دقیانوس
| |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| (لاطینی میں: Decius) | |||||||
| معلومات شخصیت | |||||||
| پیدائش | سنہ 201ء [1][2][3] | ||||||
| وفات | 1 جولائی 251ء (49–50 سال) | ||||||
| طرز وفات | لڑائی میں ہلاک | ||||||
| شہریت | قدیم روم | ||||||
| زوجیت | ہرنیا اتروشیلا | ||||||
| اولاد | ہیرینیوس ایتروسکوس ، ہوستیلیان | ||||||
| مناصب | |||||||
| رومی شہنشاہ | |||||||
| برسر عہدہ ستمبر 249 – جون 251 | |||||||
| |||||||
| دیگر معلومات | |||||||
| پیشہ | سیاست دان | ||||||
| پیشہ ورانہ زبان | لاطینی زبان [4] | ||||||
| شعبۂ عمل | حکومت [5] | ||||||
| عسکری خدمات | |||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
وَقٗیَنُوس یا دقیانوس یا دَقْیُوس(انگریزی: Decius، قیصر ڈِیسِیس ) دراصل ایک رومن شہنشاہ تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی 200 برس بعد حکمران ہوا۔ اس نے 249 ء سے 251 ء تک سلطنت روما پر فرمانروائی کی ہے اور مسیح علیہ السلام کے پیروؤں پر ظلم و ستم کرنے کے معاملہ میں اس کا عہد بہت بد نام ہے۔[6][7]اس وقت اکثریت عیسائی مذہب اختیار کر چکی تھی اور لوگ رومی دیوی دیوتاؤں اور بت پرستی سے بیزار ہو چکے تھے۔ دقیانوس نے بزور طاقت زبردست رومن مذہب اور بت پرستی کو رائج کرنا چاہا۔ اسی کے زمانے میں اصحاب کہف کا واقعہ بھی پیش آیا۔ اصحاب کہف دقیانوس کے خوف سے ہی غار میں چھپ گئے تھے۔ عام فہم زبان میں دقیانوس پرانی اور قدیم سوچ کے انسان کو کہا جاتا ہے۔ دقیانوس نے کیونکہ ایک متروک اور جہالت بھرے مذہب کو دوبارہ لاگو کرنا چاہا تھا اس لیے اس کا نام ایک محاورہ یا پہچان بن گیا ایسے لوگوں کے لیے کہ جو پرانی اور جاہلانہ رسموں اور سوچ کے حامی ہوتے ہیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: https://id.worldcat.org/fast/396063 — بنام: Gaius Messius Quintus Trajanus, Emperor of Rome Decius — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ بنام: Dècio — ڈی اگوسٹینی کو (De Agostini) کے نام سے جانا جاتا ہے۔: https://www.sapere.it/enciclopedia/Dècio.html
- ↑ Unione Romana Biblioteche Scientifiche ID: http://koha-urbs.reteurbs.org/cgi-bin/koha/opac-authoritiesdetail.pl?marc=1&authid=379944 — بنام: Gaius Messius Quintus Trajanus Emperor of Rome Decius
- ↑ عنوان : Identifiants et Référentiels — ایس یو ڈی او سی اتھارٹیز: https://www.idref.fr/070179913 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 مارچ 2020 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
- ↑ این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=uk20261300900 — اخذ شدہ بتاریخ: 21 جون 2026
- ↑ سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ تفہیم القرآن۔ ص سورة الکہف،حاشیہ نمبر ۹
- ↑ ایڈورڈ گبن۔ "33"۔ تاریخ زوال و سقوط دولت روم۔ ص ’’سات سونے والے‘‘ (Seven Sleepers)


