درہ آدم خیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

درہ آدم خیل پشاور اور کوہاٹ کے درمیان وفاق کے زیر انتظام قبائیلی علاقہ ہے۔ یہ کوہاٹ کے سرحدی علاقے میں شامل ہے۔ اس لیے اس کو ایف-آر کوہاٹ بھی کہتے ہیں۔ درہ آدم خیل کسی قبائلی ایجنسی میں شامل نہیں ہے بلکہ یہ چھ اقوام پر مشتمل ایک علاحدہ حلقہ ہے۔ درہ آدم خیل اسلحہ کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہے۔ درہ آدم خیل ایشیا کی سب سے بڑی اسلحہ مارکیٹ ہے۔ عجب خان آفریدی کا تعلق بھی درہ آدم خیل سے تھا۔ سن 2005 میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی وجہ سے درہ آدم خیل کے اسلحہ کی صنعت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ تا ہم تقریبا 2003 میں درہ آدم خیل میں کوئلہ کی کانوں کی دریافت کی وجہ سے کئی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں۔ درہ آدم خیل میں کوئلے کی کئی کانیں دریافت ہوئی ہیں۔ گورنر خیبر پختون خواہ نے درہ آدم خیل کے کوئلے کی کانوں کا دورہ بھی کیا ہے۔ لیکن گورنر درہ آدم خیل کے رہائشیوں کے لیے کوئی کام نہ کر سکے۔↵درہ آدم خیل پانچ قوم پر مشتمل ہے قوم آخور وال قوم ذرغن خیل قوم شیراکی قوم تورچهپر اورقوم بوستی خیل↵غازی عجب خان آفریدی کا تعلق قوم بوستی خیل سے ↵تھا اورمولانہ محمد آمیر المعروف بجلی گھر صاب کی ↵قوم آخور وال سے تھا۔↵آفریدی قبیلے درہ آدم خیل کا حکومت پاکستان اور حکومت افغانستان پر ایک تاریخی احسان . 1979 میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا۔ تو روس کا افغانستان کے بعد اصل مقصد پاکستان کے گرم سمندر پر قبضہ کرنا تها۔ جب جنگ شروع ہوئی .تو ایک سال تک اقوام متحدہ اور غیر ملکی اسلحے کی امداد افغانستان کے عوام کو شروع نہیں ہوئی تهی۔ یہ پہلا سال مشکل لڑائی تهی .کیونکہ افغان عوام کی مسلح قوت بالکل نہیں تهی۔ صرف پہاڑوں سے روسی ٹینکوں پر بڑے بڑے پتهر گراتے۔ اسی وقت میں افغان عوام کو حکومت پاکستان نے درہ آدم خیل اسلحہ لینے کے لیے مالی مدد شروع کی۔ اور درہ آدم خیل کے عوام نے دن رات ایک کرکے روزانہ ہزاروں بندوقیں بنا کے افغان عوام کو دینا شروع کیے۔ اسی طرح مکمل ایک سال روس جیسے سپر پاور ملک کو درہ آدم خیل کے دیسی اسلحے پر بہادر افغان اور قبائلی عوام نے ایک سال افغانستان کے اندر روک کر حیران کر دیا۔ اگر خدانخواستہ درہ آدم خیل نہ ہوتا .تو روس بہت کم وقت میں افغانستان پر قابض ہو کر پاکستانی سرحدوں پر ناپاک حرکتیں شروع کرتا۔ اگر اس وقت پاکستان روس سے لڑائی کرتا .شاید آج پاکستان بهی افغانستان کی طرح برباد ہوتا۔ مگر اللہ نے هم سب پر بڑا احسان کیا۔ افغان عوام کو پهر ایک سال بعد عالمی امداد ملنی شروع ہوئی۔ اور 8 سال تک شدید لڑائی کے بعد روس نے شکست تسلیم کر لیا۔ درہ آدم خیل قوم کی اس مدد کو اس وقت عالمی میڈیا نے بڑے سنہرے اور تاریخی الفاظ میں یاد کیا تها۔ مگر حکومت پاکستان نے درہ آدم خیل قوم کو کچھ ایوارڈ نہیں دیا۔ چونکہ درہ آدم خیل کے ایک سال اسلحے کی مدد سے پاکستان محفوظ ہوا حکومت پاکستان کو چاہیے کہ درہ آدم خیل کو قدر کے نگاہ سے دیکهتا۔ کیونکہ ایسے مہارت والی اور وفادار قومیں دنیا میں بہت کم ملتی هیں۔ درہ آدم خیل چونکہ آفریدی قوم کا علاقہ ہے اور آدم بابا کے چار بیٹے تھے۔ جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں نمبر 1 جواکی نمبر 2 حسن خیل نمبر 3 ہاشو خیل اور نمبر 4 گلئے۔ ہاشو خیل اور جواکی ایف آر پشاور میں رہتے ہیں اور وہی ان کا مسکن ہے جبکہ درہ آدم خیل میں گلئے کی اولاد یعنی قوم شیراکی،قوم بوستی خیل،قوم طور چھپر اور زرغن خیل جبکہ حسن خیل کی اولاد قوم اخوروال(تاتر خیل) بھی رہتے ہیں۔ درہ آدم خیل کے ساتھ قوم جواکی کا کچھ حصہ متصل ہے۔ اس پورے علاقے کو ایف آر کوہاٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ضلع کوہاٹ کا ڈی سی ایف آر کوہاٹ کا پولیٹیکل ایجنٹ ہوتا ہے۔ کس کے ماتحت ایک اے پی اے تمام عدالتی اور انتظامی امور کا کام کرتا ہے۔ ایف آر کوہاٹ کے تین 03 تحصیلدار اے پی اے صاحب ایف آر کوہاٹ کے ماتحت ایف سی آر کو لاگو کرتے ہیں۔ سینئر تحصیلدار قوم زرغن خیل اور قوم اخوروال کا نگران ہوتا ہے جبکہ تحصیلدار جواکی صرف جواکی کا اور پولیٹیکل نائب تحصیلدار قوم بوستی خیل ،قوم طور چھپر اور قوم شیراکی کا نگران ہوتا ہے۔ میں چھ سب سیکشن ہیں جو کندے/کندی کے نام سے ہوتے ہیں۔ کندے محمد خیل،کندے ملا خیل، کندے میری خیل،کندے شپولکی وال،کندے سنی خیل اور کندے تلم خیل۔