دلير مجرم (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دلير مجرم
مصنف ابن صفی
اصل عنوان دلير مجرم
ملک پاکستان
زبان اردو
سلسلہ جاسوسی دنیا
صنف ناول، (جاسوسی ادب)
ناشر اسرار پبلی کیشنز
تاریخ اشاعت
1952ء
طرز طباعت کارڈ کور
صفحات 90

دلیر مجرم جاسوسی دنیا سلسلے کا پہلا ناول ہے۔ یہ ناول مارچ 1952ء میں منظر عام پر آیا۔

کردار[ترمیم]

  • انسپکٹر فریدی: محکمہ سراغ رسانی کا انسپکٹر۔
  • سرجنٹ حمید: انسپکٹر فریدی کا اسسٹنٹ، دوست اور دونوں کا آپس میں بھائیوں جیسا تعلق ہے۔
  • سبیتا دیوی: ڈاکٹر شوکت کی ماں کی سہیلی، جس نے شوکت کی پرورش کی تھی۔
  • ڈاکٹر شوکت: دماغ کے آپریشن کا ماہر جو سول اسپتال میں اسسٹنٹ​ سرجن ہے۔
  • نواب وجاہت مرزا: راج روپ نگر کے نواب اور ڈاکٹر شوکت کے والد۔
  • کرنل تیواری: پولیس ہسپتال کے انچارج اور نواب وجاہت مرزا کے موجودہ معالج۔
  • ڈاکٹر توصیف: نواب وجاہت مرزا کا خاندانی معالج۔
  • پروفیسر عمران: ماہر فلکیات اور پر اسرار آدمی۔
  • کنور سلیم: نواب صاحب کا بھتیجا۔
  • نجمہ: نواب صاحب کی بھانجی۔
  • بیگم صاحبہ: نواب صاحب کی بہن۔

پلاٹ[ترمیم]

سبیتا دیوی نشاط نگر نامی قصبہ میں ڈاکٹر شوکت اور ملازمہ کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ ڈاکٹر شوکت سردیوں کی ایک رات آپریشن کے لیے چلا جاتا ہے۔ صبح آٹھ بجے گھر پہنچنے پر اسے ملازمہ کی زبانی معلوم ہوتا ہے کہ سبیتا دیوی خلاف معمول ابھی تک سو رہی ہے۔ نو بجے تک سبیتا دیوی کے نہ جاگی۔ دروازہ توڑے جانے پر معلوم ہوا کہ سبیتا دیوی کو خنجر کے وار سے قتل کر دیا گیا ہے۔ پولیس تفتیش کے لیے پہنچ جاتی ہے لیکن ڈاکٹر شوکت اپنے دوست اور محکمہ سراغ رساں کے انسپکٹر فریدی کو بلاتا ہے جو اپنے اسسٹنٹ سرجنٹ حمید کے ساتھ آن پہنچتا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران پتہ چلتا ہے کہ وہ رات کو سوتے وقت راج روپ نگر بڑبڑا رہی تھیں اور ان کے سینے میں گھونپا گیا خنجر نیپال کا بنا ہوا ہے۔ اس کے بعد فریدی "ایک نیپالی کے موت کے خنجر کا کھیل" کو دیکھنے سرکس ​جاتا ہے۔ نیپالی کی گھبراہٹ کی بنا پر فریدی اس سے پوچھ گچھ کرتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بیس ہزار کے عوض یہ قتل کیا ہے۔ اس انکشاف کے فورا بعد نیپالی کو کوئی خنجر کے وار سے قتل کر دیتا ہے۔

فریدی، نواب وجاہت مرزا کی بیماری کی خبر پا کر راج روپ نگر جاتا ہے اور کنور سلیم سے ملاقات کرتا ہے۔ اسی دوران پروفیسر عمران سے اتفاقاً ملاقات ہوتی ہے جو ایک پر اسرار آدمی ہے اور نواب صاحب کی کوٹھی کے پاس ہی رہتا ہے۔ پھر فریدی نواب صاحب کے خاندانی معالج ڈاکٹر توصیف سے بات چیت کرتا ہے اور ڈاکٹر شوکت سے نواب صاحب کے آپریشن کروانے کی سکیم بناتا ہے۔ راج روپ نگر سے واپسی پر فریدی پر جھاڑیوں سے گولیوں کی بوچھاڑ ہوتی ہے۔ وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے لیکن چھپ کر کیس کی تحقیقات کرنے کی عرض سے اپنی موت کی خبر شائع کروا دیتا ہے۔

ڈاکٹر شوکت ابتدائی معائنے کے بعد نواب صاحب کے آپریشن کی تجویز دیتا ہے اور آپریشن کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کی راہ میں مسلسل روڑے اٹکائے​جاتے ہیں۔ پہلے اسے​ زہریلی سوئی چبھونے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن بچ جانے پر اس کے گلے میں پھندا ڈال کر مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن فریدی خفیہ طور پر اس کی جان بچاتا ہے۔ ڈاکٹر شوکت کوٹھی پر پہنچ کر آپریشن شروع کرتا ہے اور ادھر فریدی پروفیسر کے روپ میں آ کر سلیم کو اپنے پاس باندھ لیتا ہے اور اس سے، اس کے سارے جرموں کے اعتراف کرواتا ہے۔ سلیم رسی کو جلا کر بھاگ نکلتا ہے اور ڈاکٹر شوکت کو جان سے مارنے کی ایک اور کوشش کرتا ہے لیکن فریدی کی گولی کا نشانہ بن کر مارا جاتا ہے۔

ڈاکٹر شوکت کامیاب آپریشن کر کے فارغ ہوتا ہے اور فریدی منظر عام پر آ کر سلیم کے جرم کے بارے میں بتاتا ہے۔ ایک ہفتہ بعد فریدی اور نواب صاحب کی ملاقات کے دوران انکشاف ہوا کہ نواب صاحب نے چھپ کر شادی کی تھی اور ڈاکٹر شوکت انہیں کا بیٹا ہے۔ ان کی بیوی​ نے اپنے بیٹے کی تربیت جاگیر دارانہ نظام سے ہٹ کر کرنا چاہی تھی اور خود اس جہاں سے چل بسی۔ سلیم کو اس بات کا علم ہوا اور وہ شوکت کی جان کا دشمن ہو گیا تاکہ نواب صاحب کی موت کے بعد وہ راج روپ نگر کا نواب بن سکے۔

تنقید[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]