دھرم سنکٹ میں (فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دھرم سنکٹ میں
ہدایت کارفواد خان
پروڈیوسرویاکوم 18 موشن پکچرز
سجاد چوناوالا
شارق پٹیل
تحریرڈیوڈ بیڈیل
ستارےپریش راول
نصیر الدین شاہ
انو کپور
موسیقیمیٹ بروز انجان
جتیندر شاہ
سچن گپتا
سنیماگرافیانوشمن مہالے
ایڈیٹراپروا اسرانی
پروڈکشن
کمپنی
ٹریگنو میڈیا
تاریخ نمائش
  • 10 اپریل 2015ء (2015ء-04-10)
دورانیہ
129 منٹ
ملکبھارت
زبانہندی

دھرم سنکٹ میں (یعنی ’مذہب مشکلات میں‘) 2015ء میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی ایک بھارتی مزاحیہ فلم ہے۔ فلم کی ہدایات فواد خان نے دی تھیں، جبکہ اسے سجاد چوناوالا اور شارق پٹیل نے ویاکوم 18 موشن پکچرز اور ٹریگنو میڈیا کے پرچم تلے تیار کیا تھا۔ فلم کے مرکزی کرداروں میں پریش راول، انو کپور اور نصیر الدین شاہ شامل ہیں۔ یہ ایک ایسے عام سے ہندو شخص کی کہانی ہے جسے ایک دن پتا چلتا ہے کہ اس کے والدین مسلمان تھے اور اسے اپنے اصل والد سے ملنے کے لیے مسلمان ہونا یا مسلمانوں جیسا بننا پڑے گا۔ فلم کے آغاز میں اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ 2010ء کی برطانوی فلم دی انفائڈل کا چربہ ہے جس میں مرکزی کردار مزاحیہ اداکار اومید جلیلی نے ادا کیا تھا۔ ’دھرم سنکٹ میں‘ 10 اپریل 2015ء کو نمائش کے لیے پیش ہوئی اور ناقدین کی جانب سے ملے جلے تبصرے دیکھنے میں آئے۔[1][2][3]

کہانی[ترمیم]

دھرم پال (پریش راول) ہندو گھرانے سے تعلق رکھنے والا ایک غیر مذہبی شخص ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں اس کے خیالات خاصے روایتی ہیں۔ وہ اپنے دن کا آغاز پنجابی سکھ پاپ گلوکار منجیت منچلا (گپی گریوال) کے گانوں سے کرتا ہے جو اب گلوکاری چھوڑ کر پراسرار طور پر منظرنامے سے غائب ہے۔ دھرم پال کے علاقے میں ایک مسلمان وکیل نواب محمود ناظم علی شاہ خان بہادر (انو کپور) بھی رہتا ہے اور دونوں کی اکثر نوک جھوک ہوتی رہتی ہے۔ ایک دن وہ اپنی مرحوم ماں کی بینک تجوری دیکھنے جاتا ہے تو اسے وہاں کچھ کاغذات ملتے ہیں جن کے مطابق اسے 1960ء میں گود لیا گیا تھا اور اس کے اصل ماں باپ مسلمان تھے۔ مسلمانوں کو ناپسند کرنے کے باعث اس کے لیے یہ اطلاع کسی صدمے سے کم نہیں ہوتی۔ وہ یہ خبر راز رکھنے کا فیصلہ تو کرتا ہے، لیکن پریشانی میں ایک دن یہ سارا ماجرا نواب محمود کے گوش گزار کردیتا ہے اور اپنے اصل والدین سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ نواب اپنے ذرائع سے معلوم کرکے بتاتا ہے کہ اس کی ماں کا انتقال ہوچکا ہے اور اس کا باپ اب خاصا بیمار ہے۔ وہ اپنے باپ سے ملنے پہنچتا ہے تو اس کے باپ کی دیکھ بھال کرنے والے امام صاحب اسے کہتے ہیں کہ تمھارے والد زندگی کے آخری لمحات میں اگر تمھیں ایک ہندو کے روپ میں دیکھیں گے تو انھیں بے حد افسوس ہوگا لہٰذا تم مسلمان بنو۔ چنانچہ، دھرم پال مسلمانوں جیسے طور اطوار سیکھنے کے لیے نواب کی مدد لیتا ہے۔

دوسری طرف دھرم پال کا بیٹا شردھا نامی لڑکی سے پیار کرتا ہے جس کا باپ ایک مذہبی رہنما نیلانند (نصیر الدین شاہ) کا بہت عقیدت مند ہے اور شردھا چاہتی ہے کہ دھرم پال بھی مذہبی ہو جائے تاکہ اس کا والد اس رشتے کے لیے تیار ہو جائے۔ لیکن حالات کچھ ایسا پلٹا کھاتے ہیں کہ ایک دن دھرم پال ایک ہجوم کے سامنے اعتراف کرلیتا ہے کہ وہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوا ہے۔ نتیجتاً اس کا خاندان اسے چھوڑ جاتا ہے۔

تب دھرم پال اپنے دوست نواب کے ساتھ مل کر نہ صرف اپنے باپ سے ملاقات کے قانونی حق کے لیے جنگ لڑتا ہے، بلکہ وہ یہ بھی پتا چلاتا ہے کہ نیلانند بابا دراصل وہی گمشدہ پنجابی گلوکار منجیت منچلا ہے، چنانچہ وہ اس کی حقیقت کا پردہ بھی چاک کرتا ہے۔ یوں کہانی اچھے اختتام کی طرف بڑھتی ہے۔

اداکار[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Dharam Sankat Mein (2015)". بالی وڈ ہنگامہ. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2015. 
  2. "Naseeruddin Shah, Paresh Rawal, Annu Kapoor and 'Dharam Sankat Mein'". دی انڈین ایکسپریس. 19 مارچ 2014. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2015. 
  3. "Dharam Sankat Mein". 

بیرونی روابط[ترمیم]