درود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
DAROOD.jpg

سلام ، دعا ، تسبیح ۔ درود کا حکم قرآن مجید میں سورۃ الاحزاب کی 56 ویں آیت میں ہے۔

ترجمہ : بیشک اللہ اور اس کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔

اہل اسلام کے نزدیک درود بھی عبادات میں شمار ہوتا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جس نے میرا نام سنا اور مجھ پر درود نہ بھیجا وہ سب سے زیادہ بخیل ہے۔ درود کی بڑی فضیلت ہے۔ نماز میں تشہد کے بعد جو درود پڑھا جاتا ہے اسے درود ابراہیمی کہتے ہیں۔ پھر دعا کے بعد سلام پھیرتے ہیں۔

درود کی مختلف عبارتیں ہیں۔ زیادہ معروف یہ ہے :

اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و صحبہ و بارک وسلم

” اے اللہ! ہمارے سردار اور ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔“

مزید پڑھیئے[ترمیم]