دھاتی آمیزوں کا پگھلنا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پیتل کا چھکہ۔ دائیں طرف تانبے اور زنک کے ٹکڑے ہیں جن کو ملانے سے پیتل بنتا ہے۔

دھاتی آمیزوں کو بھرت کہتے ہیں جن میں دو یا زیادہ دھاتیں مل کر "ٹھوس محلول" بناتی ہیں جیسے

  • سولڈر (solder) میں سیسہ اور قلعئی (Tin) موجود ہوتی ہے۔
  • پیتل (brass) تانبے اور جست (Zinc) کے ملنے سے بنتا ہے۔
  • کانسی (bronze) تانبے اور قلعئی کے ملنے سے بنتی ہے۔

پارے کے دھاتی آمیزوں کو املغم کہتے ہیں۔ پارے اور تھیلیئم کا آمیزہ ٹھوس کی بجائے مائع ہوتا ہے۔
خالص دھات ایک ہی مخصوس درجہ حرارت پر پگھلتی ہے یعنی جس درجہ حرارت پر پگھلنا شروع ہوتا ہے اسی درجہ حرارت پر دھات مکمل طور پر پگھل جاتی ہے۔ مگر دھاتی آمیزے کا پگھلنا جس درجہ حرارت پر شروع ہوتا ہے اس سے کچھ زیادہ درجہ حرارت پر ختم ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اکثر دھاتی آمیزے ایک مخصوص درجہ حرارت کی بجائے درجہ حرارت کی ایک رینج میں پگھلتے ہیں۔

ایوٹیکٹک مکسچر[ترمیم]

سولڈر میں موجود سیسہ اور قلعئی کے پگھلنے جمنے کی فیز ڈایا گرام۔

ایوٹیکٹک (eutectic) آمیزوں سے مراد ایسے آمیزے ہوتے ہیں جو کم درجہ حرارت پر پگھل جائیں۔ مثال کے طور پر سیسہ327 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھلتا ہے جبکہ قلعئی 232ڈگری پر۔ لیکن 63 فیصد قلعئی اور 37 فیصد سیسے کو ملانے سے جو سولڈر بنتا ہے وہ صرف 183 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتا ہے۔ خالص دھات کی طرح ایسا سولڈر بھی جس درجہ حرارت پر پگھلنا شروع کرتا ہے اسی پر مکمل بھی کرتا ہے۔ یعنی اسے پگھلنے اور جمنے کے لیے درجہ حرارت کی ایک رینج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے الیکٹریشیئن ایسے سولڈر کو بجلی کے تاروں کو ٹانکہ لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس کے برعکس پلمبر جو سولڈر استعمال کرتے ہیں اس میں قلعئی 67 فیصد اور سیسہ 33 فیصد ہوتا ہے۔ ایسا پگھلا ہوا سولڈر جس درجہ حرارت پر جمنا شروع کرتا ہے اس سے کمتر درجہ حرارت پر جمنا مکمل کرتا ہے۔ یعنی اسے جمنے میں زیادہ وقت لگتا ہے جس دوران پلمبر کو کام مکمل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اپنے پگھلنے جمنے کی رینج کے درمیان ایسا سولڈر ایک گاڑھے پیسٹ کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور مشکل سے بہتا ہے۔
ایوٹیکٹک آمیزے گاڑھا پیسٹ نہیں بناتے۔ وہ یا تو سخت ہوتے ہیں یا پگھلنے کے بعد پارے کی طرح بن جاتے ہیں اور بڑی آسانی سے بہتے ہیں۔
ساری دھاتیں ایوٹیکٹک آمیزے نہیں بناتیں مثال کے طور پر سونے اور چاندی کو کسی بھی تناسب میں ملانے سے ایوٹیکٹک آمیزہ نہیں بنتا۔
بسمتھ 44.7%، سیسہ 22.6%، انڈیئم 19.1%، کیڈمیئم 5.3% اور قلعئی 8.3 % ملانے سے جو ایوٹیکٹک دھات بنتی ہے وہ صرف 47 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتی ہے۔ یعنی اس دھات سے بنایا ہوا چمچہ گرم چائے میں پگھل جائے گا۔ یہ دھات Cerrolow 117 کہلاتی ہے۔ ایسی ہی ایک اور دھات Wood's metal کہلاتی ہے اور 71 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتی ہے۔ پارہ، تھیلیئم، کیڈمیئم اور سیسہ زہریلی دھاتیں ہیں۔
فیلڈز میٹل 62 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتی ہے اور اس میں کوئی زہریلے اجزا بھی نہیں ہوتے۔

کم ترین نقطہ پگھلاو کی دھات[ترمیم]

وہ دھاتی عنصر جو کم ترین درجہ حرارت پر پگھل جاتا ہے وہ پارہ ہے جو منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتا ہے۔ لیکن وہ دھاتی آمیزہ جو دنیا میں کم ترین نقطہ پگھلاو رکھتا ہے اس میں پارہ بالکل شامل نہیں ہے۔
بلحاظ وزن سیزیئم 73.7%، پوٹاشیئم 22.14% اورسوڈیئم 4.16% کو ملانے سے جو دھاتی آمیزہ بنتا ہے وہ محض منفی 78 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتا ہے۔

بھرت نقطہ پگھلاو ایوٹیکٹک؟ بسمُتھ سیسہ قلعی انڈیئم کیڈمیئم تھیلیئم گیلیئم اینٹیمنی
Rose's metal 98 °C (208 °F) نہیں 50% 25% 25%
Cerrosafe 74 °C (165 °F) نہیں 42.5% 37.7% 11.3% 8.5%
Wood's metal 70 °C (158 °F) ہاں 50% 26.7% 13.3% 10%
Field's metal 62 °C (144 °F) ہاں 32.5% 16.5% 51%
Cerrolow 136 58 °C (136 °F) ہاں 49% 18% 12% 21%
Cerrolow 117 47.2 °C (117 °F) ہاں 44.7% 22.6% 8.3% 19.1% 5.3%
Bi-Pb-Sn-Cd-In-Tl 41.5 °C (107 °F) ہاں 40.3% 22.2% 10.7% 17.7% 8.1% 1.1%
Galinstan −19 °C (−2 °F) ہاں <1.5% 9.5-10.5% 21-22% 68-69% <1.5%

مزید دیکھیے[ترمیم]

یو ٹیوب پر ویڈیو[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]