مندرجات کا رخ کریں

دنیا کا خاتمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اس میں مشرقی آرتھوڈوکس چرچ میں دنیا کے خاتمے کو دکھایا گیا ہے۔

دنیا کا خاتمہ یا حتمی پیش گوئی سے مراد وہ متوقع وقت ہے جب کائنات، زمین یا صرف انسانیت کا خاتمہ واقع ہوگا۔ یہ تصور تمام ابراہیمی مذاہب، بیشتر دیگر مذاہب، مختلف فلسفیانہ نظریات، نیز یونانی اور نورس اساطیر میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس موضوع کو ادب، فنون اور سائنسی افسانوں میں بھی وسیع طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس تصور کے مطالعے کو علمِ آخرت کہا جاتا ہے۔ [1] تعبر عن وقت معين حيث سيتم تدمير الكون أو الأرض أو البشرية فقط.[2]

مذاہب میں دنیا کا خاتمہ

[ترمیم]

دنیا کے خاتمے کا تصور مختلف مذاہب میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے، مثلاً:

  • اسلام: یومِ قیامت
  • مسیحیت: مکاشفۂ یوحنا
  • بدھ مت: ماپّو (Mappō)
  • نورس اساطیر: راگناروک
  • مایا تہذیب: 2012 کا مظہر (2012 Phenomenon

انسانیت کا خاتمہ

[ترمیم]

انسانیت کے خاتمے کا سبب انسانی سرگرمیاں بھی بن سکتی ہیں، مثلاً آلودگی، قدرتی وسائل کی کمی، عالمی حدت (گرین ہاؤس اثر) اور جنگیں۔ بہت سے لوگ انسانیت کے خاتمے کو ایٹمی جنگ سے جوڑتے ہیں، لیکن عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایٹمی جنگ اگرچہ انسانوں کی بہت بڑی تعداد کو ہلاک کر سکتی ہے، تاہم دفاعی نظاموں کی ترقی اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کے باعث پوری انسانیت کا خاتمہ لازمی نہیں۔

عالمی حدت کے نتیجے میں سمندری پلانکٹن کی بڑی مقدار میں ہلاکت واقع ہو سکتی ہے، جس سے فضا میں آکسیجن کی مقدار کم اور مہلک ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس خارج ہو سکتی ہے۔ بعض سائنس دان اسے پرمین عظیم معدومی کے ممکنہ اسباب میں شمار کرتے ہیں، جس میں اندازاً 95 فیصد سمندری اور 70 فیصد خشکی کی انواع معدوم ہو گئی تھیں۔ [3] , ,[4] [5]

زمین کی تباہی

[ترمیم]

زمین یا اس پر موجود زندگی کی وسیع پیمانے پر تباہی کے بارے میں کئی ممکنہ منظرنامے پیش کیے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • شہابِ ثاقب یا دمدار ستارے کا زمین سے ٹکراؤ: اس نظریے کو ڈائنوساروں اور دیگر عظیم معدومیوں کی ممکنہ وجہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے دنیا کی کئی تنظیمیں زمین کے قریب آنے والے اجرامِ فلکی کی نگرانی کرتی ہیں۔ [6]
  • زمین کے مرکز (کور) کا ٹھنڈا ہونا: اس سے زمین کا مقناطیسی میدان کمزور یا ختم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شمسی ہوائیں براہِ راست زمین کی سطح پر اثر انداز ہوں گی۔ اگرچہ یہ صورتِ حال زندگی کے لیے خطرناک ہوگی، لیکن ضروری نہیں کہ تمام حیات کا خاتمہ ہو جائے۔
  • سورج کا سرخ دیو بن جانا: فلکیات کے مطابق سورج مستقبل میں سرخ دیو ستارے میں تبدیل ہوگا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 50 کروڑ (500 ملین) سال بعد شدید گرمی، بالائے بنفشی شعاعوں میں اضافے اور سورج کے پھیلاؤ کے باعث زمین پر زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ منظرنامہ موجودہ سائنسی معلومات کے مطابق سب سے زیادہ یقینی سمجھا جاتا ہے۔ [7] .[8] [9]

کائنات کا خاتمہ

[ترمیم]

کائنات کا حتمی انجام اب بھی سائنسی تحقیق کا موضوع ہے۔ سب سے زیادہ قابلِ قبول نظریے کے مطابق کائنات مسلسل پھیلتی رہے گی، جس سے مادّے اور توانائی کی کثافت بتدریج کم ہوتی جائے گی اور بالآخر حرارتی موتِ کائنات واقع ہوگی۔ [6]

ثقافت میں دنیا کا خاتمہ

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Nur al-Din Khalil (2008)۔ English / Arabic Dictionary of the Three Great Religions: اليهودية والمسيحية والإسلامية (بزبان عربی وانگریزی)۔ اسکندریہ: Horus International Institution for Publishing and Distribution۔ ص 44۔ ISBN:978-977-368-087-9۔ OCLC:166560426۔ OL:45068455M۔ QID: Q125055340
  2. "معلومات عن نهاية العالم على موقع thes.bncf.firenze.sbn.it"۔ thes.bncf.firenze.sbn.it۔ 2019-12-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  3. Carey 2012, p. 4
  4. Najman 2014, p. 37
  5. Reynolds 2011, p. 45–46
  6. 1 2 Lewis 2004, p. 17
  7. Lewis 2004, p. 12
  8. Redditt 2008, p. 180
  9. Lewis 2004, p. 7