مندرجات کا رخ کریں

دولت طاہریہ (یمن)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
دولت طاہریہ
الدولة الطاهرية  (عربی)
1454–1517
طاہری سلطنت ہلکے سبز رنگ میں اور ائمہ زیدیہ گہرے سبز رنگ میں دکھائے گئے ہیں
طاہری سلطنت ہلکے سبز رنگ میں اور ائمہ زیدیہ گہرے سبز رنگ میں دکھائے گئے ہیں
دار الحکومتزبید
عمومی زبانیںعربی زبان
مذہب
اہل سنت
حکومتسلطنت
Sultan 
تاریخی دوردورِ اوائلِ جدید
• 
1454
• 
1517
کرنسیدینار
ماقبل
مابعد
دولت رسولیہ
مملوک سلطنت
موجودہ حصہ

دولتِ طاہریہ (855ھ946ھ / 1454ء1539ء) یمن کی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد امیر عامر بن طاہر ذرحانی الیافعی نے رسولی سلطنت کے زوال کے بعد رکھی۔ اس نے حصن المقرانہ کو دار الحکومت بنایا۔[1][2][3] طاہریوں نے یمن کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، سوائے شمالی پہاڑی خطوں (صعدہ، صنعاء اور ان کے گرد و نواح) کے جو ائمہ زیدیہ کے زیرِ اثر تھے۔ ان کا اقتدار ظفار، الشحر اور تہامہ کے کناروں تک پھیل گیا اور اپنے آخری دور میں وہ صنعاء پر بھی قابض ہو گئے۔[4][5] [6][7]

تاریخ

[ترمیم]

طاہری خاندان دراصل رداع (صوبہ البیضاء) کے مقامی دینی مشائخ میں سے تھا، جو بنی رسول کے زیرِ اثر علاقے میں رہتے تھے۔ رسولی سلطنت کے آخری بارہ برسوں میں امیر ظافر عامر بن طاہر ذرحانی نے حکمران خاندان کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھایا اور 1454ء میں ملک مسعود ابو قاسم بن اشرف اسماعیل سے حکومت پُرامن طور پر سنبھال لی۔

اگرچہ طاہری حکمران اپنے پیش رو رسولی بادشاہوں کی طرح طاقتور نہیں تھے، مگر انھوں نے زبید، عدن، رداع وغیرہ میں متعدد آب‌انبار، پل اور مدارس تعمیر کیے۔ ان کے آثار میں سب سے مشہور مدرسہ عامريہ ہے، جسے ملک ظافر عامر بن عبد الوہاب نے 1504ء میں تعمیر کروایا۔ یہ عمارت آج بھی باقی ہے اور یونیسکو عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کیے جانے کے لیے نامزد ہے۔[8] روایت ہے کہ بعد میں امام مہدی محمد بن احمد بن حسن نے اسے منہدم کرنے کا ارادہ کیا تھا کیونکہ وہ اسے “کفارِ تاویل” کی یادگار سمجھتے تھے۔

طاہری بادشاہوں نے اپنے دورِ حکومت میں دیگر یمنی سلطنتوں کی طرح تعز، عدن اور تہامہ کے علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے میں زیادہ وقت صرف کیا، جہاں ممالیک اور بعض مقامی قبائل (جیسے معازبہ) بھی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ انھوں نے حضرموت کے شہر الشحر پر بھی قبضہ کیا، جب وہاں کے مقامی بادشاہ نے عدن پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ طاہریوں نے وہاں اسعد بن اسماعيل نہمی کو گورنر مقرر کیا۔[9]

طاہری فوجوں نے ایک وقت میں صنعاء پر بھی قبضہ کر لیا تھا، مگر وہاں ائمہ زیدیہ کے باہمی تنازعات کے بعد جب وہ دوبارہ متحرک ہوئے تو امام مؤيد نے شہر پر قبضہ کر لیا۔ اس پر ملک ظاہر عامر بن عبد الوہاب نے شہر واپس لینے کے لیے چڑھائی کی، لیکن 870ھ / 1466ء میں ایک معرکے میں وہ مارا گیا۔ اس کے بعد اس کا بھائی ملک مجاجد تخت پر بیٹھا، مگر اس نے صنعاء پر دوبارہ قبضہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور زیدیوں کو شمالی علاقے چھوڑ دیے۔

ملک مجاجد نے 25 سال (883ھ / 1478ء تک) حکومت کی، جس دوران اس نے سلطنت کو مستحکم کیا اور بغاوتوں کو کچلا۔ اس کے بعد حکومت اس کے بھتیجے عبد الوہاب بن داود الطاہری (الملقب بـ المنصور) کے سپرد ہوئی۔ الملک المنصور کے دور میں دار الحکومت جبن سے عدن اور پھر تعز منتقل کیا گیا۔ اس نے اپنے 11 سالہ دور میں خاص طور پر تہامہ کے علاقوں پر توجہ دی، وادی زبید کے پانی کی منصفانہ تقسیم کا نظام قائم کیا، کئی مدارس اور مساجد تعمیر کیں اور پرانی عمارتوں کی مرمت کروائی۔[10] .[11]

حکمرانوں کی فہرست

[ترمیم]
نمبر حاکم دورِ حکومت (ہجری) دورِ حکومت (عیسوی)
1 ظافر عامر بن طاہر 858ھ870ھ 14541466ء
2 المجاہد علی بن طاہر 870ھ883ھ 14661479ء
3 المنصور عبد الوہاب بن داؤد 883ھ894ھ 14791489ء
4 ظافر عامر بن عبد الوہاب 894ھ923ھ 14891517ء
5 عامر بن داؤد الطاہری 923ھ946ھ 15171539ء

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. کتاب تاريخ الدولة الطاهرية، محمد احمد الفيصلي، ص 858ھ؛ هجر العالم ومعاقله باليمن، القاضي اسماعيل بن علي الأكوع؛ قرة العيون بأخبار اليمن الميمون، عبد الرحمن الشيباني الزبيدي المذحجي؛ روح الروح فيما أجري بعد المئة التاسعة من الفتن والفتوح، أبو جعفر العلوي الكوكباني؛ المنتقى من تاريخ اليمن الإسلامي، طه حسين هديل۔
  2. الموسوعة اليمنية؛ القبيلة والمدينة والمجال في العالم العربي والإسلامي، راضي دغفوس؛ الساطع في تاريخ قبائل الضالع؛ التاريخ العامر لليمن، محمد يحيى حداد؛ هوية السلطة في اليمن، أحمد علي الأحصب۔
  3. الدولة الطاهرية، إسماعيل مصلح أبو سويد الحجاجي المذحجي؛ عدن في عهد الطاهريين، عباس حسين علوي فرحان؛ بنو رسول وبنو طاہر وعلاقات اليمن الخارجية في عهدهما، عبد العال المفصل؛ الفتوح المرادية، ابن داعر (القرن الحادي عشر الهجري)؛ الإكليل، الهمداني، الجزء الثاني۔
  4. معجم البلدان والقبائل العربية - إبراهيم أحمد المقحفي- الجزء 2 - الصفحة 1615
  5. طرفةالأصحاب في معرفة الأنساب
  6. إسماعيل أحمد (2018-05-03)۔ العالم العربي في التاريخ الحديث (بزبان عربی)۔ العبيكان للنشر۔ ISBN:978-9960-20-380-5۔ 27 يوليو 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  7. أ د فَرِيدُون (2017-05-01)۔ السلطان سليمان القانوني سلطان البرين والبحرين (بزبان عربی)۔ burujbooks۔ ISBN:978-977-6631-16-8۔ 27 يوليو 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  8. The Madrasa Amiriya of RadaUNISCO world Heritage center last retrieved 23 June 2013 آرکائیو شدہ 2017-12-14 بذریعہ وے بیک مشین
  9. [1] المركز الوطني للمعلومات آرکائیو شدہ 2019-01-15 بذریعہ وے بیک مشین
  10. Venetia Aim Porter,The History and Monuments of the Tahirid dynasty of the Yemen 858-923/1454-1517 p.1
  11. Halil İnalcık, Donald Quataert (1994). An Economic and Social History of the Ottoman Empire, 1300-1914. Cambridge University Press. p. 320. ISBN 0-521-34315-1.