دوارکاناتھ ودیابھوشن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دوارکاناتھ ودیابھوشن
(بنگالی میں: দ্বারকানাথ বিদ্যাভূষণ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
A marble bust of Dwarakanath Vidyabhushan at Harinabhi school.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1820  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 22 اگست 1886 (65–66 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ستنا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی سنسکرت کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

دوارکاناتھ ودیابھوشن (بنگالی: দ্বারকানাথ বিদ্যাভূষণ) ‏(1820 – 22 اگست 1886) ایک ہندوستانی اسکالر اور بنگالی زبان کے ہفتہ وار اخبار سوم پرکاش کے مدیر اور ناشر تھے۔

والد[ترمیم]

ان کے والد ہرچندر بھٹاچاریہ (المعروف ”نیائے رتن“) ایک اسکالر تھے۔ انھوں نے کاشی ناتھ ترکلنکر کے زیر سایہ تعلیم پائی، جن کے پاس شمالی کولکاتا کے مقام ”ہاتی باگان“ پر تعلیم کا ایک مشہور روایتی مرکز تھا۔ نیائے رتن نے سنسکرت کی تعلیم دینے والے روایتی مراکز (تول چتوش پاٹھی) میں پڑھایا اور گھر میں فالتو وقت میں لڑکوں کو بھی پڑھایا تھا۔ نیائے رتن کے مشہور شاگردوں میں ایشور چندر گپتا اور رامتنو لاہری شامل تھے۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

گاؤں کے روایتی مرکز، ”پاٹھ شالا“ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دوارکاناتھ نے 1832ء کو سنسکرت کالج، کولکاتا میں داخلہ لیا اور وہاں 1845ء تک تعلیم حاصل کی، وہاں انھوں نے کئی انعامات جیتے اور ایک اسکالر کے طور پر شہرت حاصل کی۔[1] انھوں نے آخری امتحان میں ”ودیابھوش“ کا خطاب پایا۔ انھوں نے مختصر عرصے تک فورٹ ولیم کالج میں پڑھایا اور پھر سنسکرت کالج میں لائبریرین بنے۔ بعد میں انھوں نے پروفیسر کی منصب پا لیا اور جب ایشور چندر ودیاساگر پرنسپل تھے تو وہ ان کے اسسٹنٹ بھی رہے۔[2]

خواتین کی تعلیم کے پرزور حمایتی دوارکاناتھ نے دوسرے روشن خیالوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور جان ایلیٹ ڈرنک واٹر بیتھون کے قائم کردہ بیتھون اسکول کی اکیس برسوں تک حمایت کی۔.[3]

1856ء میں ان کے والد نے پرنٹنگ پریس قائم کی۔[1] تاہم ان کے والد بیمار ہو گئے پرنٹنگ پریس قائم کرنے بعد جلد ہی دنیا سے رحلت فرما گئے۔ ودیابھوشن نے پریس کی باگ دوڑ سنبھال لی اور دو جلدوں پر مشتمل یونان کی تاریخ اور روم کی تاریخ لکھی اور شائع کی۔ بنگالی زبان میں یہ تاریخ والی کتب پہلی بار اتنی موٹی جلدوں میں تحریر کی گئی تھیں۔[1][4]

وفات[ترمیم]

دوارکاناتھ ودیابھوشن نے ستنا میں وفات پائی۔[1]

شیو ناتھ شاستری دوارکاناتھ کی بہن کے بیٹے تھے۔[2]

تصنیفات[ترمیم]

تاریخ: یونان کی تاریخ، روم کی تاریخ (دونوں بنگالی میں)۔[1] کتابیں: نیتیسر، پاٹھ مرت، چھتر بودھ، بھوسنسار بیان کرن۔[2] شاعری: پرکرتو پریم، پروکرتو سُکھ، بشیشور بلیپ۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث Sastri, Sivanath, Ramtanu Lahiri O Tatkalin Bangasamaj, (بنگالی زبان میں)1903/2001, p167-170, New Age Publishers Pvt. Ltd.
  2. ^ ا ب پ ت Sengupta, Subodh Chandra and Bose, Anjali (editors), 1976/1998, Sansad Bangali Charitabhidhan (Biographical dictionary) Vol I, (بنگالی زبان میں), p223, ISBN 81-85626-65-0.
  3. Kopf, David, The Brahmo Samaj and the Shaping of the Modern Indian Mind, 1979, p34, Princeton University Press, ISBN 0-691-03125-8.
  4. Majumdar, Swapan, Literature and Literary Life in Old Calcutta in "Calcutta, the Living City", Vol I, edited by Sukanta Chaudhuri, p. 113, Oxford University Press, ISBN 0-19-563696-1.