دوسری صدی میں مسیحیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دوسری صدی میں مسیحیت کا دور آبائے رسولی کا تھا جو یسوع کے رسولوں کے شاگرد تھے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ دوسری صدی میں یوحنا عارف بھی حیات تھا اور روم کے کلیمینس نے پہلی صدی کے اختتام میں وفات پا چکا تھا۔ پہلی صدی میں کلیسیا (مسیحی امت) کی یروشلم میں تشکیل ہوئی اور دوسری صدی میں کلیسیا کا وجود مٹ گیا۔[1] دوسری صدی میں بہت سی شخصیات بھی گزری ہیں جن کو بعد میں بدعتی قرار دیا گیا ان میں مرقیون، ویلنتینس اور Montanus قابل ذکر ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Langan, The Catholic Tradition (1998), pp.55, 115