دریائے ستلج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دریائے ستلج

ستلج پنجاب کے دریاؤں ميں سے ایک دریا کا نام ہے۔یہ تبت کی ایک جھیل“ راکشاستل“ سے نکلتاہے اس کی کل لمبائی 1500 کلومیٹر ہے اسے سرخ دریابھی کہاجاتا ہے۔اس کے علاوہ اس کا قدیم نام ستادری ہے تبت کے مقامی ل وگ اسے دریائے ہاتھی بھی کہتے ہیں یہ پاکستانی پنجاب کے ضلع قصور میں پاکستانی علاقہ میں داخل ہوتا ہے اور اوچ شریف سے ہوتا ہوا پنجند کے مقام پر دریائے چناب میں ضم ہوجاتا ہے یہ مقام بہاولپور سے 62 کلومیٹر مغرب میں ہے۔ 1960ء کے معاہدہ سندھ طاس کے تحت اس دریا کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد سے بھارت نے متعدد ڈیموں اور بیراجوں کے ذریعے اس کا پانی مکمل طور پر روک لیا ہے۔ اس دریا کے پانی سے بھارتی صوبوں پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں زرعی زمین سیراب کی جاتی ہے۔ دریائے ستلج میں بھارت سے پاکستانی علاقے میں پانی اب صرف سیلاب کی صورت میں داخل ہوتا ہے کیونکہ بھارت اسے Flood Release River کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]