دویت ویدانت
| مضامین بسلسلہ |
| ہندو فلسفہ |
|---|

دویت ویدانت (اصل نام تتو واد؛ سنسکرت: द्वैत वेदान्त) ہندو فلسفہ کی ویدانت روایت کا ایک ذیلی مکتبِ فکر ہے۔ اصطلاح "تتو واد" کے لفظی معنیٰ ہیں "حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر کے حامل دلائل و براہین"۔ تتو واد (دویت) ویدانت کے ذیلی مکتب فکر کی بنیاد تیرہویں صدی عیسوی کے ہندوستانی فلسفی اور سنت مدھو اچاریہ نے رکھی تھی۔[1] مدھو اچاریہ تین ہستیوں پر اعتقاد رکھتے تھے: ایشور، جیو (روح) اور جڑ (مایا یا مادہ)۔[2] دویت ویدانت کا ماننا ہے کہ ایشور اور انفرادی روحیں ("جیواتما") الگ الگ حقیقتوں کے روپ میں موجود ہیں۔ یہ انفرادی روحیں وشنو (نارائن) کی محتاج ("پرتنتر") ہیں جو اکیلا خود مختار ("سوتنتر") ہے۔
دویت مکتب فکر ویدانت کے دیگر دو بڑے ذیلی مکاتبِ فکر سے مختلف ہے؛ ایک شنکر آچاریہ کا ادویت جو غیر ثنویت کا قائل ہے یعنی حقیقتِ مطلق (برہم) اور انسانی روح (آتما) ایک ہی ہیں اور حقیقت بتمامہ ایک اکائی ہے اور دوسرا مکتب فکر رامانج کا وششٹ ادویت جو اوصاف سے متصف غیر ثنویت کا قائل ہے یعنی حقیقتِ مطلق (برہم) اور انسانی روح مختلف ہیں لیکن ان میں ایک ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔[3][4] دویت ویدانت روایت کے سنیاسی "ایک دنڈی" سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں۔[5]
وجہ تسمیہ
[ترمیم]"دویت" (द्वैत) سنسکرت کا لفظ ہے جس کا مطلب "دوئی" یا "ثنویت" ہے۔[6] یہ اصطلاح کسی بھی ایسے قضیہ کی طرف اشارہ کرتی ہے، خاص طور پر الہیات میں مادے اور الوہیت کے حوالے سے، جہاں دو اصولوں (حقائق) یا حقیقتوں کے بیک وقت اور آزادانہ وجود کو تسلیم کیا گیا ہو۔[6][1] اگرچہ عمومی طور پر ثنویت پسندی خیر اور شر کے درمیان تقسیم کا نام ہے، لیکن مدھو اچاریہ نے حقیقت کو خود مختاری اور احتیاج کی بنیاد پر دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:
- خود مختار ہستی: کائنات کا واحد خالق، محسن اور فنا کرنے والا (ایشور)۔
- محتاج حقیقت: دیگر تمام اشیا جو اپنے وجود ميں اس کی محتاج ہیں۔
دیگر نام
[ترمیم]سوتنتر ادوتیہ برہم واد
[ترمیم]ماہرِ ہندویات بی این کرشن مورتی شرما کہتے ہیں: "انگریزی اصطلاح ڈوئلزم (ثنویت پسندی)، اس مکمل مواد اور معانی کی گہرائی کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے جو مدھو اچاریہ نے لفظ "دویت" میں شامل کیے ہیں جیسا کہ ان کے نظام سے مراد لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ سنسکرت کا لفظ "دویت" بھی لغوی طور پر مسلمہ بنیادی اصولوں سے زیادہ کچھ بیان کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔[7][8] بی این کے شرما نے مدھو کے نظام کے لیے ایک متبادل نام کے طور پر "سوتنتر ادوتیہ برہم واد" کی تجویز پیش کی اور وضاحت کی کہ یہ برہم کی ماورائیت اور ہمہ گیریت دونوں پر زور دیتا ہے اور براہِ راست وہی پیغام پہنچاتا ہے جس پر مدھو اور ان کے شارحین جے تیرتھ وغیرہ اکثر زور دیتے ہیں: یعنی ایشور (لامحدود) کی منفرد برتری اور اس کے ساتھ ساتھ روحوں اور مادے (محدود) کی محتاج حقیقت۔ شرما کہتے ہیں کہ اترادی مٹھ کے "ستیادھیان تیرتھ" نے اس اصطلاح کی منظوری دی تھی۔ یہ دیگر ویدانتی نظاموں جیسے "نرویشیش ادویت"، "شدھ ادویت" اور "وششٹ ادویت" کے ساتھ اصطلاحی توازن بھی برقرار رکھے گی۔[7]
اصطلاح "ادَّوتیاتو" کا حوالہ دیتے ہوئے شرما لکھتے ہیں کہ مدھو نے اپنی "چھاندوگیہ بھاشیہ" میں اس کی تشریح برہم کے "ہمسر اور برتر کی عدم موجودگی" کے طور پر کی ہے۔ یہ تشریح ضمناً ایشور کی حاکمیت کے ماتحت "کم تر حقائق"، یعنی انفرادی روحوں اور مادوں کے وجود کی تصدیق کرتی ہے۔ شرما مزید کہتے ہیں کہ "نیہ ناناستی کِنچنا" (नेह नानास्ति किंचना) جیسی آیات کو برہم میں کچھ داخلی امتیازات کی نفی کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ برہم میں منطقی طور پر جو واحد داخلی امتیازات تصور کیے جا سکتے ہیں، وہ صفات کے ہیں۔ اس طرح لفظ "سوتنتر" دیگر حقائق پر برتر (ایشور) کی ماورائیت اور ان میں اس کی ہمہ گیریت پر زور دینے کے لیے استعمال ہوگا اور یہ ظاہر کرے گا کہ یہاں برہم کا تصور شنکر آچاریہ کے "نرویشیش ادویت" سے کیسے مختلف ہے۔ یہ مدھو کے افکار کے "پرا سدھانت" (اعلیٰ اصول) کے طور پر برتر ہستی کی اولیت پر براہِ راست زور دے گا اور محدود حقائق کی تعلیمات کو ان کے صحیح مقام یعنی "اپر سدھانت" (ثانوی حقائق) کے طور پر واضح کرے گا۔[7]
پورن برہم واد
[ترمیم]الورو وینکٹ راؤ کی رائے ہے کہ اصطلاح "دویت" مدھو کے فلسفے کے لیے موزوں نہیں ہے، اس لیے اسے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔[9] اس کی بجائے وہ "پورن برہم واد" کی اصطلاح استعمال کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔[10]
فلسفہ
[ترمیم]| سلسلہ مضامین |
| ویشنومت |
|---|
|
|
دویت ویدانت دراصل وید کی وہ دوئی پسندانہ تشریح ہے جسے تیرھویں صدی کے عظیم ہندوستانی فلسفی اور سنت مدھو اچاریہ نے ایک مربوط نظام کی شکل دی۔ اس فلسفے کی بنیاد دو جداگانہ حقیقتوں کے وجود پر ہے۔ پہلی اور واحد خود مختار حقیقت ("سوتنتر تتو") وشنو کی ذات ہے، جو حقیقتِ مطلق (برہم) اور خالقِ برتر ہے۔[11] وشنو ہی وہ "ذاتِ اعلیٰ" ہے جس کا تصور دیگر بڑے مذاہب کے خدائے واحد سے مماثلت رکھتا ہے۔[12] انھیں قادرِ مطلق، ازلی،[13] لافانی، ہمہ دان اور سراپا شفقت تسلیم کیا جاتا ہے۔[14] دوسری حقیقت اس کائنات کی ہے جو ایشور پر منحصر ("اسوتنتر تتو" یا "پرتنتر") ہونے کے باوجود اپنی جگہ حقیقت ہے اور جداگانہ جوہر رکھتی ہے۔ وہ تمام موجودات جو اس دوسری حقیقت سے عبارت ہیں، مثلاً انفرادی روحیں اور مادہ وغیرہ، وہ اپنی جگہ ایک مستقل اور الگ وجود رکھتے ہیں۔ وحدت پسندانہ ادویت کے برعکس اس نظامِ فکر کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ یہاں ایشور ایک "شخصی وجود" کے طور پر جلوہ گر ہوتا ہے؛ وہ ایک ایسی ابدی اور جیتی جاگتی حقیقت ہے جو کائنات کے ذرے ذرے پر محیط ہے اور اس کا نظام چلاتی ہے۔[15]
رامانج کی طرح مدھو اچاریہ کے نزدیک بھی وشنو ہی وہ واحد خود مختار اور برتر اصول ہے۔ تاہم یہ تصور محض فرقہ وارانہ نہیں ہے؛ مدھو کے نزدیک "نارائن" اور "وشنو" جیسے نام جب لغوی طور پر اخذ کیے جاتے ہیں تو ان سے مراد وہ ہستی لی جاتی ہے جو ماورائی ہو، کائنات میں جاری و ساری ہو، لامحدود مبارک صفات کا منبع ہو اور سراپا سرور ہو۔ مدھو اچاریہ ایشور کو شخصی اور "سگن" (صفات کا حامل) قرار دیتے ہیں، یعنی وہ ایسی خوبیوں سے متصف ہے جو (انسانی لفظوں میں) اس کی عظمت کا احاطہ تو نہیں کر سکتیں مگر اس کے وجود کا خاصہ ہیں۔[16] ان کے نزدیک وید میں "برہم" کا مابعد الطبیعیاتی تصور وشنو کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا قول ہے کہ لفظ "برہم" صرف اور صرف وشنو کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ ان تمام صحائف کو غیر مستند قرار دیتے ہیں جو اس نظریہ کے مخالف ہیں۔[17] مدھو اچاریہ کے ہاں وشنو محض کوئی عام دیوتا نہیں بلکہ یکا و تنہا وجودِ برتر ہے۔[18][2] ان کے مطابق دیگر دیوتا دراصل فوت شدہ نیک ارواح ہیں جنھیں ان کے حسنِ عمل کے صلے میں عالم بالا میں دوبارہ جنم دے کر ایشور کی مشیت پوری کرنے پر مامور کیا گیا ہے؛[19] یہی مقام وایو اور لکشمی کا بھی ہے۔[20] وہ دیوتاؤں کو بھی فانی تسلیم کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ان میں سے بعض موت کے بعد وجود کی نچلی سطح تک بھی آسکتے ہیں۔[19] چنانچہ ان کا ایقان ہے کہ دیوتاؤں کے واسطے سے صرف ایشور (وشنو) کی ہی پرستش ہونی چاہیے اور دیوتاؤں کو محض ان کی اپنی حیثیت میں پوجنا ایک ایسی "کج روی" ہے جو تریتا یگ میں پیدا ہوئی جبکہ ست یگ اس سے پاک تھا۔[21] یہی ضابطہ ان کے نزدیک "مورتیوں" کے معاملے میں بھی کارفرما ہونا چاہیے۔[22]
حقائق کی نوعیت
یہ نظامِ فکر حقائق کو دو بڑی اصناف میں تقسیم کرتا ہے: "خود مختار حقیقت" اور "منحصر حقیقت"۔ خود مختار حقیقت صرف ایک ہے اور وہ وشنو ہے۔ منحصر حقیقت میں باقی تمام کائنات شامل ہے، جس میں جیو (روحیں)، جڑ (مادہ) اور "ابھاؤ پدارتھ" (عدمی اشیا) شامل ہیں۔
برہم کا تصور
برہم وشنو ہی ہے؛ وہ برتر ہے، تمام پاکیزہ صفات کا مسکن ہے، ہر عیب سے مبرا ہے اور ہر لحاظ سے لامحدود ہے۔ یہاں برہم کی سگن اور نرگن میں کوئی تقسیم نہیں؛ "نرگن" کا مطلب محض یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے نقائص سے پاک ہے اور یہ پاکیزگی بذاتِ خود اس خدائے برتر کی ایک صفت (گُن) ہے۔
جیو (روحیں)
[ترمیم]جیو ابدی ہیں اور تعداد میں لامحدود۔ چنانچہ جیو کے لیے تخلیق کا مفہوم محض "وشیش" کا حصول ہے، یعنی پے در پے جنموں کے عمل میں نئے اجسام کا جامہ پہننا۔
انفرادی روحوں ("جیو") کو الٰہی ہستی کے عکس، شبیہ یا سائے سے تعبیر کیا جاتا ہے (بمب-پرتِبمب)، لیکن وہ کسی بھی صورت میں (یہاں تک کہ "موکش" یا نجات کے بعد بھی) ایشور کی ہمسر ہو سکتیں۔ ایشور کا پرتو ہونے کے ناطے ہر جیو کی جبلت میں الٰہی صفات (سچائی، شعور اور سرور) کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہوتا ہے، جو بندھن کی حالت میں "کرم" کے پردوں میں چھپا رہتا ہے اور نجات پانے پر اپنی پوری انفرادی شان کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ نجات یافتہ جیو نہ تو برہم کی برابری کر سکتے ہیں اور نہ وہ آپس میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔[23] جیو اپنی نوعیت میں ایک دوسرے سے جدا ہیں اور ان کی اپنی ایک فطری جبلت ہوتی ہے جو انھیں خیر یا شر کے کاموں پر اکساتی ہے۔
جڑ (مادہ)
جڑ سے مراد وہ دوسری منحصر حقیقت ہے جو تخلیق اور فنا کے دائمی چکر کے تابع ہے۔
دویت مکتبِ فکر میں پانچ بنیادی اور ابدی امتیازات بیان کیے گئے ہیں:[11][2][24]
- انفرادی روحوں (جیواتما) اور ایشور (پرماتما یا وشنو) کے درمیان فرق۔
- مادے (بے جان کائنات) اور ایشور کے درمیان فرق۔
- خود انفرادی روحوں (جیواتما) کا ایک دوسرے سے امتیاز۔
- مادے اور روح (جیواتما) کے درمیان فرق۔
- مادے کی مختلف اقسام اور شکلوں کے درمیان باہمی امتیاز۔
ان "پانچ امتیازات" کے نظریے کا لبِ لباب یہ ہے کہ "جیو کائنات کی ہر دوسری شے، حتیٰ کہ تمام دیگر جیو سے بھی بالکل مختلف اور جدا ہے"۔[23] یہ خیال ہے کہ پانچ امتیازات ہی کائنات کی اصل حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔ اسی مناسبت سے دویت مکتب میں دنیا کو "پرپنچ" کہا جاتا ہے (جس میں "پنچ" سے مراد پانچ ہے)۔
مدھو ابدی "جہنم" کے تصور کی وجہ سے روایتی ہندو عقائد سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک روحوں کی تین اقسام ہیں: پہلی "مکتی یوگیہ" جو نجات کی اہل ہیں، دوسری "نتیا سنساری" جو ابدی تناسخ یا آواگون کے چکر میں رہیں گی اور تیسری "تمو یوگیہ" جن کا مقدر ابدی دوزخ ("اندھتامِسر") کی سزا ہے۔[23]
موکش (نجات)
[ترمیم]"موکش" یا نجات اس حقیقت کے ادراک کا نام ہے کہ تمام محدود حقیقتیں اپنے وجود کے لیے اس برتر ہستی (ایشور) کی محتاج ہیں۔[11] عقیدہ ہے کہ ایشر نے مختلف "اوتار" کے روپ میں جلوہ گر ہو کر خود نجات کا راستہ دکھایا۔[13] بھکتی یوگ دویت ویدانت کا ستونِ اعظم ہے۔ ایشور کی بے لوث عقیدت اور اس کے فضلِ خاص ہی سے جیو کو موکش نصیب ہوتا ہے۔ نجات دراصل روح کے اس داخلی سرور کے بیدار ہونے کا نام ہے جو جہالت اور دنیاوی بندھنوں کے دبیز پردوں تلے دبا ہوا تھا۔ اگرچہ فضلِ الٰہی شرطِ اول ہے، مگر نجات "گیان" (علم) کے بغیر ممکن نہیں (جیسا کہ شری مدھو اچاریہ نے انوبھاشیہ میں لکھا تھا)۔ تاہم یہاں "گیان" کا تصور دیگر مکاتبِ فکر سے جداگانہ ہے؛ اس سے مراد وہ براہِ راست مشاہدہ اور باطنی بصیرت ("اپروکش گیان") ہے جو صحائف کے مطالعہ، راست باز زندگی اور رب کی صفاتِ عالیہ کے مکمل فہم کے ساتھ اس کی والہانہ عقیدت سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس بد اعمالی ایشور کی ناراضی اور سزا کا باعث بنتی ہے۔[15]
سادھنا اور نجات کا سفر
مدھو اچاریہ فرماتے ہیں کہ جیو "مایا" کی پیدا کردہ جہالت ("اودیا") کے سبب اپنی اصل حقیقت سے بے خبر رہتا ہے اور اسی لیے اپنی فطری صفات کو پہچاننے سے قاصر ہے۔[23] بعض روحیں پہلے سے نجات کے لیے منتخب ہوتی ہیں، جبکہ بعض کا مقدر ابدی کلفت ہے۔[25] اگرچہ یہ تصور بظاہر گراں گزرتا ہے، مگر یہ دراصل جیو کی اپنی فطری جبلت اور "سوبھاؤ" کی تین گنا تقسیم کا منطقی نتیجہ ہے۔
ہر جیو کے لیے نجات کا مفہوم مایا کا حجاب ہٹنے کے بعد اپنے ازلی سرور کو پا لینا ہے۔ یہ منزل صرف ایشور کے فضل اور جیو کی اپنی مخلصانہ کوشش سے طے ہوتی ہے۔ "ویراگیہ" (دنیا سے بے رغبتی) کی مشق سے نجات کے طالب جیو دنیاوی علائق سے آزاد ہو کر ایشور پر ایقان کامل حاصل کرتے ہیں۔ وہ تگ و دو جو روح کو نجات کا مستحق بناتی ہے، اس میں حسنِ عمل (کرم)، علم (گیان یوگ) اور والہانہ عقیدت (بھکتی یوگ) شامل ہیں۔ ایک "سادھک" اس منزل کو "شرون" (سماع)، "مَنَن" (غور و فکر) اور "ندیدھیاسن" (گہرا مراقبہ) کے ذریعے پاتا ہے۔ مدھو نے صحائف کے اسرار و رموز سمجھنے کے لیے "گرو" کی رہنمائی اور اس کے فیض کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک سماع اور فکر ہی مراقبے کے حقیقی ذرائع ہیں۔ یہ ریاضت سادھک کو "اپروکش گیان" (روحانی مشاہدہ) تک پہنچاتی ہے اور بالآخر ایشور کے فضل سے وہ نجات کی دہلیز پار کر لیتا ہے۔[23]
چنانچہ نجات کی راہ ان مراحل سے عبارت ہے: گیان، بھکتی اور از سر نو گیان و بھکتی۔
- راست باز اور پاکیزہ زندگی۔
- شاستروں کا عمیق مطالعہ، ایشور کا بالواسطہ علم اور اس کی لامحدود صفات اور کائنات پر اس کے احسانات پر غور و تدبر۔
- ایشور کی محبت میں ڈوب جانا (پروکش گیان اور بھکتی)۔
- ایشور کی براہِ راست معرفت (اپروکش گیان) جو انسان کے کرموں کے جال کو کاٹ دیتا ہے۔
- یہ ریاضت (سادھنا) جاری رہتی ہے یہاں تک کہ وقتِ آخر تمام مادی غلافوں اور "لنگ دیہ" (لطیف جسم) سے پیچھا چھڑا کر روح "ویکنٹھ" کی ابدی وسعتوں میں داخل ہو جاتی ہے۔
دیگر روایات کے ساتھ تعلق
[ترمیم]ادویت
[ترمیم]دویت مکتبِ فکر کے فلاسفہ ادویت ویدانت کے اس نظریے کو چیلنج کرتے ہیں کہ "اودیا" (جہالت) ایک واحد اور غیر متغیر حقیقت (برہم) میں کثرت کے ظہور کی وضاحت کرتی ہے۔ مدھو اس حوالے سے متعدد مدلل جوابی دلائل پیش کرتے ہیں:[26]
- اگر کائنات اور جہالت دونوں ہی برہم سے وابستہ محض "سراب" یا وہم ہیں، تو پھر نجات کا حصول کیسے ممکن ہے؟[26]
- برہم اور اس کائنات کے درمیان ایسی کوئی مماثلت موجود نہیں ہے جو اس طرح کے وہم یا سراب کا جواز پیش کر سکے۔[26]
- اگر انفرادی شناخت ایک غلط فہمی ہے، لیکن افراد جہالت کا شکار ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ جہالت برہم سے بھی منسوب ہونی چاہیے۔ اور اگر جہالت برہم کا حصہ ہے اور برہم ایک ابدی حقیقت ہے تو جہالت بھی حقیقت ٹھہری؛ یہ بات ادویت فلسفے کے نجات سے متعلق بنیادی مقصد ہی کی نفی کر دیتی ہے۔[26]
اثرات
[ترمیم]- سباپتی کولندرن اور ہینڈرک کریمر رقم طراز ہیں کہ ہندو مت میں دویت ویدانت اور مدھو اچاریہ کے تاریخی اثرات مفید تو رہے مگر ان کا دائرہ بہت زیادہ ہمہ گیر یا وسیع نہیں تھا۔[27]
- شرما کے مطابق، دویت ویدانت کے افکار کے سب سے گہرے اثرات بنگال کے شری چیتنیہ مکتبِ فکر [28] اور آسام کی روایات پر مرتب ہوئے ہیں۔[29]
- مدھو کی الہیات نے بعد میں آنے والے مفکرین، مثلاً نمبارک، ولبھ اور چیتنیا مہاپربھو کو بے حد متاثر کیا۔ بی این کے شرما اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ نمبارک کی الہیات اپنے انتہائی جوہر اور بنیادی پہلوؤں میں مدھو کے افکار ہی کا ایک "تجدیدی نمونہ" معلوم ہوتی ہے۔[30]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب Jeaneane D. Fowler (2002ء)۔ Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism۔ Sussex Academic Press۔ ص 340–343۔ ISBN:978-1-898723-94-3
- ^ ا ب پ Valerie Stoker (2011ء)۔ "Madhva (1238-1317)"۔ Internet Encyclopedia of Philosophy۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-02-29
- ↑ Jeaneane D. Fowler (2002ء)۔ Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism۔ Sussex Academic Press۔ ص 238–243, 288–293, 340–343۔ ISBN:978-1-898723-94-3
- ↑ James Lochtefeld (2002), The Illustrated Encyclopedia of Hinduism, Volume 1 & 2, Rosen Publishing, ISBN 0-8239-2287-1, pages 12-13, 213-214, 758-759
- ↑ Sharma 2000, p. 525
- ^ ا ب Sir Monier Monier-Williams, Dvaita, A Sanskrit-English Dictionary: Etymologically and Philologically Arranged with Special Reference to Cognate Indo-European Languages, اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس (Reprinted: Motilal Banarsidass), ISBN 978-8120831056, page 507.
- ^ ا ب پ Sharma 2000, p. 5
- ↑ Chang 1991, p. 36
- ↑ Shivnarayan Joshi Shivji (1 جنوری 1992ء)۔ A Critique of Indian Dualism۔ Scientific Publishers۔ ISBN:9788172330224۔
Alur Venkat Rao opines that the term Dvaita is not suitable for Madhva's philosophy, hence it should not be used.
- ↑ Chen-chi Chang (1991ء)۔ A Treasury of Mahāyāna Sūtras: Selections from the Mahāratnakūṭa Sūtra۔ Motilal Banarsidass۔ ص 36۔ ISBN:978-8120809369۔
Alur Venkatarao of Dharwar gave Madhva's philosophy the name "Pūrnabrahmavāda".
- ^ ا ب پ Fowler 2002, pp. 340-344
- ↑ Michael Myers (2000), Brahman: A Comparative Theology, Routledge, ISBN 978-0700712571, pages 124-127
- ^ ا ب Helmuth von Glasenapp: Madhva's Philosophie des Vishnu-Glaubens, Geistesströmungen des Ostens vol. 2, Bonn 1923, Einleitung (p. *1-2).
- ↑ Glasenapp: Madhva's Philosophie des Vishnu-Glaubens, p. 32.
- ^ ا ب Etter 2006, pp. 59-60
- ↑ Glasenapp: Madhva's Philosophie des Vishnu-Glaubens, p. 30–31.
- ↑ Glasenapp: Madhva's Philosophie des Vishnu-Glaubens, p. 28–29.
- ↑ Edwin Bryant (2007)۔ Krishna : A Sourcebook (Chapter 15 by Deepak Sarma)۔ Oxford University Press۔ ص 358۔ ISBN:978-0195148923
- ^ ا ب Glasenapp: Madhva's Philosophie des Vishnu-Glaubens, p. 67–68.
- ↑ Glasenapp: Madhva's Philosophie des Vishnu-Glaubens, p. 75.
- ↑ Glasenapp: Madhva's Philosophie des Vishnu-Glaubens, p. 71.
- ↑ Glasenapp: Madhva's Philosophie des Vishnu-Glaubens, p. 85.
- ^ ا ب پ ت ٹ Tapasyananda, Swami. Bhakti Schools of Vedanta pg. 173-187.
- ↑ James Lochtefeld (2002), Madhva, The Illustrated Encyclopedia of Hinduism, Vol. 1: A–M, Rosen Publishing. ISBN 978-0823931798, page 396
- ↑ Note Sarma (2003ء)۔ An introduction to Mādhva Vedānta۔ Ashgate world philosophies series۔ Aldershot: Ashgate۔ ص 56۔ ISBN:978-0-7546-0637-6
- ^ ا ب پ ت C. J. Bartley (2011ء)۔ An introduction to Indian philosophy۔ London; New York: Continuum۔ ص 191–192۔ ISBN:978-1-84706-448-6
- ↑ Sabapathy Kulandran and Hendrik Kraemer (2004ء), Grace in Christianity and Hinduism, James Clarke, ISBN 978-0227172360, pages 177-179
- ↑ Sharma 1962, pp. 22-23
- ↑ Sharma 2000, pp. xxxii-xxxiii, 514-516
- ↑ Sharma 2000, p. 453
مآخذ
[ترمیم]- Christopher Etter (2006ء)۔ A Study of Qualitative Non-Pluralism۔ iUniverse۔ ISBN:978-0-595-39312-1
- Jeaneane D. Fowler (2002ء)۔ Perspectives of Reality: An Introduction to the Philosophy of Hinduism۔ Sussex Academic Press۔ ISBN:978-1-898723-93-6
- B. N. Krishnamurti Sharma (1962ء)۔ Philosophy of Śrī Madhvācārya۔ Motilal Banarsidass (2014 Reprint)۔ ISBN:978-8120800687
- B. N. Krishnamurti Sharma (2000ء)۔ A History of the Dvaita School of Vedānta and Its Literature, 3rd Edition۔ Motilal Banarsidass (2008 Reprint)۔ ISBN:978-8120815759
- Chen-chi Chang (1991ء)، A Treasury of Mahāyāna Sūtras: Selections from the Mahāratnakūṭa Sūtra، Motilal Banarsidass Publ.، ISBN:9788120809369