دلدار علی نقوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غفران مآب
سید دلدار علی
دلدار علی نقوی

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 17 ربیع الثانی 1166ھ
تاریخ وفات 19 رجب 1235ھ
رہائش لکھنؤ
مذہب اسلام (شیعہ اثنا عشری)
عملی زندگی
تعليم اجتہاد
مادر علمی لکھنؤ ، نجف ، مشہد
پیشہ مصنف،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

آیت اللہ العظمیٰ سید دلدار علی نقوی (غفرانمآب) ہندوستان کے ایک شیعہ عالم دین، مجتہد اور متکلم تھے، آپ کا مشہور لقب غفرانمآب تھا ـہندوستان میں شیعیت کے پایہ گذاروں میں آپ کا شمار ہوتا ہے ـ آپ کے والد کا نام محمد معین اور دادا کا نام عبد الہادی تھا ـ آپ کے اجداد میں جنہوں نے سبزوار سے ہندوستان کی طرف ہجرت کی تھی ان کا نام نجم الدین تھا ـ

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت سنہ 1166ھ میں ضلع رائے بریلی کے ایک نصیرآباد نامی گاؤں میں ہوئی ـ

تعلیم[ترمیم]

اپنے خاندان میں آپ ہی پہلے شخص ہیں جو علم دین کی طرف مائل ہوئے چنانچہ سنڈیلہ ضلع ہردوئی میں آپ نے ملا حیدر علی پھر الہ آباد میں سید غلام حسین اور رائے بریلی میں ملا باب اللہ سے علوم عقلیہ اور نقلیہ کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد آپ نے فیض آباد اور لکھنؤ کا سفر کیا ـ اور وہاں جن علما سے بھی آپ کی ملاقات ہوئی ان سے آپ نے کسب فیض کیا ـ

سفر عراق[ترمیم]

ہندوستان میں مختلف علما سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اعلیٰ علمی مدارج کی تحصیل کے لیے عراق کا سفر کیا اور کربلا میں جاکر سکونت اختیار کی، وہاں آپ نے آیت اللہ محمد باقر بہبہانی، آیت اللہ سید علی طباطبائی (صاحب کتاب ریاض المسائل) اور آیت اللہ مرزا محمد مہدی شہرستانی کے دروس میں شرکت کی ۔ اس کے بعد آپ نے نجف اشرف کا رخ کیا ،ـ وہاں بھی آپ نے ایک مدت تک قیام کیا اور آیت اللہ سید مہدی بحرالعلوم وغیرہ کے درس میں حصہ لیا ۔ اس کے بعد آپ ایران کے شہر مشہد آ گئے ،ـ وہاں بھی آپ نے زیارت کے بعد ایک عرصہ تک قیام کیا اور آیت اللہ سید محمد مہدی بن ہدایۃ اللہ خراسانی کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کے لیے ایک بہترین اجازہ اجتہاد تحریر کیا ۔

ہندوستان مراجعت اور مذہبی خدمات[ترمیم]

سنہ 1200ھ میں آپ ہندوستان واپس آئے اور اپنے وطن نصیرآباد میں آکر دین اسلام کی تبلیغ میں مشغول ہو گئے۔وہاں آپ نے ایک مسجد اور امام بارگاہ بھی تعمیر کیا ۔عراق سے آپ کی واپسی کی خبر جب لکھنؤ میں حکومت اودھ کے ایک وزیر حسن رضا خان تک پہونچی تو انھوں نے آپ کو لکھنؤ میں رہنے کی دعوت دی چنانچہ آپ نے ان کی دعوت پر لکھنؤ کو ہمیشہ کے لیے اپنا مسکن قرار دے لیا اور وہیں دین و مذہب کی خدمت میں مشغول ہو گئے ۔

نماز جمعہ کا قیام[ترمیم]

27/ رجب المرجب (روز بعثت پیغمبر اسلام) سنہ 1200ھ کو لکھنؤ میں حکومت اودھ کے بادشاہ آصف الدولہ کے حکم سے شیعوں میں پہلی بار نماز جمعہ منعقد ہوئی جس کی امامت کے لیے بادشاہ نے خود آپ کا تقرر کیا ۔

آقا بزرگ تہرانی کی نگاہ میں[ترمیم]

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی نے آپ کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں :

من اعاظم علماء الشیعۃ فی عصرہ و من اشہر رجال العلم فی الھند.

[1]

صاحب جواہر کی نگاہ میں[ترمیم]

علامہ سید محسن امین عاملی لکھتے ہیں کہ آیت اللہ شیخ محمد حسن نجفی (صاحب کتاب جواھرالکلام) جب بھی آپ کو خط لکھتے تھے تو ان الفاظ میں آپ کو مخاطب کرتے تھے :

”العلامۃ الفائق و کتاب اللہ الناطق، خاتم المجتھدین، شمس الانام، مصباح الظلام، من بھر العقول بدقائق افکارہ و انار شبھات العقول بکواکب انظارہ، حجۃ اللہ علی العالمین و آیتہ العظمیٰ فی الاولین و الآخرین“.[2]

تالیفات[ترمیم]

مذکورہ بالا تمام کتابیں وہ ہیں جو شائع ہوئیں ـ اس کے علاوہ آپ کی متعدد کتابیں شائع نہ ہوسکیں بلکہ مسودے کی شکل میں باقی رہیں ـ

مسودے کی شکل میں باقی رہ جانے والی کتابوں میں سے اہم کتابیں یہ ہیں :

  • اثارۃ الاحزان فی مقتل الحسین
  • ملا محمد تقی مجلسی (علامہ مجلسی کے والد) کی کتاب حدیقة المتقین کے باب طہارت کی شرح
  • مذکورہ کتاب کے باب صوم کی شرح
  • مذکورہ کتاب کے باب زکوۃ کی شرح
  • شرح باب حادی عشر
  • الشھاب الثاقب (صوفیت کی رد میں)
  • المواعظ الحسینیة
  • مسکن القلوب : یہ کتاب آپ نے اپنے جوان عالم بیٹے سید مہدی کی وفات پر شہید ثانی کی کتاب مسکن الفؤاد عند فقد الاحبة و الاولاد کے طرز پر لکھی ـ [3]

اولاد[ترمیم]

آپ کے پانچ بیٹے تھے جن میں سے ایک بیٹے سید مہدی جوانی میں ہی انتقال کر گئے تھے ـ

باقی چار بیٹوں کے نام یہ ہیں :

  • سلطان العلماء سید محمد
  • سید علی
  • سید حسن
  • سید العلماء سید حسین

یہ پانچوں بیٹے اپنے وقت کے بہترین عالم شمار ہوتے تھے نیز علما کا یہ سلسلہ آپ کی ذریت میں آج تک قائم ہے ،ـ

اس سلسلہ کی ایک عظیم الشان ہستی سید العلماء علامہ سید علی نقی نقوی ہیں جنھیں علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی نے لکھنؤ کے شیعہ علما میں اپنے وقت کا سب سے بڑا عالم قرار دیا ہے ـ [4]

تلامذہ[ترمیم]

آپ کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے ـ

یہاں پر آپ کے چند مشہور شاگردوں کے اسماء درج کیے جا رہے ہیں :

  • علامہ سید محمد قلی موسوی کنتوری
  • مولوی یاد علی (جنھوں نے فارسی میں تفسیر منھج السداد لکھی)
  • سید احمد علی محمدآبادی
  • سید مرتضی
  • مرزا جعفر
  • مرزا محمد خلیل

وفات[ترمیم]

امام بارگاہ آیت اللہ غفرانمآب (لکھنؤ)
آیت اللہ غفرانمآب کی قبر (لکھنؤ)

19/ رجب المرجب سنہ 1235ھ کو لکھنؤ میں آپ کی وفات ہوئی اور جو حسینیہ آپ نے بنایا تھا اسی میں آپ کو دفن کیا گیا ـ یہ حسینیہ آپ کے بعد آپ ہی کے نام سے موسوم ہوا یعنی حسینیہ غفرانمآب ـ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الکرام البررۃ فی القرن الثالث بعد العشرۃ، ج: 2، ص: 519
  2. اعیان الشیعۃ، ج: 6، ص: 425
  3. الذریعة الی تصانیف الشیعة، شیخ آقا بزرگ تہرانی
  4. الکرام البررۃ فی القرن الثالث بعد العشرۃ ج: 2، ص: 522