درشن سنگھ آوارہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
درشن سنگھ آوارہ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1906  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1982 (75–76 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پنجابی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

درشن سنگھ آوارہ (3 دسمبر 1906–1982) پنجابی زبان کے ان چند بڑے شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے انگریز کی غلامی کے خلاف بڑی جد و جہد کی۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ انگریز دشمن سیاسی سرگرمیوں میں گزر گیا۔درشن سنگھ آوارہ کالا گوجراں ضلع جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بزازی کا دھندہ کرتے تھے۔میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ گوجرانوالہ چلے آئے اور اپنے آبائی پیشے سے منسلک ہو گئے۔انگریز دشمنی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔انگریز کے خلاف وہ بغاوت کرنا چاہتے تھے اور اپنے کلام سے لوگوں کو اس بغاوت پر اکساتے تھے۔ان کی باغیانہ نظموں کا مجموعہ ' بجلی دی کڑک' 1943 میں شائع ہوا۔ اسی زمانے میں پنجابی کے ایک اور بڑے شاعر بابو شرف کی کتاب ' دکھاں دے کیرنے' شائع ہوئی ۔ انگریز سرکار نے یہ دونوں کتابیں ضبط کر لیں۔بابو شرف گرفتار کر لیے گئے اور آوارہ فرار ہو گئے۔اسی زمانے میں انہوں نے اپنا تخلص آوارہ رکھا تھا۔ اس سے پہلے وہ دل جیت ، پُھل سنگھنا ،سنگڑ کے قلمی ناموں سے شعر کہتے تھے۔ درشن سنگھ آوارہ کی نظموں کا ایک مجموعہ ' بغاوت ' پنجابی شاعری میں بڑا مشہور ہے۔اس مجموعے کی نظمیں انگریزوں کے خلاف تھیں۔ انگریز سرکار کے زمانے میں بھی یہ مجموعہ متعدد بار شائع ہوتا رہا۔ اب تک یہ مجموعہ بیسیوں مرتبہ شائع ہو چکا ہے۔ اور ایک خاص زمانے کی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ درشن سنگھ آوارہ نے نثر میں بھی کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں ان کے بعض پنجابی ناول بڑے مقبول ہوئے۔

آزادی کے بعد درشن سنگھ آوارہ ہندوستان چلے گئے اور وہیں مقیم ہو گئے۔ ایک بڑے اور بزرگ شاعر کی حیثیت سے وہ پنجابی زبان کے اساتذہ میں شمار کیے جاتے ہی۔ ان کے کلام میں انگریز دشمنی کے شدید جذبات کے ساتھ ساتھ انسان دوستی اور وسیع المشربی بھی پائی جاتی ہے۔ عقائد کے اعتبار سے وہ ایک زمانے میں اشتراکی بھی رہے۔ تاہم ان کی شخصیت اور کالم کی بنیادی روح انسان دوستی ہے۔

نمونہ کلام[ترمیم]

وانگ پھلاں دے چوبھ اتے چوبھ کھاندے رہی دا اے

فر وی اپنا ایہہ سبھا اے مسکراندے رہی دا اے

بھانویں رنداں نال وی کج دوستی گوڑھی نئیں

کوئی پچھے تیر وی کوئی کھان والی چیز اے

سجناں دے تیر پر ھس ھس کھاندے رہی دا اے

کتب[ترمیم]

  • ہل چل (1952)
  • باغی (1964)
  • بغاوت (1952)
  • میں باغی ہاں (1942)
  • انقلاب دی راہ (1944)
  • گستاخیاں (1952)
  • بجلی دی کڑک (1943)[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ماہنامہ معلومات-ص 816- سید قاسم محمود،ستار طاہر مکتبۂ جدید پریس، 4 شارع فاطمہ جناح، لاہور-