دعبل خزاعی
| دعبل خزاعی | |
|---|---|
| (عربی میں: دعبل بن علي بن رزين الخزاعي)[1] | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 765ء عراق |
| تاریخ وفات | سنہ 860ء (94–95 سال) |
| شہریت | |
| عارضہ | اندھا پن |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | شاعر [1] |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی |
| درستی - ترمیم | |

ابو علی دعبل خزاعی جن کا اصل نام محمد دعبل بن علی بن رُزَین تھا، عباسی دور کے مشہور شعرا میں سے تھے۔ وہ اہل بیت علیہم السلام سے والہانہ محبت اور عباسی خلفاء پر شدید طنز و ہجو کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔[2]
فارسی طرز کی آرائش
[ترمیم]امام علی رضا کی مدح میں کہے گئے دعبل خزاعی کے اشعار مسجد «بالا سر» (روضۂ رضوی) کی دیواروں پر فارسی طرز کی خوشنما زخرف کاری کے ساتھ کندہ ہیں۔[3]
نسب و کنیت
[ترمیم]دعبل کے نسب میں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن مشہور نسب یہ ہے: دعبل بن علی بن رزین بن سلیمان بن تمیم بن نَہشل بن خُداش بن خالد بن عبد بن دعبل بن انس بن خزیمہ بن سَلمان بن اسلم بن افصیٰ بن حارثہ بن عمرو بن عامر (خزاعہ) بن مزیقیاء۔
بعض روایات میں ان کا نام محمد، حسن یا عبد الرحمن بھی آیا ہے۔ ان کی دو کنیتیں مذکور ہیں: ابو جعفر اور ابو علی، مگر ابو علی ہی سے وہ زیادہ مشہور ہوئے۔[4]
ان کا خاندان
[ترمیم]دعبل خزاعی کا تعلق ایک علم و ادب سے مالا مال خاندان سے تھا، جس میں محدثین اور شعرا نمایاں مقام رکھتے تھے۔ اس خاندان میں سیادت، شرافت، فضیلت اور فخر نمایاں طور پر موجود تھا۔[5]
اللہ تعالیٰ نے اس خاندان کو عظیم مرتبہ بخشا کہ اس نے پانچ شہداء کی قربانی پیش کی۔ ان میں سب سے نمایاں عبد اللہ بن بدیل بن ورقاء تھے، جو اپنے دو بھائیوں عبد الرحمن اور محمد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے یمن کے لیے قاصد بنے۔ یہ تینوں اور ان کے چوتھے بھائی عثمان، امیر المؤمنین علیؑ کے اصحاب میں سے تھے اور جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ ان کے پانچویں بھائی نافع بن بدیل، عہدِ رسالت ہی میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔[6]
تربیت
[ترمیم]دعبل خزاعی نے ایسے گھرانے میں پرورش پائی جو شعر و ادب سے بھرپور تھا۔ ان کے دادا رُزین، جیسا کہ ابن قتیبہ نے "الشعر والشعراء" میں ذکر کیا، ایک شاعر تھے۔ ان کے والد علی بھی اپنے دور کے مشہور شاعر تھے۔ ان کے چچا عبد اللہ بن رُزین اور چچازاد بھائی محمد بن عبد اللہ (المعروف ابو شیص) بھی شاعر تھے اور ان دونوں کا اپنا دیوان (شعری مجموعہ) تھا۔ ابو شیص کا بیٹا عبد اللہ بن محمد بھی شاعر تھا اور دعبل کے دونوں بھائی علی (ابو حسن) اور رُزین بھی مشہور شعرا میں شمار ہوتے تھے۔[7]
دعبل نے انہی لوگوں سے شعر گوئی سیکھی۔ انھوں نے شاعری کے بنیادی اصول، بحریں اور معانی کو سیکھا اور بہت سی نظمیں زبانی یاد کیں۔ مگر وہ فوراً شاعری کرنے میں نہیں لگے، بلکہ عہد کیا کہ جب تک وہ شاعری کے اصل ماخذوں سے مزید نہ سیکھ لیں اور اس فن میں مکمل مہارت حاصل نہ کریں، وہ شعر نہیں کہیں گے۔[8]
اسی جستجو میں دعبل نے کوفہ سے ہجرت کی اور اپنے بھائی رُزین کے ساتھ حجاز اور علی کے ساتھ ری اور خراسان کا سفر کیا۔ وہ طویل عرصے تک ملکوں ملکوں گھومتے، سیکھتے اور لوٹتے اور ان سفرات سے انھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ دعبل کے دل میں عام لوگ اور قبیلوں کے غریبوں (شُرَاة، صعالیک) کے لیے نرم گوشہ تھا۔ وہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے، گھل مل جاتے اور وہ بھی دعبل کی قدر کرتے۔ ایک سفر میں وہ کہنے لگے:
| ” | "میں ایسی جگہ پہنچا ہوں جہاں بجلی کی چمک بھی نہ پہنچے اور خوابوں کا طائف بھی وہاں تک نہ جا سکے۔"[9] | “ |
دعبل خزاعی کی وفات
[ترمیم]دعبل خزاعی نے اپنی شاعری میں لوگوں کی ہجو بہت زیادہ کی، یہاں تک کہ بالآخر انہی میں سے ایک شخص کے ہاتھوں مارے گئے۔ انھوں نے اگرچہ کئی بااثر خلفاء کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن ان کا قتل ایک نسبتاً کم حیثیت والے شخص، مالک بن طوق کے حکم پر ہوا۔
واقعہ یوں ہوا کہ دعبل نے مالک بن طوق کی مدح کی، لیکن جب اسے اس کا صلہ پسند نہ آیا تو ناراض ہو کر اس کی شدید ہجو کی۔ اس پر مالک بن طوق نے ایک شخص کو دس ہزار درہم دے کر اسے زہر دے کر قتل کرنے کا حکم دیا۔
وہ شخص دعبل کو تلاش کرتا رہا، یہاں تک کہ اسے طوس (ایران) کے ایک گاؤں میں پا لیا اور عشاء کی نماز کے بعد اس کی ایڑی پر زہر آلود چھڑی سے وار کیا۔ دعبل اگلے دن فوت ہو گئے اور وہیں 220 ہجری میں دفن ہوئے۔ جبکہ ایک اور روایت کے مطابق، یا قوت الحموی کے بقول، دعبل کی قبر زویلہ (سوڈان کی سرحد پر ایک گاؤں) میں واقع ہے، جیسا کہ بکر بن حماد نے ذکر کیا ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — ناشر: دار العلم للملایین — : اشاعت 15 — جلد: 2 — صفحہ: 339 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
- ↑ الأمالي للشيخ الصدوق: 239
- ↑ كتاب الأغاني - الأصفهاني، ج:20، ص:294.
- ↑ كتاب تاريخ بغداد - البغدادي، ج:8، ص:379؛ ديوان دعبل الخزاعي، ص:9.
- ↑ الغدير: الأميني 2/ 363.
- ↑ صفين: ابن مزاحم 126.
- ↑ العمدة: ابن رشيق 2/ 290.
- ↑ معجم الشعراء: المرزباني 1/ 283
- ↑ الغدير: 6/ 370
بیرونی روابط
[ترمیم]- بوابة الشعراء : ديوان دعبل الخزاعي
- دراسات عنه: الجملة الطلبية في ديوان دعبل الخزاعي للباحث أسامة أبوعون جامعة النجاح الوطنية.
- تسجيل إلقاء قصيدة مدارس آيات عن اليوتيوب
