سے زیادہ یہی لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اس دفعہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پارلیمنٹ نے بندھؤا مزدوری نظام (تنسیخ) قانون 1976ء (Bonded Labour System (Abolition) Act 1976) بنایا جس کا مقصد ان معاملات کی نشان دہی، متاثرہ افراد کی رہائی اور ان کی بازآبادکاری ہے۔
  • دستور کی دفعہ 24 کی رو سے چودہ سال سے کم عمر بچوں کی جوکھم بھرے معاملوں میں ملازمت پر روک ہے۔ چونکہ کم سن مزدور زیادہ تر درج فہرست طبقات سے ہیں، اس لیے اس قانون کا ایک اہم پہلو ان بچوں کی بازآبادکاری ہے۔
  • دستور کی دفعہ 25 (2) (b) کی رو سے عوامی نوعیت کے کسی بھی ہندو عبادت کے مقام پر ہر ہندو شخص کے بلاتفریق جانے کااختیار دیا گیا ہے۔
  • دستور کی دفعہ 15 (4) کی رو سے مملکت کو درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل کے لیے خصوصی تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔
  • دستور کی دفعہ 330 کی رو سے درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل کے لیے لوک سبھا سیٹوں کے تحفظ کی گنجائش ہے۔
  • دستور کی دفعہ 332 کی رو سے درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل کے لیے ودھان سبھا (ریاستی اسمبلی سیٹوں )کے تحفظ کی گنجائش ہے۔
  • دستور کی دفعہ 16 (4) کی رو سے مملکت عدم نمائندگی کی وجہ سے ملازمتوں میں مخصوص طبقات کے لیے گنجائش فراہم کرسکتی ہے۔
  • دستور کی دفعہ 16 (A 4) کی رو سے مملکت عدم نمائندگی کی وجہ سے ملازمتوں میں ترقی عہدہ جات میں مخصوص طبقات کے لیے گنجائش فراہم کرسکتی ہے۔[1]

درج فہرست طبقات کی زبوں حالی[ترمیم ماخذ]

بھارت میں ہر 18 منٹ میں دلتوں کے خلاف ایک جرم سرزد ہوتا ہے۔ ہرروز:

  • 3 دلت عورتوں کی آبروریزی کی جاتی ہے۔
  • 2 دلتوں کا قتل ہوتا ہے اور 2 دلتوں کے گھروں کو خاکستر کیا جاتا ہے۔
  • 11 دلتوں کی پِٹائی کی جاتی ہے۔

ہرہفتہ:

  • 13 دلتوں کا قتل کیا جاتا ہے۔
  • 5 دلتوں کے گھر یا ان کے سامانوں کو جلایا جاتا ہے۔
  • 6 دلتوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔

دلتوں کے سماجی و معاشی حالات:

  • 37 فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
  • 54 فیصد بچے قلت تغذیہ کا شکار ہیں۔
  • ہر ہزار زندہ زچگیوں میں 83 فیصد دلت بچے پہلی سالگرہ سے پہلے فوت ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔
  • 45 فیصد دلت پڑھنا لکھنا نہیں جانتے۔
  • دلت خواتین جنسی اور ذات پات پر مبنی دونوں امتیازات جھیلتی ہیں۔
  • صرف 27 فیصد دلت خواتین نے ادارہ جاتی زچگیاں دی ہیں۔
  • ایک تہائی دلت گھرانے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
  • عوامی صحت کے خدمتگزار ایک تہائی دلت دیہات کا دورہ کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔
  • 27.6 فیصد دیہی علاقوں میں دلتوں کو پولیس اسٹیشن داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
  • 37.8 فیصد دیہی سرکاری اسکولوں میں دلت بچوں کو دوپہر کے کھانے کے لیے الگ بیٹھنا پڑا۔
  • 23.5 فیصد گاؤں کے دلت ڈاک سہولت سے محروم ہیں۔
  • 48.8 فیصد گاووں میں دلت آبی سہولت سے محروم ہیں الگ تھلگ کیے جانے کی وجہ سے اور اچھوتاپن کی وجہ سے ۔
  • 21 فیصد دلت بچے قلت تغذیہ کی وجہ سے زیریں وزن (underweight) ہیں جن میں سے 12 فیصد شاید اپنی پانچویں سالگرہ منانے کے لیے زندہ نہ رہیں۔
  • دلت عورتوں میں ناخواندگی 37.8 فیصد ہے۔
  • درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل انسداد مظالم قانون (SC/ST Prevention of Atrocities Act) کے تحت درج مقدمات میں صرف 15.71 فیصد معاملوں میں سزائیں سنائی گئی۔
  • اوپر کے نکتے کے برعکس تعزیرات ہند کے تحت درج مقدمات میں 40 فیصد ملزموں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔[2]

قومی کونسل برائے درج فہرست طبقات[ترمیم ماخذ]

قومی کونسل برائے درج فہرست طبقات کی تشکیل 2004ء میں سورج بھان کی قیادت میں ہوئی۔ اس کے اغراض اس طرح ہیں:

  • حکومت کی ہر سطح پر درج فہرست طبقات کے مقادات کو یقینی بنانا۔
  • مخصوص شکایات کی تحقیق۔
  • درج فہرست طبقات کے معاملات میں ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو مشورہ۔
  • سالانہ اور مخصوص رپورٹوں کی تیاری اور ان کی صدر جمہوریہ کے رو بہ رو پیش کشی۔ عندالضرورت دیگر رپورٹوں کی تیاری۔[1]

قبائل کی خصوصیات[ترمیم ماخذ]

  • قدیم طرز زندگی۔
  • جغرافیائی طور پر علیحدگی
  • الگ تہذیب
  • وسیع تر سماج سے ربط و تعلق سے اجتناب
  • معاشی طور پسماندہ[1]

درج فہرست قبائل کا دستوری تحفظ[ترمیم ماخذ]

درج فہرست قبائل کی ایک خاتون۔
  • دستور کی دفعہ 15 (4) کی رو سے سماجی، معاشی اور تعلیمی مفادات کا تحفظ
  • دستور کی دفعہ 19 (5) کی رو سے ملک کے شہریوں کو آزادانہ حمل و نقل کی آزادی کے باوجود قبائل کے تحفظ کے لیے حکومت کوئی بھی پابندی عائد کرسکتی ہے۔
  • دستور کی دفعہ 23 کی رو سے انسانوں کی خریدوفروخت پر پابندی ہے۔ یہ قبائل کے افراد کی آزادی کی ضامن ہے۔
  • دستور کی دفعہ 29 کی رو سے ثقافتی اور تعلیمی حقوق کی طمانیت دی گئی ہے۔ دفعہ کی رو سے کسی طبقے پر اس کے ثقافت اور زبان کے علاوہ کوئی اور زبان اور ثقافت نافذ نہیں ہوگی۔
  • دستور کی دفعہ 164 کی رو سے مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ کے قبائلی امور کے وزیر کے چننے کی گنجائش موجود ہے۔
  • دستور کی دفعات 330 اور 332 کی رو سے پارلیمانی اور اسمبلی نشستوں میں قبائلی ارکان کے تحفظ کی گنجائش ہے۔
  • دستور کی دفعہ 334 کے تحت مذکورہ بالا تحفظات کی میعاد شروع میں صرف دس سال کے لیے طے تھی، مگر بعد میں یہ دستوری ترامیم کے تحت بڑھائی جاتی رہی ہے۔
  • دستور کی دفعہ 335 کے تحت مرکزی یا ریاستی حکومت کی بھرتیوں میں درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل کا خیال رکھا جانا چاہیے۔
  • دستور کی دفعہ 338 کے تحت درج فہرست طبقات و درج فہرست قبائل کے امور کے لیے ایک خصوصی افسر کا تعین ہونا چاہیے۔ اسی کی ذیلی دفعہ 338 A کے تحت قومی کمیشن برائے درج فہرست قبائل کی تشکیل 1992ء میں ہوئی تھی۔
  • خصوصی ریاستی دفعات: دستور کی دفعہ 371 گجرات اور مہاراشٹر کے قبائلی علاقوں سے متعلق ہے۔ جبکہ 371 A ناگالینڈ، 371 B آسام سے متعلق، 371 C منی پور سے متعلق ہے۔[1]

پانچ سالہ منصوبوں میں درج فہرست قبائل کی ترقی کی کوشش[ترمیم ماخذ]

  • اولین پانچ سالہ منصوبہ (1951ء-1956ء) نے ایک اصول وضع کیا کہ عمومی ترقیاتی لائحہ جات عمل اس طرح بنائے جائیں گے کہ وہ پسماندہ طبقات کی ضروریات پر مناسب انداز میں مرکوز ہوں گے اور خصوصی سہولتیں زائد اور متشدد انداز میں ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہوں گے۔
  • دوسرے پانچ سالہ منصوبے (1956ء-1961ء) کے تحت خصوصی 43 ہمہ مقصدی قبائلی علاقے (Special Multi-purpose Tribal Blocks (SMPTBs)) بنائے گئے جنہیں بعد میں قبائلی ترقیاتی بلاکس (Tribal Development Blocks (TDB)) کا نام دیا گیا تھا۔ ہر بلاک میں پچیس سے پینسٹھ ہزار افراد کی رہائش کی گنجائش اور دیگر سہولتیں دستیاب تھی۔
  • تیسرے پانچ سالہ منصوبے (1961ء-1966ء) کے تحت مساوات اور نابرابری کو کم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ حالانکہ شِیلُو او اسٹڈی ٹیم نے تجزیہ کر کے واضح کیا کہ اگر مساوات ہی مطمح نظ رہے تو منزل تک پہنچنا ابھی بھی کافی دور ہے۔
  • چوتھے پانچ سالہ منصوبے (1969ء-1974ء) کے تحت چھ ترقیاتی منصوبہ جات آندھرا پردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور اڑیسہ میں شروع ہوئے۔ ہر ریاست کی اپنی علاقائی قبائلی ترقی ایجنسی تھی جس کا مقصد علاقے کی ترقی کے ساتھ ساتھ دائیں محاذ کی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا تھا۔
  • پانچویں پانچ سالہ منصوبے (1974ء-1978ء) کے تحت ذیلی قبائلی منصوبہ (ٹرائبل سب پلان) پیس کی گئی جس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی امدادی رقمی کی علاحدگی اور رقم کی مد کی واضح شناخت کی نشان دہی کی گئی تھی۔
  • چھٹے پانچ سالہ منصوبے (1980ء-1985ء) کے تحت تبدیل شدہ علاقائی ترقی کی کوشش (Modified Area Development Approach - MADA) شروع کی گئی۔ ہر ماڈا کے تحت کم از کم دس ہزار کی آبادی طے کی گئی جس میں سے کم از کم آدھی آبادی قبائل پر مشتمل ہو۔ 245 ماڈاؤں کی نشان دہی کی گئی۔ اس کے علاوہ بیس اور قبائلی علاقوں کو ماورائے تمدن (پریمیٹیو) قرار دیا گیا تھا۔
  • ساتویں پانچ سالہ منصوبے (1985ء-1990ء) کے تحت قبائلی بازارکاری کی ترقی کی تعاون باہمی تنظیم (Tribal Cooperative Marketing Development Federation (TRIFED)) کی بنیاد 1987ء میں رکھی گئی جس مقصد قبائلیوں کو ان کی اشیاء کی مناسب قیمت مہیا کروانا تھا۔ اس کے علاوہ 1989ء میں قومی درج فہرست طبقات اور درج فہرست قبائل مالیاتی ترقی کارپوریشن (National Scheduled Castes and Scheduled Tribes Finance and Development Corporation) بھی بنایا گیا۔
  • آٹھویں پانچ سالہ منصوبے (1992ء-1997ء) کے تحت اور اقدامات کے علاوہ ذیلی قبائلی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور پایا گیا کہ نتائج لگائے گئے سرمائے سے کہیں کم تھے۔
  • نوویں پانچ سالہ منصوبے (1997ء-2002ء) کے تحت حسب ذیل اقدامات کیے گئے تھے:
  1. ملگ گیر پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کی 1997ء میں نظرثانی کی گئی۔ اس کی 2015ء تک بیس لاکھ طلبہ تک رسائی ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ قبائلی رہائشی اسکولوں اور ہاسٹلوں پر توجہ دی گئی تھی۔
  2. 1998ء میں درج فہرست طبقات، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے لیے الگ وزارت بنی۔ 1999ء میں قبائلی امور کی الگ وزارت بنائی گئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم ماخذ]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث Dr M V Lakshmi Devi, Dr S Suatha, Dr B Ramaiah, P Venkata Ramana, “Social Structures, Issues and Policies”, pp 239-262, Telugu Akademi, Hyderabad, 2016.
  2. “Indian Society: Issues, Policies and Welfare Schemes”, Dr Vinita Pandey, BSC Publishers & Distributors, Hyderabad, Pp 2.18-19

مزید پڑھیے[ترمیم ماخذ]

  • Vinay Kumar Srivastava؛ Sukant K. Chaudhury۔ "Anthropological Studies of Indian Tribes"۔ بہ Yogesh Atal۔ Sociology and Social Anthropology in India۔ Indian Council of Social Science Research/Pearson Education India۔ آئی ایس بی این 9788131720349۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

خارجی روابط[ترمیم ماخذ]