دھاتی خصوصیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دھاتی خصوصیات (Metallic properties) سے مراد چند وہ خصوصیات ہیں جو کسی عنصر (element) کو دھات ( metal) کا درجہ دیتی ہیں۔ جن عناصر میں یہ خصوصیات نہیں ہوتیں وہ غیر دھاتی عناصر (nonmetals) کہلاتے ہیں۔ دوری جدول (periodic table) میں دھاتوں اور غیر دھاتوں کے درمیان ایک تنگ پٹی میں چند دھات نما (metalloid) عناصر ہوتے ہیں جن میں دھاتوں کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں اور کچھ نہیں ہوتیں۔

Periodic table color-coded to show metals, metalloids, and nonmetals.
دوری جدول کے بائیں حصے میں دھاتیں ہیں اور دائیں حصے میں غیر دھاتیں ہیں۔ درمیان میں دھات نما عناصر ہیں۔
  دھاتیں
  دھات نما
  غیر دھاتیں
خالص ٹائیٹینیئم کی سلاخ جس پر قلمیں واضح ہیں۔
99.97 اور 99.9999 فیصد خالص لوہا (چوکور مکعب)۔ اتنا خالص لوہا صرف تجربہ گاہ میں استعمال ہوتا ہے۔
  • ساری دھاتیں زنگ یا آکسائیڈ کی غیر موجودگی میں چمکدار ہوتی ہیں ،ان میں سے بجلی اور حرارت آسانی سے گزر سکتی ہے اور یہ عموماً مضبوط، سخت اور بھاری ہوتی ہیں اور وزن اور ہتھوڑے کی چوٹ برداشت کر لیتی ہیں۔ ان کے آکسائیڈ اساسی (القلی نما) ہوتے ہیں۔ ساری دھاتیں کمرے کے درجہ حرارت پر ٹھوس ہوتی ہیں سوائے پارہ اورسیزیئم کے۔ گیلیئم صرف 30 ڈگری سنٹی گریڈ پر پگھل جاتا ہے یعنی ہتھیلی پہ رکھا جائے تو ہاتھ کی گرمی سے پگھل جاتا ہے۔ لوہا، تانبا، نکل اور کرومیئم دھاتوں کی مثالیں ہیں۔
  • ساری غیر دھاتیں غیر چمکدار ہوتی ہیں۔ اگر یہ ٹھوس ہوں تو ہتھوڑے سے چوٹ مارنے پر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے بجلی اور گرمی آسانی سے نہیں گزر سکتی۔ ان کے آکسائیڈ تیزابی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر گندھک۔ اکثر غیر دھاتیں گیس کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ جیسے آکسیجن، نائٹروجن، نوبل گیسیں وغیرہ۔ صرف ایک غیر دھات مائع حالت میں ہوتی ہے جو برومین ہے۔
  • سارے دھات نما (metaloid) عناصر دیکھنے میں تو دھاتوں کی طرح چمکدار ٹھوس ہوتے ہیں مگرزیادہ وزن اور ہتھوڑے کی مار برداشت نہیں کر سکتے اور چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بجلی اور حرارت دھات کے مقابلے میں کم لیکن غیر دھات کے مقابلے میں زیادہ گزر سکتی ہے۔ یہ الیکٹرونک انڈسٹری میں سیمی کنڈکٹرز بنانے میں بہت استعمال ہوتے ہیں۔ بورون، سلیکون، جرمینیئم، آرسینک، اینٹیمنی اور ٹیلوریئم کو دھات نما عناصر کہا جاتا ہے۔

مضبوطی (strength)[ترمیم]

وزن سہارنے کی صلاحیت۔ مضبوط اشیا پر وزن ڈالنے سے ان کی شکل میں کوئی مستقل بگاڑ نہیں آتا۔

کھینچاو (tensile strength)[ترمیم]

کسی مادے پر لگنے والی مختلف قوتیں۔

اگر ایک دھاتی رسی یا سلاخ سے وزن لٹکایا جائے تودھاتی رسی یا سلاخ کی لمبائی تھوڑی سی بڑھ جاتی ہے۔ وزن ہٹاتے ہی وہ دوبارہ سکڑ کر اپنی اصل لمبائی پر آ جاتی ہے۔ دھاتوں کی کھنچاو یا تناو (Tension) برداشت کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
سیمنٹ سے بنی اشیاء بہت وزن اٹھا سکتی ہیں مگر کھینچاو برداشت نہیں کر سکتیں۔ وزن اٹھانے کے لیے سمنٹ کی مضبوطی 2000psi ہوتی ہے لیکن کھینچاو کی صلاحیت صرف 400psi ہوتی ہے۔ یعنی سمنٹ سے اونچے ستون (column) تو بنائے جا سکتے ہیں مگرلمبے شہتیر (beam) نہیں بنائے جا سکتے۔ اس کے برعکس کاربن اسٹیل کی کھینچاو کی صلاحیت 56,000psi ہوتی ہے۔ اس لیے اگر بغیر لوہے کے سریہ (rebar) کے بیم (beam) بنائے جائیں تو وہ اپنے ہی وزن سے ٹوٹ سکتے ہیں۔ لیکن جب لوہے کے سریے ڈال کر بیم بنائے جاتے ہیں تو سریے سارا کھینچاو برداشت کر لیتے ہیں اور مزید وزن ڈالنے پر بھی بیم کو ٹوٹنے نہیں دیتے۔

سختی (hardness)[ترمیم]

سخت اشیاء پر رگڑ سے خراش ڈالنا بہت مشکل ہوتا ہے جیسے لوہا اور شیشہ۔ مگر سیسہ ایک ایسی نرم دھات ہے جس پر نوک دار لکڑی سے بھی خراش لگائی جا سکتی ہے۔
جن اشیاء پر خراش ڈالنا مشکل ہوتا ہے انہیں چاقو سے کاٹنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ چاقو یا قینچی سے سیسے کی چادر کو کاٹا جا سکتا ہے۔
شیشہ سخت ہوتا ہے مگر انتہائی پھوٹک ہوتا ہے۔ لوہا سخت ہوتا ہے اور انتہائی غیر پھوٹک ہوتا ہے
ہیرے کا شمار دنیا کی سخت ترین اشیاء میں ہوتا ہے لیکن ہتھوڑے کی چوٹ سے ہیرا بھی ٹوٹ جاتا ہے۔[1]
خالص لوہا کافی نرم ہوتا ہے۔ لیکن صرف 0.3 فیصد کاربن کی ملاوٹ سے اس میں کافی سختی ا جاتی ہے۔ عام استعمال کے لوہے (اسٹیل) میں کاربن کی مقدار 0.3 سے 1.2فیصد تک ہوتی ہے۔ دو فیصد سے زیادہ کاربن لوہے کو بھی پھوٹک بنا دیتا ہے۔
heat treatment سے بھی لوہے کی سختی تبدیل کی جا سکتی ہے۔

غیر پھوٹک (toughness)[ترمیم]

اکثر دھاتوں میں چوٹ برداشت کرنے کی بڑی صلاحیت ہوتی ہے۔ ایسی دھاتوں کو جب ہتھوڑے سے چوٹ لگائی جاتی ہے تو ان کی شکل میں بگاڑ تو آتا ہے لیکن فوراً ہی خودبخود درست بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس پھوٹک اشیاء چوٹ لگنے سے ٹوٹ جاتی ہیں۔
جو دھاتیں مضبوطی بھی رکھتی ہیں اور پلاسٹیسیٹی بھی وہ غیر پھوٹک ہوتی ہیں۔

لچک (elasticiy)[ترمیم]

وزن ڈالنے سے دھات کی شکل میں معمولی سا بگاڑ آتا ہے۔ لچک سے مراد دھاتوں کی وہ صلاحیت ہے جس کے باعث وہ بوجھ ہٹتے ہی دوبارہ اپنی اصل شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

گاڑیوں کی کمانی دار اسپرنگ اپنی لچک کی وجہ سے جھٹکے برداشت کر لیتی ہے۔

پلاسٹیسٹی (plasticity)[ترمیم]

اگر کسی دھات کی شکل میں وزن یا قوت کے تحت مستقل تبدیلی آ جائے تواسے پلاسٹیسٹی کہتے ہیں۔ یہ مضبوطی کا الٹ ہوتی ہے۔
جب لوہے کو گرم سرخ کرتے ہیں تو اس میں پلاسٹیسٹی آ جاتی ہے اور اب ہتھوڑے کی چوٹ سے اس کی شکل تبدیل کر کے مختلف کارآمد اوزار بنائے جا سکتے ہیں۔
پلاسٹک حالت میں جب لوہے کی شکل مستقل طور پر تبدیل کی جاتی ہے تو اس میں کریک (cracks) نہیں آتے۔
پلاسٹیسٹی کا الٹ پھوٹک پن ہے۔ پھوٹک اشیاء کی شکل تبدیل کرنے پر اس میں کریک پڑ جاتے ہیں یا وہ دو ٹکڑے ہو جاتی ہے۔

تار پذیری اور ورق پذیری (Ductility and Malleability)[ترمیم]

جس دھات کے تار بنائے جا سکتے ہیں وہ دھات کھینچاو برداشت کر لیتی ہے اورآسانی سے موڑی جا سکتی ہے۔ ایسا کرنے پر اس میں کریک نہیں پڑتے۔

دھاتی ٹکڑے کو کھینچنے پر ٹوٹنے کے بعد کی شکل
(a) یہ دھات تار پذیر نہیں ہے۔
(b) اس دھات کی تار پذیری درمیانی درجہ کی ہے۔
(c) یہ دھات انتہائی تار پذیر ہے۔

جس دھات کے ورق بنائے جا سکتے ہیں وہ دھات دباو برداشت کر سکتی ہے۔ یعنی ایسی دھات کو ہتھوڑے سے مار مار کر یا رولرز کے درمیان سے گزار کر پتلا کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے پر اس میں کریک نہیں پڑتے۔ پھوٹک اشیاء کبھی ورق پزیر نہیں ہو سکتیں۔[2]
سب سے زیادہ تار پزیر اور ورق پزیر دھات سونا ہے۔ اس کے بعد چاندی کا نمبر آتا ہے۔ سیسے میں تار پذیری بالکل نہیں ہوتی مگر تھوڑی بہت ورق پذیری ہوتی ہے۔
سونے کا ورق اتنا باریک ہوتا ہے کہ اس میں سے ہرے رنگ کی روشنی گزر سکتی ہے۔ صرف ایک اونس سونے سے اتنا باریک تار بنایا جا سکتا ہے جو 50 میل لمبا ہو۔[3]
تانبا ایک بہترین تار پزیر دھات ہے مگر بسمتھ (bismuth) بالکل تار پزیر نہیں ہے۔ اگر تانبے میں صرف 0.005 فیصد بسمتھ موجود ہو تو تانبے کی تارپذیری بہت ہی کم ہو جاتی ہے۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]