دلیپ کمار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دلیپ کمار
Dilip Kumar 2006.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (پشتو میں: محمد يوسف خان)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 11 دسمبر 1922[2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پشاور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 جولا‎ئی 2021 (99 سال)[3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات پروسٹیٹ کینسر  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (1922–1947)
Flag of India.svg بھارت (1947–2021)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ سائرہ بانو (11 اکتوبر 1966–)[4]  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
ناصر خان[5]  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
رکن راجیہ سبھا[6]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن مدت
3 اپریل 2000  – 2 اپریل 2006 
حلقہ انتخاب مہاراشٹر 
عملی زندگی
پیشہ فلم اداکار،  فلم ہدایت کار،  فلم ساز،  منظر نویس،  سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو[7]،  پشتو،  ہندکو،  فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
دستخط
Dilip Kumar signature.svg
 
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

دلیپ کمار پیدائشی نام محمد یوسف خان ( پیدائش 11 دسمبر 1922ء) بالی وڈ ہندی فلموں کے لیجنڈری اداکار، آن، دیوداس، آزاد، مغل اعظم، گنگا جمنا، انقلاب، شکتی، کرما، نیا دور، مسافر، مدھومتی، دل دیا درد لیا، مزدور، لیڈر، جوار بھاٹا، جگنو، شہید، ندیا کے پار، میلا، داغ، دیدار، آگ کا دریا، عزت دار، داستان، دنیا، کرانتی، قانون اپنا اپنا، سوداگر جیسی مایہ ناز فلموں میں کام کیا۔7 جولائی 2021 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

پشاور کے محلہ خداداد (قصہ خوانی بازار) میں لالہ غلام سرور اعوان کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ انیس سو پینتیس میں ممبئی ( جو ان دنوں بمبئی تھا) کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے۔ اداکاری سے قبل یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے اور انہوں نے پونا کی فوجی کینٹین میں پھلوں کی ایک سٹال لگا رکھی تھی۔ 1966ء میں انہوں نے اداکارہ سائرہ بانو سے شادی کی۔

فلم[ترمیم]

دلیپ کمار اور امیتابھ بچن

اس زمانے کی معروف اداکارہ اور فلمساز دیوکا رانی کی جوہر شناس نگاہوں نے بیس سالہ یوسف خان میں چھپی اداکاری کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور فلم ’جوار بھاٹا‘ میں دلیپ کمار کے نام سے ہیرو کے رول میں کاسٹ کیا۔ اس کے بعد سے اس شخص نے بھارتی فلمی صعنت پر ایک طویل عرصے تک راج کیا۔ اور آن۔ انداز۔ دیوداس۔ کرما۔ سوداگر جسی مشہور فلموں میں کام کیا۔

دیکھیے: دلیپ کمار کی فلموں کی فہرست

شہنشاہ جذبات[ترمیم]

سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم ایسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران میں انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا اور رام اور شیام میں ایک کامیڈین کی اداکاری کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے ہیں۔

فن[ترمیم]

دلیپ کمار اپنے مداحوں کے درمیان

دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔ انڈین فلم انڈسٹری انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف بھی کرتے ہیں۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے جن کے سٹائل کی نقل لڑکے کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر مرتی تھیں۔ ہیروئین مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علاحدہ ہو گئے۔

ہالی وڈ[ترمیم]

ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔

کنارہ کشی[ترمیم]

انیس سو اٹھانوے میں فلم ' قلعہ ' میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ اس کے بعد دلیپ کمار صرف شادی بیاہ کی تقریبات اور فلمی پارٹیوں میں اپنی بیوی سائرہ بانو کے ساتھ نظر آتے تھے۔ پارٹی میں آنے والے اداکار تب بھی ان کے پیر چھونا نہیں بھولتے۔

اعزازات[ترمیم]

جہاں انھیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا وہاں انھیں انڈین فلم کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی دیا گیا۔ پاکستان حکومت کی طرف سے 1998ء میں ان کو پاکستان کے سب سے بڑے سیویلین اعزاز نشان پاکستان سے بھی نوازا گیا۔ بھارت کا دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز، 2015 میں پدم ویبھوشن سے نوازا گیا۔

وفات[ترمیم]

7 جولائی 2021ء کو وفات پاگئے ،ہندوجا ہسپتال ممبئی میں زیر علاج دلیپ کمار کے ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ اداکار کینسر کی چوتھی سٹیج پر تھے جس کا علاج ممکن نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق اداکار ’ایڈوانس پراسٹیٹ کینسر‘ کی چوتھی سٹیج پر تھے جس کے باعث دیگر اعضاء بھی متاثر ہو گئے تھے۔ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ اداکار کا علاج پچھلے تین چار ماہ سے جاری تھا، وہ ’پراسٹیٹ کینسر‘ میں مبتلا تھے جو جسم کے دوسرے اعضاء میں پھیل چکا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق دلیپ کمار کے گُردے بھی فیل ہو گئے تھے جس کے باعث انہیں متعدد بار خون بھی چڑھایا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہم نے آخری مرتبہ خون لگایا لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اداکار گزشتہ کچھ دنوں سے کوئی رد عمل نہیں دے رہے تھے، بلڈ پریشر بھی کم رہتا تھا جبکہ خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بھی کم ہو گئی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق کینسر کی سٹیج فور کے باعث ان کے دیگر امراض کا علاج بھی مشکل ہو گیا تھا۔ بالی ووڈ فلم نگری پر طویل عرصے تک راج کرنے والے لیجنڈری اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار کی انتقال کے وقت عمر 98 سال تھی، ان کی آخری آرامگاہ ممبئی کے مشہور علاقہ سانتا کروز کے جوہو قبرستان میں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.news18.com/news/buzz/pitayi-ke-darr-se-when-yusuf-khan-revealed-why-he-became-dilip-kumar-3934265.html — اخذ شدہ بتاریخ: 7 جولا‎ئی 2021 — اقتباس: One of 12 children, Dilip saab was born as Mohammed Yusuf Khan in Peshawar (now in Pakistan) on December 11, 1922, to Lala Ghulam Sarwar, a fruit merchant.
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Dilip-Kumar — بنام: Dilip Kumar — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. Legendary actor Dilip Kumar passes away at 98 — اخذ شدہ بتاریخ: 7 جولا‎ئی 2021
  4. https://www.hindustantimes.com/bollywood/dilip-kumar-and-saira-banu-are-not-celebrating-their-wedding-anniversary-this-year-we-lost-two-of-our-brothers/story-q8H4ywaVm9zgqOkkCwTQFO.html — اخذ شدہ بتاریخ: 7 جولا‎ئی 2021
  5. https://books.google.com/books?id=tk5gBAAAQBAJ&pg=PT82 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اگست 2019
  6. https://rajyasabha.nic.in/rsnew/member_site/mpterms.aspx — اخذ شدہ بتاریخ: 7 جولا‎ئی 2021
  7. Dawn — اخذ شدہ بتاریخ: 8 جولا‎ئی 2021
  8. http://timesofindia.indiatimes.com/india/Advani-Amitabh-Bachchan-Dilip-Kumar-get-Padma-Vibhushan/articleshow/46014726.cms
  9. http://www.rediff.com/news/1999/jul/11dilip.htm