مندرجات کا رخ کریں

دھرمیندر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
دھرمیندر
دھرمیندر 2012ء میں
رکن لوک سبھا
عہدہ سنبھالا
13 مئی 2004ء – 16 مئی 2009ء
پیشرورامیشور لال ڈوڈی
جانشینارجن رام میگھوال
حلقہبیکانیر
ذاتی تفصیلات
پیدائشدھرمیندر کیول کرشن دیول
8 دسمبر 1935(1935-12-08)
نسرالی، پنجاب، برطانوی ہند
(موجودہ پنجاب، بھارت)
وفات24 نومبر 2025(2025-11-24) (عمر  89 سال)
ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
شہریتبرطانوی ہندوستانی (1935ء–1947ء)
بھارتی (1947ء–2025ء)
سیاسی جماعتبھارتیہ جنتا پارٹی
شریک حیات
اولاد6؛ (بشمول سنی، بوبی اور ایشا)
مادر علمیرام گڑھیا کالج، پھگواڑہ
پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ
ذریعہ معاش
  • اداکار
  • سیاست دان
اعزازاتپدم بھوشن (2012ء)
دستخط
عرفیت
  • ’ہی مین‘
  • ’گرم دھرم‘

دَھرۡمێنۡدۡرَ کِیۡوَل کِرِشۡن دِیۡوَل (8 دسمبر 1935ء تا 24 نومبر 2025ء) جو دھرمیندر (تلفظ) کے نام سے زبان زدِ خَلائق ہیں، معروف بھارتی اداکار، فلم ساز اور سیاست دان تھے جو زیادہ تر ہندی فلموں میں اپنے کام کے لیے مشہور ہیں۔ دھرمیندر کو بھارتی سنیما کی تاریخ کے عظیم، خوبصورت اور تجارتی لحاظ سے کامیاب ترین فلمی ستاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔[1] 65 سالہ کیریئر میں انھوں نے 300 سے زائد فلموں میں کام کیا اور ہندی سنیما میں سب سے زیادہ ہٹ فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔[2][3]

دھرمیندر نے سنہ 1960ء میں فلم ”دل بھی تیرا ہم بھی تیرے“ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔[4] وہ 1960ء کی دہائی کے وسط میں ”آئی ملن کی بیلا“، ”پھول اور پتھر“ اور ”آئے دن بہار کے“ جیسی فلموں سے مشہور ہوئے اور بعد میں اپنی متعدد فلمی کرداروں کی وجہ سے بالی ووڈ کے ”ہی مین“ کے طور پر زبان زدِ خاص و عام ہو گئے۔[5] 1960ء کی دہائی کے آخر سے 1980ء کی دہائی تک انھوں نے کئی کامیاب فلموں میں کام کیا جن میں ”آنکھیں“، ”شکار“، ”آیا ساون جھوم کے“، ”جیون مرتیو“، ”میرا گاؤں میرا دیش“، ”سیتا اور گیتا“، ”راجہ جانی“، ”جگنو“، ”یادوں کی بارات“، ”دوست“، ”شعلے“، ”پرتگیا“، ”چرس“، ”دھرم ویر“، ”چچا بھتیجا“، ”غلامی“، ”حکومت“، ”آگ ہی آگ“، ”اعلانِ جنگ“ اور ”تہلکہ“ شامل ہیں۔[6][7] ان کی نمایاں کاکردگیوں میں ”اَن پڑھ“، ”بندنی“، ”حقیقت“، ”انوپما“، ”ممتا“، ”مجھلی دیدی“، ”ستیہ کام“، ”نیا زمانہ“، ”سمادھی“، ”ریشم کی ڈوری“، ”چپکے چپکے“، ”دل لگی“، ”دی برننگ ٹرین“، ”غضب“، ”دو دشائیں“ اور ”ہتھیار“ شامل ہیں۔[8][9]

1990ء کی دہائی کے آخر سے وہ کئی کامیاب اور مشہور فلموں میں کرداروں میں جلوہ گر ہوئے جیسے ”پیار کیا تو ڈرنا کیا“، ”لائف ان اے۔۔۔ میٹرو“، ”اپنے“، ”جونی غدار“، ”یملا پگلا دیوانہ“، ”روکی اور رانی کی پریم کہانی“ اور ”تیری باتوں میں ایسا الجھا جیا“۔[10][11][12] سنہ 1997ء میں انھیں بالی ووڈ میں خدمات کے اعتراف میں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ بھارت کی پندرھویں لوک سبھا کے رکن بھی رہے جہاں انھوں نے راجستھان کے حلقے بیکانیر سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بھاجپا) کی نمائندگی کی۔[13]

دھرمیندر کی شادی پرکاش کور اور اداکارہ ہیما مالنی سے ہوئی تھی اور وہ وفات تک دونوں سے رشتہ ازدواج میں بندھے رہے۔

ابتدائی زندگی

[ترمیم]

دھرمیندر کیول کرشن دیول[14] 8 دسمبر 1935ء کو نسرالی، ضلع لدھیانہ، پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[15] ان کے والد کا نام کیول کرشن[14] اور والدہ کا نام سَتْوَنت کور تھا۔[16] انھوں نے پنجابی ہندو جاٹ خاندان میں آنکھ کھولی۔[17][18][19] ان کا آبائی گاؤں ڈانگّوں ہے جو پکھوال تحصیل رائے کوٹ، لُدھیانہ کے قریب واقع ہے۔[20][19]

انھوں نے اپنا ابتدائی بچپن سانیوال گاؤں میں گزارا اور للتوں کلاں، لدھیانہ کے گورنمنٹ سینئر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی جہاں ان کے والد گاؤں کے اسکول ہیڈ ماسٹر تھے۔[21] انھوں نے 1952ء میں پھگواڑہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔[22] ان دنوں پنجاب کے اسکول پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ کے تحت آتے تھے۔

پیشہ ورانہ زندگی

[ترمیم]

1960ء تا 1969ء: ابتدائی سفر اور شہرت کا آغاز

[ترمیم]

دھرمیندر ابتدا میں بغیر کسی واضح راہ کے رخت سفر باندھا اور ممبئی چلے آئے۔ فلم نگری میں جگہ نہ بن سکی تو وہ پنجاب واپس چلے گئے اور ایک ڈِرلِنگ کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی۔ بعد میں فلم فیئر میگزین کے ٹیلنٹ ہنٹ کا اشتہار دیکھ کر انھوں نے دوبارہ اداکاری کی کوشش کی اور اسی مقصد کے لیے واپس ممبئی کر گئے جہاں وہ دوسرے نمبر پر رہے۔ (جیتنے والے سُریش پوری بعد میں منظر سے غائب ہو گئے۔) ابتدائی پہچان کے باوجود انھیں پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا رہا اور اطلاعات کے مطابق وہ ایک بار پھر ممبئی چھوڑنے کا سوچ رہے تھے مگر ابھرتے ہوئے اداکار منوج کمار نے انھیں رکنے پر راضی کیا۔[23] انھوں نے 1960ء میں ارجن ہنگورانی کی رومانی فلمدل بھی تیرا ہم بھی تیرے“ سے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ یہ فلم زیادہ پزیرائی حاصل نہ کر سکی اور نہ باکس آفس پر خاص کارکردگی دکھا سکی۔ 1961ء میں رمیش سہگل کی ”شعلہ اور شبنم“ سے انھیں پہلا تجارتی فائدہ ہوا۔ اس کے بعد ان پڑھ (1962ء) اور بندنی (1963ء) جیسی کامیاب فلمیں آئیں جن میں سے بندنی نے نیشنل فلم ایوارڈ برائے بہترین ہندی فیچر فلم بھی جیتا۔

دھرمیندر کا بڑا بریک تھرو 1964ء میں آیا جب انھوں نے راجندر کمار اور سائرہ بانو کے ساتھ موہن کمار کی فلم ”آئی ملن کی بیلا“ میں کام کیا۔ فلم سپر ہٹ ہوئی اور منفی کردار کے باوجود دھرمیندر کو نمایاں توجہ ملی یہاں تک کہ فلم فیئر اعزاز برائے بہترین معاون اداکار کی نامزدگی بھی ملی۔ اسی سال انھوں نے چیتن آنند کی جنگی ڈراما فلم ”حقیقت“ میں مرکزی کردار ادا کیا جو 1962ء کی چین بھارت جنگ پر مبنی تھی۔ فلم زبردست تنقیدی اور تجارتی کامیابی بنی اور اس کا گیت ”کر چلے ہم فدا“ بے حد مقبول ہوا۔ 1965ء میں رام مہیشوری کی رومانی فلم ”کاجل“ ان کی ایک اور بڑی کامیابی ثابت ہوئی۔ اس میں مینا کماری، راج کمار اور پدمنی بھی اہم کرداروں میں تھے۔ 1966ء میں دھرمیندر اور مینا کماری پھر ایک ساتھ او پی رلہن کی فلم ”پھول اور پتھر“ میں نظر آئے جو اس سال کی سب سے بڑی بلاک بسٹر بنی۔ اس فلم کے لیے دھرمیندر کو پہلی بار بہترین اداکار کی نامزدگی ملی۔ اسی سال ”ممتا“، ”دیور“، ”انوپما“ اور ”آئے دن بہار کے“ جیسی کامیاب فلمیں بھی سامنے آئیں۔ ”انوپما“ میں ان کی کارکردگی کے اعتراف میں انھیں چودھویں نیشنل فلم ایوارڈز میں یادگاری نشان (souvenir) بھی دیا گیا۔ اگلے سال وہ تنقیدی لحاظ سے سراہنے جانے والی مگر تجارتی طور پر غیر کامیاب فلموں ”دلہن ایک رات کی“ (نُتن کے ساتھ) اور ”مَجَھلی دیدی“، ”چندن کا پالنا“ (مینا کماری کے ساتھ) میں نظر آئے۔ 1968ء میں ان کی بڑی کامیابیاں ”شکار“ اور رامانند ساگر کی جاسوسی سنسنی خیزآنکھیں“ تھیں۔ دونوں فلمیں سپر ہٹ ثابت ہوئیں اور ”آنکھیں“ اس سال کی سب سے زیادہ کمانے والی فلم بنی۔ ان کی دیگر کامیاب فلموں میں ”عزت“ (جس میں انھوں نے ڈبل رول کیا) اور ”میرے ہم دم میرے دوست“ شامل تھیں۔ 1969ء میں جب راجیش کھنہ سپر اسٹار بن کر ابھرے اور ان کی فلمیں دھڑا دھڑ ہٹ ہو رہی تھیں، اس دور میں کئی اداکاروں کا کیریئر متاثر ہوا۔ مگر دھرمیندر اور دیو آنند وہ واحد ستارے تھے جن پر اس تبدیلی کا اثر نہیں پڑا۔ 1969ء میں دھرمیندر کی ”آیا ساون جھوم کے“ سپر ہٹ رہی جس کے بعد ”یقین“، ”پیار ہی پیار“ اور ”آدمی اور انسان“ جیسی کامیاب فلمیں آئیں۔ اسی سال رشی کیش مکھرجی کی سماجی ڈراما فلم ”ستیہ کام“ میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا اور شائقین و ناقدین دونوں اسے ان کے کیریئر کی بہترین کارکردگی قرار دیتے ہیں۔ یہ فلم بھی نیشنل فلم ایوارڈ برائے بہترین ہندی فیچر فلم جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

اردو سے شغف

[ترمیم]

اداکاری کے علاوہ اردو زبان اور شاعری سے دھرمیندر کو ہمیشہ شغف رہا۔ ایک بار جب ان سے اردو زبان سے عشق کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ”احسان مند ہوں زبان اردو تیرا/ تری زباں میں بیانِ احساسِ دل آ گیا۔“ شہرت اور فلمی ستارہ بننے پر ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا تھا: ”ہوتی ہے تعریف اہمیت کی، لیکن انسانیت کی قدر ہوتی ہے۔ ترجیح نہ دے عہدے کو انسانیت پر، بندے پر خدا کی تب نظر ہوتی ہے۔“[24]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Abhimanyu Mathur (8 Jan 2025). "Bollywood's most successful actor has 74 hits, more than Shah Rukh, Salman Khan, Amitabh, yet was never called superstar". Hindustan Times (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-01-17.Even though this star had more hits than Amitabh Bachchan and Shah Rukh Khan, he was never called a ‘superstar’ for a rather academic reason. Dharmendra has the distinction of delivering the most hits as an actor in the Hindi film industry. The actor has a record 74 hits to his name in films where he was either the lead or had a substantial role. Dharmendra has appeared in over 240 films. Of these, 94 have been successful (recovering their investments), and 74 have had the distinction of being called hits. This includes seven blockbusters and 13 super hits, notably Sholay, the all-time highest-grosser of Indian cinema.
  2. Abhimanyu Mathur. "Bollywood's most successful actor has more hits than Shah Rukh, Salman, Amitabh, Aamir; was still never called superstar". DNA India (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2025-02-20. Retrieved 2025-01-17.
  3. Sumit Joshi. Bollywood Through Ages (بزبان انگریزی). Best Book Reads. ISBN:978-1-311-67669-6.
  4. "Dharmendra, Bollywood's Dreamboat" (بزبان انگریزی). 8 Dec 2022. Archived from the original on 2023-01-26. Retrieved 2024-10-09.
  5. "Rewind - Sixty Years Of Dharmendra". Box Office India (بزبان انگریزی). 24 Nov 2020. Archived from the original on 2023-07-12. Retrieved 2023-07-12.
  6. "All muscle, all heart: Dharmendra". Rediff (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2023-03-04. Retrieved 2023-08-12.
  7. "Dharmendra Turns 88: From 'Anupama' To 'Sholay', 10 Films That Define His Timeless Legacy" (بزبان انگریزی). 8 Dec 2023. Archived from the original on 2024-03-18. Retrieved 2024-04-22.
  8. "Dharmendra (Filmography)" (بزبان انگریزی). Box Office India. Archived from the original on 2024-03-19. Retrieved 2024-03-19.
  9. "Review: Johnny Gaddaar is a delicious thriller" (بزبان انگریزی). CNN-IBN. 29 Sep 2007. Archived from the original on 2009-04-15.
  10. "Rocky Aur Rani Ki Prem Kahaani Emerges HIT Due to Overseas". Box Office India (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2023-08-24. Retrieved 2023-08-24.
  11. "Padma Awards" (بزبان انگریزی). pib. 27 Jan 2013. Archived from the original on 2013-05-24. Retrieved 2015-08-16.
  12. ^ ا ب "Affidavit - Dharmendra Kewal Krishan Deol". ceorajasthan.nic.in (بزبان ہندی). Archived from the original on 2014-10-15. Retrieved 2023-08-15.
  13. Khushwant Singh (18 Nov 2013). "Dharmendra unplugged". ہندوستان ٹائمز (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-10-12.
  14. "Dharmendra talks about his mother Satwant Kaur: She wanted me to learn how to manage money". The Tribune (بزبان انگریزی). 21 Jan 2020. Archived from the original on 2024-01-27. Retrieved 2023-08-15.
  15. "Dharmendra pained to see Punjabi girls hitting the bottle". Times of India (بزبان انگریزی). 11 Nov 2013. Bollywood superstar Dharmendra said as a Punjabi he is pained to hear that even girls in the state are now hitting the bottle.
  16. ^ ا ب Archita Kashyap (27 Jun 2015). "I am a farmer's son: Dharmendra". دی ہندو (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2019-11-03. Retrieved 2019-11-03. I am a Jat. Jats love their land and their farms. I spend most of my time in my farmhouse at Lonavla these days.
  17. "Dharmendra nostalgic on visiting Dangon". Ludhiana Tribune (بزبان انگریزی). 6 Nov 2013. Archived from the original on 2016-03-04. Retrieved 2015-08-15.
  18. Vimal Sumbly (2 May 2004). "From Ludhiana to Bikaner in support of Dharmendra". Ludhiana Tribune (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2016-03-03. Retrieved 2015-08-16.
  19. "Affidavit". Chief Electoral Officer, Rajasthan (بزبان ہندی). Archived from the original on 2016-03-04. Retrieved 2015-08-16.
  20. Deepa Gahlot (24 Nov 2025). "The rugged and tender charms of movie legend Dharmendra (1935–2025)". Scroll.in (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-11-24.
  21. وندنا (24 نومبر 2025)۔ "دھرمیندر کی وفات: انڈین سینیما کے 'ہیمین' جن کے مداحوں میں نواز شریف بھی شامل"۔ بی بی سی اردو۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-24