دقیانوس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وَقٗیَنُوس یا دقیانوس یا دَقْیُوس(انگریزی: Decius, قیصر ڈِیسِیس ) دراصل ایک رومن شہنشاہ تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی 200 برس بعد حکمران ہوا۔ اس نے 249 ء سے 251 ء تک سلطنت روم پر فرمانروائی کی ہے اور مسیح علیہ السلام کے پیروؤں پر ظلم و ستم کرنے کے معاملہ میں اس کا عہد بہت بد نام ہے۔[1][2]اس وقت اکثریت عیسائی مذہب اختیار کرچکی تھی اور لوگ رومن دیوی دیوتاؤں اور بت پرستی سے بیزار ہو چکے تھے۔ دقیانوس نے بزور طاقت زبردست رومن مذہب اور بت پرستی کو رائج کرنا چاہا۔اسی کے زمانے میں اصحاب کہف کا واقعہ بھی پیش آیا۔ اصحاب کہف دقیانوس کے خوف سے ہی غار میں چھپ گئے تھے۔عام فہم زبان میں دقیانوس پرانی اور قدیم سوچ کے انسان کو کہا جاتا ہے۔ دقیانوس نے کیونکہ ایک متروک اور جہالت بھرے مذہب کو دوبارہ لاگو کرنا چاہا تھا اس لیے اس کا نام ایک محاورہ یا پہچان بن گیا ایسے لوگوں کے لیے کہ جو پرانی اور جاہلانہ رسموں اور سوچ کے حامی ہوتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مودودی، سید ابوالاعلیٰ. تفہیم القرآن. صفحات سورة الکہف،حاشیہ نمبر ۹. 
  2. گبن، ایڈورڈ. "33". تاریخ زوال و سقوط دولت روم. صفحہ ’’سات سونے والے‘‘ (Seven Sleepers).