دولت رسولیہ
| دولت رسولیہ | |
|---|---|
| تاریخ تاسیس | 1229[1] |
نقشہ |
|
| انتظامی تقسیم | |
| دار الحکومت | زبید |
| قابل ذکر | |
| درستی - ترمیم | |
دولتِ رسولیہ ایک عرب مسلم سلطنت تھی جو جزیرہ نما عرب کے جنوبی حصے میں قائم ہوئی۔ [2][3]بنو رسول کا نسب جَبَلَہ بن ایہم غسانی سے جا ملتا ہے جو قبیلہ اَزد سے تعلق رکھتا تھا۔ اس ریاست نے سنہ 626ھ تا 858ھ (1229ء تا 1454ء) تک حکومت کی۔[4]
اس کی بنیاد عمر بن رسول نے رکھی، جس نے مصر میں ایوبی حکومت سے علیحدگی اختیار کی اور خود کو "ملک المنصور" (یعنی فاتح بادشاہ) کے لقب سے ایک آزاد بادشاہ قرار دیا۔ اس نے جنوبی عرب میں ایک مضبوط ریاست قائم کی اور تَعِزّ کو اس کی دار الحکومت بنایا۔ عمر بن رسول ایک بصیر سیاست دان اور انتہائی باصلاحیت حکمران تھا۔ اس نے تعز میں عوامی حمایت کی بنیاد رکھی جس نے اس کی ریاست کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا۔[5] [6] .[6][7]

رسولیہ خلفاے عباسیہ کے وفادار رہے، یہاں تک کہ ان کے زوال کے بعد بھی ان کا نام منبروں پر لیا جاتا رہا۔ مؤرخ علی الخزرجي (م 812ھ) لکھتے ہیں:[8]
| ” | >“خلیفہ المستعصم ہی وہ تھے جن کے لیے آج بھی، سنہ 798ھ تک، تمام منبروں پر دعا کی جاتی ہے۔” | “ |
عمر بن رسول نے جب تعز میں اقتدار مضبوط کیا تو سب سے پہلے زبید پر قبضہ کیا، پھر شمالی بلند علاقوں اور اس کے بعد حجاز تک اپنی سلطنت کو پھیلایا، یہاں تک کہ اس کی حدود ظفار سے مکہ مکرمہ تک جا پہنچیں۔[9] سنہ 1249ء میں عمر بن رسول اپنے بھتیجے کے ہاتھوں قتل ہوا، مگر اس کا بیٹا ملک مظفر یوسف اوّل نے اپنے چچا زاد کو شکست دی اور زیدیوں کی بغاوت کو کچل دیا، اسی لیے اسے "المظفر" (فتح مند) کہا گیا۔
جب 1258ء میں ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد تباہ ہوا تو المظفر یوسف نے عباسی خلافت کی وفاداری برقرار رکھی تاکہ اپنی حکومت کی شرعی حیثیت برقرار رکھ سکے۔ اس نے دار الحکومت صنعا سے تعز منتقل کر دی کیونکہ وہ عدن کے قریب تھی۔ مظفر یوسف نے کعبہ مشرفہ کو اندر اور باہر سے نیا غلاف پہنایا کیونکہ بغداد سے غلاف آنا منگولوں کے باعث رک گیا تھا۔ اس کی اندرونی کسوت سنہ 761ھ (1359ء) تک برقرار رہی۔ کعبہ کے اندر آج بھی ایک سنگِ مرمر پر کندہ عبارت موجود ہے:
| ” | "اس بیتِ معظم کی تزئین کا حکم دیا بندۂ عاجز یوسف بن علی بن رسول نے،
اے خدا! اپنی نصرت سے اس کی مدد فرما، اس کے گناہ بخش دے، اپنی رحمت سے اے کریم و غفار، سنہ 680ھ۔"[10] .[11] |
“ |
مظفر یوسف نے مدارس، قلعے اور حصون تعمیر کرائے۔ اس کے سینتالیس سالہ دورِ حکومت میں تعز علم، فن اور تجارت کا مرکز بن گیا۔ اس نے تعز، عدن، صنعا، زبید، صعدہ اور مکہ میں سکے ڈھالنے کے کارخانے (دار السکہ) قائم کیے۔ اس کی وفات تعز میں ہوئی جہاں اسے دفن کیا گیا۔ حتیٰ کہ اس کے مخالف زیدیوں نے بھی اسے "اعظم ملوک الیمن" (یمن کا سب سے عظیم بادشاہ) قرار دیا۔[12]
دورِ رسولیہ کو یمن اور جنوبی جزیرۂ عرب کی سنہری عہد کہا جاتا ہے۔ انھوں نے علم کے فروغ، مدارس کے قیام، علما کی سرپرستی اور مذہبی آزادی کو فروغ دیا۔ سیاح مارکو پولو نے بھی رسولیہ سلطنت کی علمی، تجارتی اور عمرانی سرگرمیوں کی تعریف کی اور قلعوں و حصون کی کثرت کو سراہا۔.[13][14]
دولتِ رسولیہ اسلام کے بعد جنوبی عرب کی طویل ترین حکمران سلطنت ثابت ہوئی۔ اسی دور میں قلعۂ قاہرہ (تعز) اور جامع و مدرسۂ مظفر تعمیر کیے گئے۔ رسولی بادشاہوں میں سے بعض نے طب، صنعت اور لسانیات پر علمی کتابیں بھی تصنیف کیں۔[15] .[16] .[17][18]


حکمرانوں کی فہرست
[ترمیم]| نمبر | حکمران | دورِ حکومت (ہجری) | دورِ حکومت (عیسوی) |
|---|---|---|---|
| 1 | المنصور عمر بن علی بن محمد ہارون (الرسولی) | 626 – 647 هـ | 1229 – 1249 م |
| 2 | المظفر یوسف بن المنصور عمر | 647 – 694 هـ | 1249 – 1295 م |
| 3 | الاشرف عمر بن المظفر یوسف | 694 – 696 هـ | 1295 – 1297 م |
| 4 | مؤید داود بن مظفر یوسف | 696 – 721 هـ | 1297 – 1321 م |
| 5 | مجاهد علی بن مؤید داؤد | 721 – 764 هـ | 1321 – 1363 م |
| 6 | افضل عباس بن مجاہد علی | 764 – 778 هـ | 1363 – 1376 م |
| 7 | اشرف إسماعیل (اول) بن افضل عباس | 778 – 803 هـ | 1376 – 1400 م |
| 8 | الناصر احمد بن اشرف إسماعیل (اول) | 803 – 827 هـ | 1400 – 1424 م |
| 9 | منصور عبد اللہ بن الناصر احمد | 827 – 830 هـ | 1424 – 1427 م |
| 10 | الأشرف إسماعیل (دوم) بن الناصر احمد | 830 – 831 هـ | 1427 – 1428 م |
| 11 | الطاہر یحییٰ بن الأشرف إسماعیل (اول) | 831 – 842 هـ | 1428 – 1438 م |
| 12 | الأشرف إسماعیل (سوم) بن ظاهر یحییٰ | 850 – 858 هـ | 1446 – 1454 م |
| 13 | المظفر یوسف بن عمر بن إسماعیل (اول) | 845 – 847 هـ | 1441 – 1443 م |
| 14 | المسعود ابو قاسم بن إسماعیل (دوم) | 847 – 858 هـ | 1443 – 1454 م |
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/topic/Rasulid-dynasty — بنام: Rasulid dynasty — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اکتوبر 2018
- ↑ "ص36 - كتاب العقود اللؤلؤية في تاريخ الدولة الرسولية - فصل - المكتبة الشاملة"۔ المكتبة الشاملة۔ 2021-06-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-06-04
- ↑ Ali, Abdul (1996). Islamic Dynasties of The Arab East ; State and Civilization during the Later Medieval Times. M.D. Publications Pvt Ltd. P. 83
- ↑ Rasulids, G.R. Smith, The Encyclopaedia of Islam, Vol. VIII, ed. C.E.Bosworth, E. van Donzel, W.P. Heinrichs and G. Lecomte, (Brill, 1996), 455.
- ↑ Abdul Ali 1996 p. 84
- ^ ا ب G. Rex Smith 1988 pp 26-44
- ↑ Abdul Ali Islamic Dynasties of the Arab East: State and Civilization During the Later Medieval Times p.84
- ↑ "ص26 - كتاب مجلة الرسالة - تاريخ الدولة الرسولية باليمن وعلاقاتها بمصر - المكتبة الشاملة"۔ المكتبة الشاملة۔ 2021-06-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-06-04
- ↑ Abdul Ali (1996). Islamic Dynasties of the Arab East: State and Civilization During the Later Medieval Times. M.D. Publications Pvt. Ltd. p. 86. ISBN 81-7533-008-2.
- ↑ Abdul Ali (1996). slamic Dynasties of the Arab East: State and Civilization During the Later Medieval Times. M.D. Publications Pvt. Ltd. p. 86. ISBN 81-7533-008-2.
- ↑ Josef W. Meri, Jere L. Bacharach (2006). Medieval Islamic Civilization: L-Z, index. Taylor & Francis. p. 669. ISBN 0-415-96692-2.
- ↑ كتاب: الأعلام للزركلي، للمؤلف خير الدين الزركلي، الجزء 8، الصفحة 243
- ↑ محمد عبده السروري مظاهر الحضارة في اليمن ص 414
- ↑ "تعز القديمة.. الرسوليون مرّوا من هنا"۔ www.aljazeera.net (بزبان عربی)۔ 16 أكتوبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-06-04
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ the Unity of the Rasulid State under al-Malik al-Muzaffar p.13
- ↑ Daniel Martin Varisco, the Unity of the Rasulid State under al-Malik al-Muzaffar p.13-24
- ↑
- ↑

